سندھ بلڈنگ حیدر آباد میں کرپشن پرموشن کا چرچا
شیئر کریں
بسم اللہ ایکسٹینشن میں غیر قانونی تعمیرات، رہائشی علاقوں میں کثیر المنزلہ عمارتیں
غیر قانونی فلورز کی تعمیر ، افسران کی چشم پوشی پر شہری سراپا احتجاج، فوری تحقیقات کا مطالبہ
حیدرآباد کے علاقے بسم اللہ ایکسٹینشن میں مبینہ غیر قانونی تعمیرات اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں کرپشن کے الزامات نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے ۔ شہریوں اور سماجی حلقوں کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ رہائشی پلاٹس پر قواعد و ضوابط کے برعکس کثیر المنزلہ عمارتیں تعمیر کی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔دوسری طرف محکمے میں کرپشن پروموشن کے چرچے نے کرپٹ حلقوں کو جھنجھلا رکھا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر سے ڈپٹی ڈائریکٹر بنائے جانے والے اورنگ زیب رضی کا ذکر حیدرآباد میں جاری تعمیراتی لاقانونیت ہر مثال میں سامنے آتا ہے۔جنہیں کرپشن پر ملنے والی پروموشن کے طور پر بھی بیان کیا جارہا ہے۔ ذرائع کے مطابق سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے بعض افسران کی مبینہ سرپرستی میں رہائشی علاقوں کو کمرشل سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے ، جس کے باعث نہ صرف ٹریفک، پارکنگ اور سیوریج جیسے مسائل شدت اختیار کر گئے ہیں بلکہ شہری انفراسٹرکچر بھی شدید دباؤ کا شکار ہو چکا ہے ۔شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ متعدد عمارتوں میں منظور شدہ نقشوں سے ہٹ کر اضافی فلورز تعمیر کیے گئے ، جبکہ پارکنگ، حفاظتی راستوں اور دیگر لازمی سہولیات کو بھی نظر انداز کیا گیا۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو کسی بھی وقت بڑا حادثہ رونما ہو سکتا ہے ۔ دوسری جانب سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں مبینہ کرپشن کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بعض افسران کو مبینہ طور پر غیر قانونی تعمیرات کی سرپرستی کے باوجود اہم عہدوں پر تعینات کیا جا رہا ہے ، جس پر شہری حلقوں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔علاقہ مکینوں، سماجی تنظیموں اور شہری نمائندوں نے وزیرِ بلدیات سندھ، ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، کمشنر حیدرآباد اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ بسم اللہ ایکسٹینشن سمیت شہر بھر میں جاری غیر قانونی تعمیرات کی شفاف انکوائری کرائی جائے اور ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے ۔


