میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
وقت کی کمی کے باعث زیرِ بحث نہ آنے والے سوالات کو پڑھا ہوا تصور کیا جائے

وقت کی کمی کے باعث زیرِ بحث نہ آنے والے سوالات کو پڑھا ہوا تصور کیا جائے

جرات ڈیسک
جمعه, ۲۳ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے ایوان میں سوالات کی کارروائی کو موثر اور بروقت مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے تجویز دی ہے کہ وقت کی کمی کے باعث زیرِ بحث نہ آنے والے سوالات کو پڑھا ہوا تصور کیا جائے تاکہ اگلے روز کے سوالات کی کارروائی متاثر نہ ہو۔جمعہ کو سینٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک سوال پر پانچ ضمنی سوالات کیے جانے کے بعد اسے کمیٹی کو بھیج دیا جاتا ہے جس کے باعث دیگر سوالات پر بحث کے لیے وقت محدود رہ جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایجنڈے میں 25 سوالات شامل ہوں تو ان میں سے صرف چھ سوالات پر بحث ہو پاتی ہے اور ان پر بحث کے بعد انہیں کمیٹی کے سپرد کر دیا جاتا ہے جبکہ باقی سوالات زیرِ التوا رہ جاتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اس صورتحال میں یا تو سوالات پر ایوان میں بحث مکمل کی جائے یا انہیں کمیٹی کو بھیجا جائے، تاہم باقی سوالات کو اگلے روز منتقل کرنے سے آئندہ روز کی کارروائی بھی متاثر ہوگی۔

انہوں نے تجویز دی کہ باقی ماندہ سوالات کو پڑھا ہوا تصور کیا جائے تاکہ ایوان کا وقت بچایا جا سکے اور سوالات کی کارروائی کو موثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں