سندھ بلڈنگ رہائشی اراضی پر کمرشل تعمیرات، انتظامیہ خاموش
شیئر کریں
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 2Xاور 5Tپر خلافِ ضابطہ تعمیرات
متعلقہ حکام خاموش تماشائی مکینوں کی ڈائریکٹر جنرل سے فوری مداخلت کی اپیل
………….
پی ای سی ایچ ایس میں رہائشی اراضی پر مبینہ خلافِ ضابطہ کمرشل تعمیرات کا سلسلہ تھمنے کے بجائے تیزی سے جاری ہے۔
بلاک 2 کے پلاٹ نمبر 2X اور 5T پر زیرِ تعمیر عمارتیں تکمیل کے آخری مراحل میں پہنچ چکی ہیں، جبکہ علاقہ مکین سوال اٹھا رہے ہیں کہ متعلقہ انتظامیہ کی آنکھوں کے سامنے یہ سب کچھ کیسے ہوتا رہا اور کسی نے قانون پر عمل درآمد کیوں نہیں کرایا۔
مکینوں کا الزام ہے کہ رہائشی پلاٹوں پر کمرشل نوعیت کے یونٹس قائم کیے جا رہے ہیں، جس سے نہ صرف بلڈنگ قوانین اور رہائشی اسٹیٹس کی خلاف ورزی ہو رہی ہے بلکہ پورا علاقہ تجارتی سرگرمیوں کی لپیٹ میں آتا جا رہا ہے۔
شہریوں کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو پی ای سی ایچ ایس کی رہائشی شناخت محض کاغذوں تک محدود رہ جائے گی۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ مبینہ غیرقانونی تعمیرات کے باعث ٹریفک، پارکنگ، شور، آلودگی اور سیکیورٹی جیسے مسائل میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ، مگر ذمہ دار اداروں کی خاموشی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔
ان کا مؤقف ہے کہ اگر ضابطوں پر بروقت عمل درآمد ہوتا تو تعمیرات اس مرحلے تک نہ پہنچتیں۔ شہریوں نے ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی وسیم شمشاد سے مطالبہ کیا ہے کہ بلاک 2 کے پلاٹ نمبر 2X اور 5T پر ہونے والی مبینہ خلافِ ضابطہ تعمیرات کا فوری نوٹس لیا جائے، حقائق کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں،
ذمہ داروں کے خلاف بلاامتیاز کاروائی کی جائے اور رہائشی اراضی کو کمرشل مقاصد کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
مکینوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری کاروائی نہ کی گئی تو رہائشی علاقوں میں مبینہ غیرقانونی کمرشلائزیشن کا رجحان مزید بڑھے گا، جس سے شہری منصوبہ بندی، بنیادی سہولیات اور قانون کی عملداری پر عوام کا اعتماد مزید مجروح ہوگا۔


