میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
جناب،بادشاہ سلامت!!

جناب،بادشاہ سلامت!!

ویب ڈیسک
هفته, ۲۰ جون ۲۰۲۶

شیئر کریں

بے لگام / ستار چوہدری

چلیں، اب ذرا شورکم ہوگیا ہے !ایران،امریکا امن معاہدے پر دستخط ہوگئے ،دنیا بھرمیں پاکستان سرخرو ہوگیا،اس سے پہلے ہم بھارت کو دھول چٹا کر بھی پوری دنیا میں اپنی طاقت کا سکہ جما چکے ، فتح کے ترانے بھی بج گئے ، پریس کانفرنسیں بھی ہوگئیں، ٹی وی اسکرینوں پرقومی غیرت بھی کئی مرتبہ ثابت ہو چکی، گلگت بلتستان میں پیپلزپارٹی کو مطلوبہ سیٹیں بھی مل گئیں ،استحکام پارٹی کو بھی کوئی سیٹ جیتے بغیر پانچ،چھ سیٹیں مل گئیں۔آزاد کشمیرکے ” ملک دشمنوں ” کو بھی ٹھکانے لگادیا گیا،بجٹ بھی مکمل ہوگئے ۔ہانیہ کا ” قتل ” بھی دب گیا۔ اب اگرفرصت ہوتواس عوام کو بھی دیکھ لیں جن کے نام پریہ سارا تماشا ہوتا ہے ؟ ان لوگوں کو بھی دیکھ لیں ،جنہیں ہرتقریر میں ” ریاست کی طاقت ” کہا جاتا ہے ۔
عزت مآب،قابل قدر،قابل احترام بادشاہ سلامت صاحب !! فرصت کے کچھ چند لمحات نکال کر بازاروں میں بھی جا کردیکھ لیں۔ سبزی والا پریشان، دکاندار پریشان، مزدور پریشان، رکشہ چلانے والا پریشان، سرکاری ملازم پریشان اور پنشنر پریشان ہے ، یوں لگ رہا ہے جیسے پورا ملک ایک لمبی قطارمیں کھڑا ہے اورہرشخص اپنی باری کا انتظار کررہا ہے کہ شاید آج اسے جینے کی اجازت مل جائے ،جبکہ آپ سرکار کے اعداد و شمار کہتے ہیں معیشت سنبھل رہی ہے ، عوام کے خالی برتن کہتے ہیں کہ ابھی نہیں سنبھلی۔آپ کہتے ہیں ترقی آ رہی ہے ، عوام پوچھ رہے ہیں، جناب!! کس گلی سے آ رہی ہے ؟ ہمارے محلے تک تو ابھی نہیں پہنچی، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ اعداد و شمار کبھی بھوکے نہیں سوتے ، بھوکا ہمیشہ انسان سوتا ہے ۔
مسئلہ صرف مہنگائی کا نہیں، مہنگائی تو دراصل اس بیماری کی ایک علامت ہے جس نے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ، اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس ملک میں غریب آدمی کی تکلیف اب خبر نہیں رہی،ایک زمانہ تھا، آٹے کی قیمت بڑھتی تھی تو اسمبلیوں میں شورمچ جاتا تھا، کسی شہرمیں فاقے کی خبر آتی تھی تو حکمرانوں کی نیند اڑجاتی تھی،آج حالات یہ ہیں کہ لاکھوں لوگ غربت کی لکیر کے نیچے چلے جائیں تو یہ صرف ایک رپورٹ بن کر رہ جاتی ہے ۔ ”بارہ کروڑ لوگ ”۔یہ صرف ایک عدد نہیں، یہ بارہ کروڑ زندگیاں ہیں، بارہ کروڑ خواب ہیں، بارہ کروڑ ایسے چہرے ہیں جنہوں نے شاید برسوں سے اپنے بچوں کے لیے دل کھول کر خریداری نہیں کی، جنہوں نے بیماری کی صورت میں دوا سے پہلے دعا کو ترجیح دینا سیکھ لیا ہے ، جنہوں نے خواہشات کو ضروریات سے الگ کرکے دفن کرنا سیکھ لیا ہے ، کہتے ہیں ملک میں غربت ۔ پچاس فیصد تک پہنچ گئی ہے ، یعنی ہر دو افراد میں سے ایک شخص معاشی خوف کے سائے میں زندہ ہے ،وہ صبح اٹھتا ہے تو اسے سیاست سے زیادہ فکر آٹے کی ہوتی ہے ، عالمی تعلقات سے زیادہ فکر بجلی کے بل کی ہوتی ہے ، اور قومی بیانیوں سے زیادہ فکر بچوں کے اسکول کی فیس کی ہوتی ہے ۔ لیکن ہمارے مباحث دیکھیے ، ٹی وی کھولیں تو اقتدار کے کھیل چل رہے ہیں، سوشل میڈیا کھولیں تو کردار کشی کے میلے لگے ہیں، اخبار دیکھیں تو بیانات کی جنگ جاری ہے ۔ اوراس پورے ہنگامے میں وہ شخص کہیں گم ہو گیا ہے جو دو وقت کی روٹی کے لیے اپنی زندگی کا ہر دن نیلام کر رہاہے ، مگر ایک سوال اپنی جگہ قائم ہے ، اگر ریاست کے آدھے شہری غربت، بے یقینی اور بھوک کے شکنجے میں جکڑے ہوں تو پھر ترقی کے جشن آخر کس کے لیے منائے جا رہے ہیں؟
مجھے کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے ملک کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے ، ایک وہ پاکستان ہے جو رپورٹس میں رہتا ہے ، اورایک وہ پاکستان ہے جو حقیقت میں سانس لیتا ہے ، رپورٹس والا پاکستان ترقی کررہا ہے ، سرمایہ کاری آ رہی ہے ، اشاریے بہترہو رہے ہیں، استحکام بڑھ رہا ہے ، اعتماد بحال ہو رہا ہے ، مگرحقیقت والا پاکستان کسی اورکہانی کا نام ہے ، وہاں ایک باپ اپنے بچے کی دوا اور گھر کے راشن میں سے کسی ایک کا انتخاب کر رہا ہے ، وہاں ایک ماں چولہے پر ہانڈی رکھنے سے پہلے یہ حساب لگاتی ہے کہ آج کھانا پکے گا یا کل کے لیے بچا لیا جائے ، وہاں ایک نوجوان ڈگری ہاتھ میں لیے در،در نوکری ڈھونڈ رہا ہے اورہرجگہ اسے تجربے ، سفارش یا قسمت کی کمی کا طعنہ سننے کو ملتا ہے ، وہاں ایک بوڑھا پنشنر مہینے کے آخری دنوں میں دوائیوں کی پرچیاں دیکھ کر سوچتا ہے کہ بیماری پہلے ختم ہوگی یا جیب میں پڑے آخری نوٹ۔ یہ وہ پاکستان ہے جو کسی پریس ریلیز میں نظرنہیں آتا، اس کے آنسوؤں کا کوئی گراف نہیں بنتا، اس کی بھوک کا کوئی اشاریہ ٹی وی اسکرین پر سرخ پٹی کی صورت نہیں چلتا، اور سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے اس صورتحال کو معمول سمجھنا شروع کر دیا ہے ، جس معاشرے میں لاکھوں لوگ بھوک کے قریب پہنچ جائیں، وہاں خطرے کی گھنٹیاں بجنی چاہئیں، مگر یہاں تو عجیب خاموشی ہے ، جیسے کسی نے اجتماعی طورپرفیصلہ کرلیا ہو کہ عوام کا دکھ ایک مستقل حقیقت ہے ، اس پر حیران ہونے کی ضرورت نہیں، حالانکہ ریاستوں کا اصل امتحان جنگوں میں نہیں ہوتا، ریاستوں کا اصل امتحان یہ ہوتا ہے کہ ان کے عام شہری کتنے محفوظ، کتنے باعزت اور کتنے مطمئن ہیں، کیونکہ تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ بھوکا آدمی زیادہ دیر تک نعروں پر زندہ نہیں رہ سکتا، وہ ایک دن سوال پوچھتا ہے ، اور جب کروڑوں لوگ ایک ساتھ سوال پوچھنا شروع کردیں تو پھر ایوانوں کی مضبوط دیواریں بھی جواب دینے پرمجبورہوجاتی ہیں۔لہٰذا، اب اگرواقعی تمام اہم کام نمٹ گئے ہیں، اگر عالمی محاذوں پرکامیابیاں حاصل ہو چکی ہیں، اگر سیاسی معرکے سرہوگئے ہیں، اگراقتدار کے حساب کتاب درست ہو گئے ہیں، تو پھر ذرا اس ملک کے اصل مالکوں کی طرف بھی نظرکر لیجیے ،اس آدمی کی طرف جو صبح اندھیرے میں گھرسے نکلتا ہے اور شام کو تھکن نہیں، شکست اٹھا کر واپس آتا ہے ،اس عورت کی طرف جو خالی برتنوں کی آواز بچوں تک پہنچنے نہیں دیتی،اس نوجوان کی طرف جو ڈگریوں کے انبار پر بیٹھا مستقبل تلاش کر رہا ہے ۔اوران کروڑوں بچوں کی طرف جو اس ملک کا کل ہیں مگر آج ہی محرومی کے اندھیروں میں گم ہوتے جا رہے ہیں، کیونکہ قومیں صرف سرحدوں سے نہیں بنتیں، انسانوں سے بنتی ہیں۔
یاد رکھیے ، بھوک صرف پیٹ کا مسئلہ نہیں ہوتی، بھوک امید کو کھا جاتی ہے ، اعتماد کو چاٹ جاتی ہے ۔اور آہستہ آہستہ قوموں کے اندر جینے کی خواہش تک کمزور کر دیتی ہے ۔ اس لیے اب وقت آ گیا ہے کہ عوام کو صرف تقریروں کا موضوع نہیں، فیصلوں کا مرکز بنایا جائے ، کیونکہ بارہ کروڑ بھوکے لوگوں کے سامنے ترقی کے اعداد و شمار زیادہ دیر تک کھڑے نہیں رہ سکتے ۔ اور تاریخ کا ایک بے رحم اصول ہے ، جب حکمران عوام کے مسائل کو نظرانداز کرنے لگتے ہیں تو مسائل ختم نہیں ہوتے ، خاموشی سے بڑے ہوتے رہتے ہیں، پھر ایک دن وہ دروازہ کھٹکھٹاتے نہیں، دروازہ توڑکراندرآ جاتے ہیں۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں