میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
بھارت ،دسہرہ کی تقریب، تیز رفتار ٹرینوں کی زد میں آکر 61 افراد ہلاک

بھارت ،دسہرہ کی تقریب، تیز رفتار ٹرینوں کی زد میں آکر 61 افراد ہلاک

ویب ڈیسک
جمعه, ۱۹ اکتوبر ۲۰۱۸

شیئر کریں

بھارتی شہر امرتسر میں ریلوے ٹریک پر دسہرہ کی تقریب منانے والے سیکڑوں افراد مخالف سمت سے آنے والی 2 ٹرینوں کی زد میں آگئے ، جس کے نتیجے میں 61 افراد موقع پر ہی جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہوگئے ۔بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق حادثے کے وقت سیکڑوں افراد ریلوے ٹریک کے قریب دسہرہ کے جشن میں شریک تھے اور راون کے پُتلے کو جلتا ہوا دیکھ رہے تھے کہ لوکل ٹرین نے ریلوے لائن پر کھڑے افراد کو کچل دیا۔حادثہ امرتسر اور ماناوالا کے درمیان 27 نمبر جودھا ریلوے پھاٹک پر ہوا۔ادھر این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریلوے حکام کا کہنا تھا کہ مخالف سمت سے 2 ٹرینیں ایک ہی وقت میں آنے کی وجہ سے لوگوں کو بھاگ کر جان بچانے کا موقع نہیں مل سکا۔امرتسر پولیس کمشنر شری واستو نے بتایا کہ حادثے میں 61 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں، ہم لوگوں کو نکال رہے ہیں اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کردیا گیا۔انڈو ایشین نیوز سروس کے مطابق عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ جائے حادثہ پر 700 سے زائد افراد موجود تھے جن میں سے تقریباً 60 افراد ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔


مزید خبریں

دمشق: بشار الاسد کی شامی حکومت کے ڈرامائی زوال نے ان کی حکومت کے تاریک پہلوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے، جن میں ممنوعہ منشیات کیپٹاگون کی صنعتی سطح پر برآمد شامل ہے۔  زرائع کے مطابق اپوزیشن فورسز نے ان اڈوں اور تقسیم کے مراکز پر قبضہ کر لیا ہے جہاں یہ نشہ آور گولیاں تیار کی جاتی تھیں اور پورے مشرق وسطیٰ میں بلیک مارکیٹ میں فروخت کی جاتی تھیں۔ ہیئت تحریر الشام کے زیر قیادت ان جنگجوؤں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے منشیات کی ایک بڑی کھیپ قبضے میں لے لی ہے اور اسے تباہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔  ایچ ٹی ایس کے جنگجوؤں نے اے ایف پی کے صحافیوں کو دمشق کے مضافات میں ایک کوئلے کے گودام تک رسائی دی، جہاں کیپٹاگون گولیوں کو برقی آلات کے پرزوں کے اندر چھپا کر برآمد کیا جا رہا تھا۔  گودام کے نیچے موجود ایک بڑے گیراج میں، ہزاروں کی تعداد میں مٹیالے رنگ کی کیپٹاگون گولیاں نئی گھریلو وولٹیج اسٹیبلائزرز کی تانبے کی کوائلز میں چھپائی گئی تھیں۔  ابو مالک الشامی نامی ایک نقاب پوش جنگجو نے کہا،

دمشق: بشار الاسد کی شامی حکومت کے ڈرامائی زوال نے ان کی حکومت کے تاریک پہلوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے، جن میں ممنوعہ منشیات کیپٹاگون کی صنعتی سطح پر برآمد شامل ہے۔ زرائع کے مطابق اپوزیشن فورسز نے ان اڈوں اور تقسیم کے مراکز پر قبضہ کر لیا ہے جہاں یہ نشہ آور گولیاں تیار کی جاتی تھیں اور پورے مشرق وسطیٰ میں بلیک مارکیٹ میں فروخت کی جاتی تھیں۔ ہیئت تحریر الشام کے زیر قیادت ان جنگجوؤں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے منشیات کی ایک بڑی کھیپ قبضے میں لے لی ہے اور اسے تباہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ایچ ٹی ایس کے جنگجوؤں نے اے ایف پی کے صحافیوں کو دمشق کے مضافات میں ایک کوئلے کے گودام تک رسائی دی، جہاں کیپٹاگون گولیوں کو برقی آلات کے پرزوں کے اندر چھپا کر برآمد کیا جا رہا تھا۔ گودام کے نیچے موجود ایک بڑے گیراج میں، ہزاروں کی تعداد میں مٹیالے رنگ کی کیپٹاگون گولیاں نئی گھریلو وولٹیج اسٹیبلائزرز کی تانبے کی کوائلز میں چھپائی گئی تھیں۔ ابو مالک الشامی نامی ایک نقاب پوش جنگجو نے کہا، "جب ہم نے گودام میں داخل ہو کر تلاشی لی، تو ہمیں پتہ چلا کہ یہ فیکٹری ماہر الاسد اور اس کے ساتھی عامر خیتی کی ہے۔" ماہر الاسد سابق صدر بشار الاسد کا بھائی تھا، اب مفرور سمجھا جا رہا ہے۔ اس پر منشیات کی منافع بخش تجارت کے پیچھے ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام ہے۔ شامی سیاستدان عامر خیتی پر 2023 میں برطانوی حکومت نے پابندیاں عائد کی تھیں۔ 

Author One
جمعه, ۱۳ دسمبر ۲۰۲۴

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں