میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
بھٹوزندہ ہے توسندھ کیوں ڈوباہواہے ؟سندھ ایکشن کمیٹی

بھٹوزندہ ہے توسندھ کیوں ڈوباہواہے ؟سندھ ایکشن کمیٹی

ویب ڈیسک
اتوار, ۱۶ اکتوبر ۲۰۲۲

شیئر کریں

سندھ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے سندھ حکومت کی برطرفی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان حالیہ سیلاب کا از خود نوٹس لے اور جان بوجھ کر سندھ کو ڈبونے والے ذمہ داروں کا تعین کر کے ان کو سخت سزا دی جائے،2008سے 2022 تک سندھ پر حکمرانی کرنے والی پیپلزپارٹی کی کرپٹ قیادت کا بے رحمانہ احتساب کیاجائے،سیلاب متاثرین کو مناسب گھروں، صحت کی سہولیات، آمدنی کے ذرائع اور تعلیم کی فراہمی کی ساتھ بحالی کیا جائے،اگرہمارت مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو احتجاج کا دائرہ وسیع کریں گے۔ان خیالات کا اظہار سید جلال محمود شاہ، زین شاہ،،ایاز لطیف پیلیجو,صفدر عباسی ودیگر نے اتوارکوسندھ ایکشن کمیٹی کے زیراہتمام فوارہ چوک سے کراچی پریس تک نکالی گئی احتجاجی ریلی کے شرکائ￿ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ریلی سے سندھ کی قوم پرست جماعتوں کے سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔قبل ازیں سندھ ایکشن کمیٹی کے تحت فوارہ چوک سے کراچی پریس کلب تک ریلی نکالی گئی جس میں سندھ یونائیٹڈ پارٹی،سندھ ترقی پسند پارٹی،قومی عوامی تحریک جئے سندھ محاذ، جیئے سندھ قومی محاز، پوریت مذاہمت تحریک، جی ڈی اے اوردیگرمختلف پارٹیوں کے کارکنان نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور لاکھوں سیلاب متاثرین کی بحالی اور سندھ اور وفاقی حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔مظاہرین کے اپنے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر سیلاب متاثرین کی بحالی اور وفاقی و سندھ حکومت کے خلاف نعرے درج تھے۔ریلی کراچی پریس کلب پرجلسہ عام کی شکل اختیارکرگئی۔ اس موقع پرخطاب کرتے ہوئے سندھ ایکشن کمیٹی کے کنوینرسید جلال محمود شاہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی نااہلی اور کرپشن نے سندھ کو ڈبو دیا ہے۔سندھ کے عوام کو جاگنا ہو گا۔پیپلز پارٹی نے جعلی مینڈیٹ کے ذریعے سندھ پر قبضہ کیا ہے۔سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے صدر سید زین شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی لاکھوں ایکڑ اراضی پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ نکاسی کو کوئی انتظام ہو نہیں ہے۔ زرداری جب کرپشن میں پھنس جاتا ہے تو اس کو این آر او دیا جاتا ہے۔ زرداری نے ملک کا بیڑا غرق کر دیا یے۔پیپلز پارٹی کے وزراء سیلاب متاثرین کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ سندھ کے لوگوں کو پیپلز پارٹی نے دربدر کر دیا ہے۔ سید زین شاہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور زرداری بے ایمان ہیں۔ پیپلز پارٹی کی کرپٹ حکومت کو فوری ختم کی جائے۔انہوں نے کہا کہ سندھ کو سب سے بڑا خطرہ زرداری اور پیپلز پارٹی سے ہے۔ 14 سالوں سے پیپلز پارٹی سندھ پر قابض ہے۔ زرداری نے سندھ کے لوگوں کو بھیک مانگنے پر مجبور کر دیا ہے۔سید زین شاہ نے کہا کہ بلاول بھٹو ایک ناکام وزیر خارجہ ہے۔بلاول بھٹو کی سفارتکاری نے پاکستان کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔بلاول بھٹو نے ایسی ناکام سفارتکاری کی ہے کہ امریکہ کہنے پر مجبور ہوا کہ پاکستان خطرناک ملک ہے۔بلاول بھٹو کو فوری طور پر وزیر خارجہ کے عہدے سے ہٹایا جائے ورجہ ملک کو شدید نقصان ہو گا۔انہوں نے کہا کہ زرداری مافیا نے سندھ کو غلام بنایا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ جب ڈوب رہا تھا بلاول زرداری گھوم رہے تھے۔سندھ ڈوبا نہیں پیپلز پارٹی جان بوجھ کر سندھ کو ڈبویا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سیلاب متاثرین کو فوری طور پر گھر تعمیر کروا کر دئیے جائیں۔ سید زین شاہ نے مزید کہا کہ 174 قومی اسمبلی کے ممبران کو سالانہ ڈیولیپمنٹ فنڈ کے علاوہ جاری کئیے گئے 87 ارب کے فنڈز کو سندھ کے لئیے وقف کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ہم حکومت کو و ارننگ دیتے ہیں کہ سندھ کو برے حالات سے نکالا جائے ورنہ اس کا نتیجہ بہت برا ہو گا۔سید زین شاہ نے کہا کہ ہم اسٹیبلشمنٹ کو خبردار کرتے ہیں کہ جس طرح پیپلز پارٹی کو2013اور2018 کے انتخابات میں دھاندلی کر کے جتوایا گیا ہے یہ 2023 میں نہ دہرایا جائے۔اس موقع پر قومی عوامی تحریک کے صدر ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ پیپلز پارٹی والے سندھ کو ڈبو کر مال بنا رہے ہیں۔یہ دعا مانگ رہے ہیں کہ سندھ برباد ہو ڈوب جائے تاکہ ہم سندھ کے نام پر کرپشن کریں۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں