میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
رہائشی پلاٹس پر کمرشل عمارتیں مکمل، قواعد و ضوابط نظر انداز

رہائشی پلاٹس پر کمرشل عمارتیں مکمل، قواعد و ضوابط نظر انداز

جرات ڈیسک
جمعرات, ۱۶ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

پروجیکٹ تیار، پیسہ ہضم ،اورنگزیب رضی، جنید آرائیں ، کاشان پر شہریوں کے الزامات

نئے ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول وسیم شمشاد سے ادارے میں کرپشن کے خاتمے کا مطالبہ

…………

حیدرآباد کے علاقے لطیف آباد یونٹ نمبر 10میں رہائشی پلاٹس پر مبینہ طور پر کمرشل نوعیت کی بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر نے شہریوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ شہر کے ماسٹر پلان اور بلڈنگ قوانین کی مبینہ خلاف ورزی کرتے ہوئے متعدد منصوبے مکمل کیے جا رہے ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

شہریوں کا الزام ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کے ڈپٹی ڈائریکٹر اورنگزیب رضی، افسر جنید آرائیں اور کاشان نامی شخص، جو مبینہ طور پر خود کو انسپکٹر ظاہر کرتا ہے، ان تعمیراتی معاملات میں سرگرم کردار ادا کرتے رہے۔

تاہم ان الزامات پر متعلقہ افراد کا مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اگر متعلقہ افسران اپنی ذمہ داریاں دیانتداری سے انجام دیتے تو رہائشی پلاٹس پر اس نوعیت کی تعمیرات مکمل نہ ہو پاتیں۔

ان کے مطابق جب عمارتیں تقریباً تیار ہو چکی ہیں تو عوام میں یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ "پروجیکٹ تیار، کہانی ختم، پیسہ ہضم؟”شہریوں نے مزید الزام عائد کیا ہے کہ مبینہ غیرقانونی تعمیرات کے باعث ماسٹر پلان متاثر ہو رہا ہے، جبکہ ٹریفک، پارکنگ، سیوریج اور دیگر بنیادی شہری سہولیات بھی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر اس طرز عمل کو نہ روکا گیا تو مستقبل میں شہر کو سنگین شہری مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

شہریوں، سماجی رہنماؤں اور مختلف تنظیموں نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے نئے ڈائریکٹر جنرل وسیم شمشاد سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ادارے میں مبینہ کرپشن، غیرقانونی تعمیرات اور متعلقہ افسران کے خلاف سامنے آنے والے الزامات کی اعلیٰ سطحی، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر کسی افسر یا اہلکار کی غفلت یا بدعنوانی ثابت ہو تو بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے اور شہر بھر میں رہائشی پلاٹس پر قائم کمرشل تعمیرات کا ازسرنو آڈٹ کرایا جائے تاکہ قانون کی بالادستی اور عوام کا اعتماد بحال ہو سکے ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں