ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی
شیئر کریں
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ میں انتہائی ہولناک تیزی آ گئی ہے اور دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر اب تک کے سب سے بڑے حملے کیے ہیں۔
ٹرمپ کے دعوے کے مطابق امریکی فوج نے ایران کے خلاف کارروائی کا ایک نیا اور بہت بڑا مرحلہ شروع کیا ہے جس کے تحت پچھلے 3 دنوں میں مجموعی طور پر 400 سے زیادہ حملے کیے جا چکے ہیں۔امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اس کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ حملے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر شروع کیے گئے ہیں۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایرانی افواج کو دنیا کے سامنے جوابدہ ٹھہرانے کے لیے ان حملوں کا حکم دیا ہے تاکہ ایران کی طرف سے عام بحری جہازوں اور ملاحوں کو نشانہ بنانے کی طاقت کو کمزور کیا جا سکے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کا راستہ محفوظ بنایا جا سکے ۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے ایرانی فوجی سازوسامان کو شدید نقصان پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ان حملوں کے نتیجے میں ایران کے بیشتر عسکری آلات تباہ ہو چکے ہیں اور امریکی کارروائیوں میں فضائی دفاعی نظام کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ اب امریکہ آبنائے ہرمز کی نگرانی سنبھال سکتا ہے اور اس اہم بحری گزرگاہ کی حفاظت کے بدلے اسے بھاری مالی معاوضہ ملنا چاہیے، ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ہم آبنائے ہرمز کو محفوظ رکھیں گے اور ممکن ہے اسے ہم ہی چلائیں۔ ہم اس آبنائے کے نگہبان بن جائیں گے۔ ان کے بقول دیگر ممالک بہت خوش حال ہیں، وہ ہمارے ساتھ ہیں اور ہم سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ ہم یہ سب کچھ مفت میں کریں۔جب کہ ایران کے
عسکری ہیڈکوارٹر خاتم الانبیا نے صدر ٹرمپ کے بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز کے انتظام و انصرام میں کسی بھی قسم کی امریکی مداخلت کی اجازت نہیں دے گا۔
امریکہ کو اس اہم آبی گزرگاہ پر کنٹرول حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔یران کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دفاع میں یہ جوابی کارروائیاں جاری رکھے گا۔ایرانی میڈیا کے مطابق،تازہ امریکی حملوں کے بعد ایران کے اہم ساحلی شہر بندر عباس، جزیرہ قشم، سیرک اور جاسک میں انتہائی زور دار دھماکے سنے گئے۔
امریکی فوج نے پہلی بار اس جنگ میں لڑاکا طیاروں اور بحری جہازوں کے ساتھ ساتھ ہوا اور سمندر میں خود ہی جا کر پھٹنے والے خودکش ڈرون طیاروں کا استعمال بھی کیا ہے جن کی مدد سے ایران کے فوجی ریڈاروں، میزائلوں، اور چھوٹی جنگی کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران کے صوبے خوزستان کے ڈپٹی گورنر ولی اللہ حیاتی نے بتایا کہ امریکی فورسز نے ان کے صوبے کے8 مختلف مقامات پر رات کے اندھیرے میں بمباری کی۔ان کے مطابق ایران نے بھی ان امریکی حملوں کا انتہائی سخت جواب دیتے ہوئے خطے کے ممالک میں موجود امریکی اڈوں پر میزائلوں اور ڈرونز کی بارش کر دی ہے۔
ایران کی نیوز ایجنسی ‘نور’ کے مطابق، ایرانی فوج اور پاسدارانِ انقلاب نے خطے میں موجود دشمن کے اڈوں پر بڑے پیمانے پر حملے کیے ہیں۔ ایرانی
پاسدارانِ انقلاب نے اپنے الگ الگ بیانات میں دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اردن کے ‘پرنس حسن ائربیس’ پر میزائل داغ کر وہاں موجود امریکی تیل کے گوداموں اور بارود کے ذخائر کو آگ لگا دی ہے، جبکہ بحرین کے شیخ عیسیٰ ائربیس پر بھی حملہ کر کے امریکی فوج کے ہیلی کاپٹروں اور ڈرون کنٹرول روم کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ایران کے کویت پر حملے میں 3 امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں، امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر سمندری راستوں کو کھلا رکھیں گے اور ایران کے ایسے کسی بھی اقدام کا طاقت سے جواب دیں گے۔ دونوں طرف سے جاری اس شدید بمباری نے پورے علاقے کو ایک ہولناک جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
طویل المدتی امن معاہدے کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کے باوجود، ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ دنوں میں تشدد میں آنے والا اضافہ گزشتہ ماہ نافذ ہونے والی 60 روزہ جنگ بندی کے برقرار رہنے کے لیے نیک شگون نہیں ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ اور ایرانی حکومت، دونوں کے جنگ بندی پر رضامند ہونے کی ایک بڑی وجہ دونوں جانب جنگ سے شدید تھکاوٹ کا احساس تھا۔ مختلف وجوہات کی بنا پر دونوں فریق تنازع کے خاتمے کے خواہاں ہیں، لیکن اس کے باوجود جنگ جاری ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا فروری کے آخر میں تہران پر حملہ کرنے کا فیصلہ بظاہر اس مفروضے پر مبنی تھا کہ یہ جنگ نسبتاً مختصر مدت کی ہوگی اور بالآخر ایرانی حکومت کے خاتمے کا سبب بنے گی۔ تاہم جولائی تک تنازع کا جاری رہنا خاص طور پر معاشی لحاظ سیامریکہ کے لیے ایک بڑی مشکل بن گیا ہے، کیونکہ اس کے نتیجے میں توانائی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس صورتحال کا اثر آئندہ وسط مدتی انتخابات میں ووٹروں کے رویے پر پڑ سکتا ہے۔ ٹرمپ کی جنگ کو جلد ختم کرنے میں ناکامی نے بہت سے لوگوں کو یہ سوال اٹھانے پر مجبور کیا ہے کہ آیا وہ عالمی سلامتی کے خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں، حتیٰ کہ ان کی اپنی ریپبلکن پارٹی کے اندر بھی ایسے سوالات اٹھ رہے ہیں۔
ایران کے لیے بھی مزید جنگ صرف اس قیادت پر دباؤ میں اضافہ کرے گی جو فوجی نقصانات اٹھانے کے بعد اب ملک کی تباہ حال معیشت کی بحالی کی کوشش کر رہی ہے۔ اب اس بات کے بھی اشارے مل رہے ہیں کہ جنگ کے اندرونی سیاسی اثرات نے تہران میں موجود2 دھڑوں کے درمیان اختلافات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ ایک طرف نسبتاً اعتدال پسند سیاست دان ہیں جو مغرب کے ساتھ کشیدگی کم کرنا چاہتے ہیں، جبکہ دوسری طرف ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کے سخت گیر حامی ہیں جو نظریاتی طور پر کسی بھی معاہدے کے مخالف ہیں۔
دونوں فریقوں کے پاس جنگ بندی پر رضامند ہونے کی فوری وجوہات موجود تھیں۔ اسی لیے انہوں نے ایک 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے، جس میں مستقل امن معاہدے کے لیے ایک فریم ورک طے کیا گیا تھا۔ تاہم یہ انتظام ہمیشہ چیلنجز سے دوچار تھا، خاص طور پر ایرانی پاسداران انقلاب (IRGC) کی جانب سے، جو سمجھتے ہیں کہ خلیج میں کشیدگی برقرار رکھ کر وہ ٹرمپ پر سیاسی دباؤ بڑھا ر ہے ہیں۔ حالیہ فوجی کارروائیوں میں اضافہ، جس میں امریکہ کی جانب سے پاسداران انقلاب کے ٹھکانوں پر نئے حملوں کے بعد ایران کی جانب سے خلیجی ممالک کو نشانہ بنانا شامل ہے، اصل جنگ بندی معاہدے کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔اس ہفتے انقرہ میں ہونے والی نیٹو سربراہ کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے کہا تھا کہ جنگ بندی کا معاہدہ ختم ہو چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ایسا ہے؟ یا پھر یہ صرف اسی طرح کے جوابی حملوں کا ایک اور سلسلہ ہے جو گزشتہ ماہ جنگ بندی کے نفاذ کے بعد وقفے وقفے سے جاری رہے ہیں؟ دونوں جانب سے سامنے آنے والی سخت بیان بازی کو دیکھتے ہوئے یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ آنے والے ہفتوں میں مستقل امن معاہدے کی جانب کوئی پیش رفت ہو سکے گی، اگرچہ امریکی نمائندے رابطے کے راستے کھلے رکھنے کے خواہاں ہیں۔ٹرمپ بارہا کہہ چکے ہیں کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز سے آزادانہ آمدورفت کو کسی بھی معاہدے کے لیے سرخ لکیرسمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ایسا کوئی معاہدہ قبول نہیں کریں گے جس کے تحت تہران یورینیم افزودگی کا عمل جاری رکھ سکے، جسے ماہرین کے مطابق جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش قرار دیا جاتا ہے۔
ٹرمپ ایران کے اس دعوے کو بھی مسترد کرتے ہیں کہ آبنائے ہرمز پر اس کا کنٹرول ہے اور وہ تجارتی جہازوں سے وہاں سے گزرنے کے لیے ٹیکس یا فیس وصول کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ان اہداف کا حصول آسان نہیں ہوگا۔ ایران کے سخت گیر عناصر اپنی بڑھتی ہوئی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے حالیہ دنوں میں ملک کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے کے موقع پر ہونے والے ملک گیر اجتماعات سے فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے بڑے پیمانے پر سوگوار ہجوم جمع کر کے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا، ایرانی حکومت کا دعویٰ ہے کہ تقریباً 2 کروڑ افراد نے شرکت کی۔ ان اجتماعات میں واضح طور پر امریکہ مخالف اور ٹرمپ مخالف جذبات کا اظہار کیا گیا، جہاں کئی افراد نے امریکی صدر کے قتل کے مطالبے کیے جبکہ ایرانی مذاکرات کاروں کو غدار قرار دیا گیا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ ٹرمپ مخالف جذبات برقرار رہتے ہیں یا نہیں، لیکن یہ بات واضح ہے کہ جنازے کے جلوس میں جم غفیر کی شرکت اور والہانہ پن کے اظہار نے یقینی طور پر امریکی صدر پر اثر ڈالا ہے۔
اگرچہ گزشتہ روز ایک بیان میں ٹرمپ نے ایرانی رہنماؤں کو گھٹیا لوگ قرار دیا اور کہا کہ انہیں تہران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے میں زیادہ دلچسپی نہیں ہے۔ تاہم آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے بعد وائٹ ہاؤس کے پاس شاید اس کے علاوہ کوئی راستہ نہ رہے کہ وہ ایرانی حکومت کے ساتھ کسی نہ کسی شکل میں سفارتی رابطہ جاری رکھے۔اگر ٹرمپ ایران کے خلاف ایک نئی مکمل فوجی کارروائی شروع بھی کر دیں، تب بھی اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ وہ مطلوبہ نتائج حاصل کر سکیں گے، یعنی ایرانی مذہبی قیادت کو ان کے امن معاہدے کو قبول کرنے پر مجبور کر سکیں گے۔ اگرچہ ٹرمپ اور ان کے مشیروں کا دعویٰ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کی فوجی صلاحیت کا تقریباً 80 فیصد حصہ تباہ کر دیا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاسداران انقلاب اب بھی امریکی فوجی اہداف اور پڑوسی خلیجی ممالک کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی حکومت کی مزاحمت اور برداشت کی صلاحیت کو کم نہیں سمجھنا چاہیے۔
٭٭٭


