پیمراقوانین اور ٹی وی نشریات کا زوال
شیئر کریں
صحن چمن
۔۔۔۔۔۔۔
عطا محمد تبسم
ہمارا معاشرہ ہمیشہ سے مشرقی اقدار، حیا، وقار اور خاندانی روایات کا امین رہا ہے ۔ یہاں عورت کی اصل خوبصورتی اس کے لباس یا
ظاہری نمائش میں نہیں بلکہ اس کی شرم و حیا، متانت اور کردار میں سمجھی جاتی رہی ہے ۔ یہی وہ اقدار ہیں جنہوں نے صدیوں تک ہمارے
معاشرے کو ایک مضبوط اخلاقی بنیاد فراہم کی۔ مگر بدقسمتی سے حالیہ برسوں میں الیکٹرانک میڈیا، خصوصاً مارننگ شوز، اس روایت سے
بتدریج دور ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔
ایک وقت تھا جب مارننگ شوز خواتین کی رہنمائی، آگاہی اور تربیت کا ذریعہ ہوتے تھے ۔ ان پروگرامز میں صحت، بچوں کی تربیت،
تعلیم، گھریلو مسائل اور سماجی موضوعات پر سنجیدہ اور مفید گفتگو کی جاتی تھی۔ خواتین ان سے سیکھتی تھیں اور اپنے روزمرہ کے معاملات میں
بہتری لاتی تھیں۔ مگر آج یہی مارننگ شوز ریٹنگ(TRP)کی دوڑ میں اپنی اصل روح کھو بیٹھے ہیں۔ سنجیدہ موضوعات کی جگہ غیرضروری
گلیمر، ذاتی زندگی کی نمائش، اور بعض اوقات غیر اخلاقی گفتگو نے لے لی ہے ۔
یہ تبدیلی محض اتفاقیہ نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے تجارتی رجحان کا نتیجہ ہے ، جہاں ناظرین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے معیار کو قربان کر دیا
گیا ہے ۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اب کچھ پروگرامز ایسے مناظر اور گفتگو پیش کر رہے ہیں جو نہ صرف فیملی کے ساتھ دیکھنے کے قابل نہیں بلکہ
ہماری سماجی اقدار کے بھی منافی ہیں۔ حالیہ دنوں میں اداکارہ فضا علی کے ایک پروگرام میں پیش آنے والا واقعہ اس کی واضح مثال ہے ،
جس پر عوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا۔ ایسے میں سب سے اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پیمرا کہاں ہے ؟ وہ ادارہ جس کا قیام ہی اس
مقصد کے لیے عمل میں آیا تھا کہ میڈیا کو ایک اخلاقی اور ذمہ دار دائرے میں رکھا جائے ، آج بظاہر خاموش تماشائی دکھائی دیتا ہے ۔ جب
غیر معیاری اور غیر اخلاقی مواد کھلے عام نشر ہو رہا ہو اور اس پر کوئی موثر کارروائی نہ کی جائے تو یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ جیسے پیمرا اپنی بنیادی
ذمہ داریوں سے غافل ہو چکا ہے ۔
یہ تضاد اس وقت مزید نمایاں ہو جاتا ہے جب ایک طرف جیو نیوز کو بھارتی گلوکارہ آشا بھوسلے کی وفات کی خبر نشر کرتے ہوئے بھارتی
گانے چلانے پر نوٹس جاری کیا جاتا ہے ، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے ادارے کام تو کر رہے ہیں۔ لیکن ان کی ترجیحات کچھ اور
ہیں۔ جبکہ دوسری طرف مقامی چینلز پر نشر ہونے والے غیر اخلاقی مواد پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے ۔ آشا بھوسلے برصغیر کی ایک عظیم فنکارہ
تھیں، جنہوں نے نہ صرف بھارتی بلکہ پاکستانی شعراء اور موسیقاروں کے ساتھ بھی کام کیا۔ ان کا فن سرحدوں کا محتاج نہیں۔ ایسے میں ان
کے چند گانوں کے بول پر پابندی اور غیر اخلاقی مواد پر خاموشی ایک سوالیہ نشان بن جاتی ہے ۔ میڈیا کسی بھی معاشرے کا آئینہ دار ہونے
کے ساتھ ساتھ اس کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ جو کچھ ٹی وی اسکرین پر دکھایا جاتا ہے ، وہی آہستہ آہستہ عوامی سوچ کا حصہ بن
جاتا ہے ۔ اگر مسلسل غیر معیاری اور سطحی مواد پیش کیا جائے تو ناظرین کی پسند بھی اسی طرف مائل ہونے لگتی ہے ، اور یوں ایک منفی چکر جنم لیتا
ہے ۔ اس چکر کو توڑنے کے لیے صرف پیمرا ہی نہیں بلکہ میڈیا ہاؤسز اور ناظرین کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پیمرا کو چاہیے کہ وہ محض نوٹس
جاری کرنے تک محدود نہ رہے بلکہ عملی اقدامات کرے ۔ واضح پالیسی بنائی جائے ، اخلاقی حدود کا تعین کیا جائے اور ان کی خلاف ورزی
پر بلا امتیاز کارروائی کی جائے ۔ ایسے پروگرامز کو فوری طور پر بند کیا جائے جو معاشرتی اقدار کے خلاف ہوں، اور چینلز کو پابند کیا جائے کہ وہ
معیاری اور تعمیری مواد نشر کریں۔تاہم ذمہ داری صرف اداروں تک محدود نہیں۔ ناظرین کا کردار بھی نہایت اہم ہے ۔ اگر عوام خود غیر
معیاری پروگرامز دیکھنا بند کر دیں اور ایسے مواد کو مسترد کر دیں تو چینلز کو اپنی پالیسی تبدیل کرنا پڑے گی۔ کیونکہ میڈیا آخرکار وہی دکھاتا ہے جو
بکتا ہے ۔ اگر معیاری مواد کو پذیرائی ملے گی تو یقیناً میڈیا بھی اسی طرف واپس آئے گا۔
یہاں یہ امر بھی بہت اہم ہے کہ جس چینل پر یہ افسوسناک مواد ٹیلی کاسٹ ہوا ہے ، وہ ہمارے وفاقی وزیر محسن نقوی کا ہے ۔ جو اس قوم
کے لیے احسن اقدامات اور مثبت روایات کے امین ہونے چاہیئے ، لیکن ان کے اس چینل سے اس طرف کی خرافات کے نشر ہونے سے
پوری قوم کو کیا پیغام گیا ہے ۔ انھیں اس واقعے پر قوم سے معافی مانگنی چاہئے ۔ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم تنقید کے ساتھ ساتھ مثبت متبادل بھی
پیش کریں۔ ہمیں ایسے پروگرامز کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے جو تعلیم، شعور اور اخلاقیات کو فروغ دیتے ہوں۔ میڈیا کو صرف تفریح کا ذریعہ
نہیں بلکہ اصلاح کا ذریعہ بنانا ہوگا۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ ہمارا معاشرہ ایک نازک دور سے گزر رہا ہے جہاں اقدار اور جدیدیت کے درمیان توازن قائم کرنا ایک بڑا چیلنج
بن چکا ہے ۔ اگر ہم نے بروقت اقدامات نہ کیے تو آنے والی نسلیں ایک ایسے میڈیا کلچر کی عادی ہو جائیں گی جہاں حیا، وقار اور سنجیدگی کا
کوئی مقام نہیں ہوگا۔ اس لیے ضروری ہے کہ اپنی ذمہ داری کا احساس کرے ، میڈیا ہاؤسز خود احتسابی کریں، اور ناظرین باشعور بن کر اپنا
انتخاب بہتر کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں ایک مہذب، باوقار اور مثبت معاشرے کی طرف لے جا سکتا ہے۔
٭٭٭


