میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
امریکہ میں ایشیائی باشندوں کو شدید نسلی امتیاز کا سامنا

امریکہ میں ایشیائی باشندوں کو شدید نسلی امتیاز کا سامنا

جرات ڈیسک
هفته, ۱۶ اپریل ۲۰۲۲

شیئر کریں

چائنا سوسائٹی فار ہیومن رائٹس کی جاری کی گئی تحقیقی رپورٹ "ایشیائی مخالف نسلی امتیاز اور امریکی نسل پرست سماج کی نسل پرستی” میں تفصیلی اعداد و شمار اور مثالوں کا استعمال کیا گیا ہے تاکہ یہ بتایا جا سکے کہ ایشیائی امریکی، دیگر نسلی اقلیتوں کے ہمراہ، تشدد کا نشانہ بن رہے ہیں۔امریکی سیاست دانوں نے چین کو سرد جنگ اور زیرو سم گیم کی ذہنیت سے دبانے اور اس پر قابو پانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، ہفتہ کے روز چینی میڈیا کے مطا بق امریکہ میں انسانی حقوق کے مختلف مسائل اور خلاف ورزیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ملک میں رنگ و نسل کا پیمانہ امریکی شہریوں کی قسمت کے فیصلہ میں اہم عنصر ہے۔ایشیائی امریکیوں کو ایک طویل عرصے سے ملک میں امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ خاص طور پر وبائی صورتحال کے بعد سے، ایشیائی باشندے نسل پرستانہ حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ کیلیفورنیا اسٹیٹ یونیورسٹی کے سینٹر فار ہیٹ اینڈ ایکسٹریمزم اسٹڈیز کے اعدادوشمار کے مطابق، 2020 میں ایشیائی امریکیوں کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم میں 149 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 2021 کی پہلی سہ ماہی میں امریکہ کے 15 بڑے شہروں میں ایشیائی امریکیوں کے خلاف پرتشدد جرائم میں 2020 کی اسی مدت کے مقابلے میں 169 فیصد اضافہ ہوا۔مزید برآں، حالیہ برسوں میں، امریکی سیاست دانوں نے چین کو سرد جنگ اور زیرو سم گیم کی ذہنیت سے دبانے اور اس پر قابو پانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، جس نے نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید بگاڑ دیا ہے بلکہ چین سمیت پورے ایشیائی گروپ کو مزید سنگین نسلی امتیاز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔یونیورسٹی آف پنسلوانیا میں قانون کی پروفیسر ایمی ویکس نے فاکس نیوز کے ایک پروگرام میں ہندوستانی تارکین وطن پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ "ان کا اپنا ملک ایک ڈھونگ ہے۔” یہ چونکا دینے والا تبصرہ ایشیائی امریکیوں کے خلاف نسلی امتیاز کی ایک اور مثال ہے۔


مزید خبریں

دمشق: بشار الاسد کی شامی حکومت کے ڈرامائی زوال نے ان کی حکومت کے تاریک پہلوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے، جن میں ممنوعہ منشیات کیپٹاگون کی صنعتی سطح پر برآمد شامل ہے۔  زرائع کے مطابق اپوزیشن فورسز نے ان اڈوں اور تقسیم کے مراکز پر قبضہ کر لیا ہے جہاں یہ نشہ آور گولیاں تیار کی جاتی تھیں اور پورے مشرق وسطیٰ میں بلیک مارکیٹ میں فروخت کی جاتی تھیں۔ ہیئت تحریر الشام کے زیر قیادت ان جنگجوؤں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے منشیات کی ایک بڑی کھیپ قبضے میں لے لی ہے اور اسے تباہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔  ایچ ٹی ایس کے جنگجوؤں نے اے ایف پی کے صحافیوں کو دمشق کے مضافات میں ایک کوئلے کے گودام تک رسائی دی، جہاں کیپٹاگون گولیوں کو برقی آلات کے پرزوں کے اندر چھپا کر برآمد کیا جا رہا تھا۔  گودام کے نیچے موجود ایک بڑے گیراج میں، ہزاروں کی تعداد میں مٹیالے رنگ کی کیپٹاگون گولیاں نئی گھریلو وولٹیج اسٹیبلائزرز کی تانبے کی کوائلز میں چھپائی گئی تھیں۔  ابو مالک الشامی نامی ایک نقاب پوش جنگجو نے کہا،

دمشق: بشار الاسد کی شامی حکومت کے ڈرامائی زوال نے ان کی حکومت کے تاریک پہلوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے، جن میں ممنوعہ منشیات کیپٹاگون کی صنعتی سطح پر برآمد شامل ہے۔ زرائع کے مطابق اپوزیشن فورسز نے ان اڈوں اور تقسیم کے مراکز پر قبضہ کر لیا ہے جہاں یہ نشہ آور گولیاں تیار کی جاتی تھیں اور پورے مشرق وسطیٰ میں بلیک مارکیٹ میں فروخت کی جاتی تھیں۔ ہیئت تحریر الشام کے زیر قیادت ان جنگجوؤں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے منشیات کی ایک بڑی کھیپ قبضے میں لے لی ہے اور اسے تباہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ایچ ٹی ایس کے جنگجوؤں نے اے ایف پی کے صحافیوں کو دمشق کے مضافات میں ایک کوئلے کے گودام تک رسائی دی، جہاں کیپٹاگون گولیوں کو برقی آلات کے پرزوں کے اندر چھپا کر برآمد کیا جا رہا تھا۔ گودام کے نیچے موجود ایک بڑے گیراج میں، ہزاروں کی تعداد میں مٹیالے رنگ کی کیپٹاگون گولیاں نئی گھریلو وولٹیج اسٹیبلائزرز کی تانبے کی کوائلز میں چھپائی گئی تھیں۔ ابو مالک الشامی نامی ایک نقاب پوش جنگجو نے کہا، "جب ہم نے گودام میں داخل ہو کر تلاشی لی، تو ہمیں پتہ چلا کہ یہ فیکٹری ماہر الاسد اور اس کے ساتھی عامر خیتی کی ہے۔" ماہر الاسد سابق صدر بشار الاسد کا بھائی تھا، اب مفرور سمجھا جا رہا ہے۔ اس پر منشیات کی منافع بخش تجارت کے پیچھے ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام ہے۔ شامی سیاستدان عامر خیتی پر 2023 میں برطانوی حکومت نے پابندیاں عائد کی تھیں۔ 

Author One
جمعه, ۱۳ دسمبر ۲۰۲۴

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں