میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
حکومت کا روزانہ 2 گھنٹے 15 منٹ لوڈشیڈنگ کا فیصلہ

حکومت کا روزانہ 2 گھنٹے 15 منٹ لوڈشیڈنگ کا فیصلہ

ویب ڈیسک
بدھ, ۱۵ اپریل ۲۰۲۶

شیئر کریں

شام 5بجے سے رات ایک بجے تک بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جائے گی، پاور ڈویژن
بجلی مہنگی ہونے سے بچانے کیلئے مہنگے ایندھن کے استعمال کو کم سے کم رکھا جا سکے

ترجمان پاور ڈویژن نے کہاہے کہ بجلی مہنگی ہونے سے بچانے کے لیے شام 5بجے سے رات 00:1بجے تک روزانہ 2 گھنٹے15،منٹ تک بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جائے گی ،جولائی سے فروری میں 71 پیسے فی یونٹ بجلی کی قیمت کم ہوئی ہے ۔ جس کا کل حجم 46 ارب روپے بنتا ہے۔ ترجمان پاور ڈویژن نے پیک اورز ریلیف سٹریٹیجی سے متعلق اہم بیان میں کہاکہ پاور ڈویژن کے مسلسل اقدامات کی بدولت ملک کے تمام بجلی کے صارفین کے فی یونٹ قیمت جولائی سے فروری تک الحمداللہ باوجود ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے ، اوسطا 71 پیسے فی یونٹ بجلی کی قیمت کم ہوئی ہے ۔ جس کا کل حجم 46 ارب روپے بنتا ہے اس نمایاں کمی کی بنیادی وجوہات میں سسٹم میں لائی جانے والی اصلاحات، مختلف ریلیف پیکجز، میرٹ آرڈر پر سختی سے عملدرآمد، بہتر اور بروقت منصوبہ بندی، اور نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق مؤثر انداز میں چلانا شامل ہیں۔ خاص طور پر بہتر پلاننگ کے ذریعے کم لاگت والے ذرائع کو ترجیح دی گئی، پیداواری صلاحیت کو مؤثر طریقے سے استعمال کیا گیا، اور ترسیلی و انتظامی سطح پر بہتری لا کر نقصانات کو کم کیا گیا۔ ان مربوط اقدامات کے نتیجے میں نہ صرف نظام کی مجموعی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی بلکہ صارفین کو براہِ راست اور پائیدار ریلیف بھی فراہم ہوا۔ انہوں نے کہاکہ اللہ کا شکر ہے کہ آج عالمی سطح پر سخت حالات کے باوجود ملک میں بجلی کی پیداوار مستحکم ہے اس وقت بھی ہم اس قابل ہیں کہ ضرورت کے مطابق بجلی پیدا کر سکیں۔ ہمیں اس وقت سب سے بڑا چیلنج شام سے لے کر رات تک کے پیک آورز (شام 5سے رات 1:00)میں درپیش ہے جہاں بجلی کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ ان دنوں پانی سے چلنے والے بجلی گھروں کی پیداوار بہت کم ہو گئی ہے اگر ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مہنگے ایندھن پر انحصار کیا جائے تو اس سے بجلی کی قیمت میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے فیصلہ کیا ہیشام 5بجے سے رات 1:00بجے تک روزانہ تقریباً 2.25 گھنٹے بجلی کی فراہمی کو بند کیا جائے گا تاکہ مہنگے ایندھن کے استعمال کو کم سے کم رکھا جا سکے اور بجلی کی قیمت میں ممکنہ اضافے کو روکا جا سکے۔ وزیراعظم پاکستان کی خصوصی توجہ اور ذاتی مانیٹرنگ سے صورتحال کو مسلسل مانیٹر کیا جارہا ہے وزیراعظم صاحب نے ہماری ٹیم کو یہ ٹاسک دیا ہوا ہے کہ کسی بھی صورت بجلی کی قیمت میں بے تحاشہ اضافہ نہ ہو اور اگر فرنس آئل کے استعمال سے کچھ قیمت میں اضافہ ہو بھی تو ایسے اقدامات ضرور کئے جائیں جس سے ممکنہ اضافے کو کم سے کم کیا جائے اسی وجہ سے وزیراعظم صاحب کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں 80 MMCFD لوکل گیس پاور پلانٹس کو مہیا کردی گئی ہے جس کی بدولت نہ صرف بجلی کی قیمت میں 80 پیسے فی یونٹ اضافے کو بلکہ اضافی لوڈ منیجمنٹ کو بھی روک دیا گیاہے پیک اوز میں 2.25گھنٹے کی لوڈمنیجمنٹ کا مقصد بجلی کی قیمت میں تقریباً 3 روپے فی یونٹ اضافے کو روکنا ہے فرنس آئل کے استعمال کو محدود کرنے کے باوجود ہمیں تقریباً 1.5 روپے فی یونٹ کے اضافے کیلئے تیار رہنا ہوگا جو کہ اگر یہ اقدامات نہ ہوتے تو 5 سے 6 روپے فی یونٹ اضافے کا موجب بنتے۔ ڈسکوز کو ہدایات جاری کی گئیں ہیں کہ ہر فیڈر کے بجلی بند کرنے کے اوقات کو ہر سطح پر صارفین سے شئیر کیا جائے تاکہ انکو اپنی بجلی کے اوقات کا پتہ ہو اور اس شیڈول کے علاوہ کوئی بھی بجلی بند نہ ہو جہاں کسی لوکل فالٹ کی وجہ سے بجلی بند کرنے کی ضرورت پیش آئے تو متعلقہ دفاتر صارفین کو اس بارے معلومات دیں گے حکومت کوشش کر رہی ہے کہ عوام کو بین الاقوامی حالات کی وجہ سے کم سے کم تکالیف کا سامنا ہو اور ہر وہ اقدام ضرور کیا جائے جس سے عوام کو ریلف ملے واضح رہے کہ یہ اقدام لوڈشیڈنگ یا لوڈ مینجمنٹ نہیں بلکہ پیک آورز میں قیمتوں کے ممکنہ اضافے کو کم کرنے کے لیے حکومت کی “پیک ریلیف سٹریٹجی” کا حصہ ہے۔ حکومت پرعزم ہے کہ بین الاقوامی حالات کے باوجود عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے اور ہر ممکن اقدام کیا جائے جس سے بجلی کی قیمتوں کو قابو میں رکھا جا سکے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مشترکہ کوششوں سے اگر کمرشل مارکیٹس کی بروقت بندش کو یقینی بنایا جائے تو اس سے بھی بجلی کی طلب میں کمی لا کر قیمتوں میں ممکنہ اضافے کو مزید کم کیا جا سکتا ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں