میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
قومی اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس

قومی اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس

جرات ڈیسک
منگل, ۱۳ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

علامہ راجہ ناصر عباس، بیرسٹر گوہر علی خان، مولانا فضل الرحمن، سلمان اکرم راجہ و دیگر اپوزیشن رہنمائوں کی شرکت

11اکتوبر کو پاکستان کی جمہوری تاریخ میں سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا،اجلاس میں فیصلہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قومی اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی کی زیر صدارت قومی اسمبلی میں منعقد ہوا، جس میں قائد حزب اختلاف سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس، پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن، سلمان اکرم راجہ اور دیگر اپوزیشن رہنمائوں نے شرکت کی۔

متحدہ اپوزیشن کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے اعلامیے کے مطابق اجلاس میں خیبر پختونخوا کی موجودہ سیاسی و آئینی صورتِ حال، صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ، منتخب حکومت کے خاتمے اور سیاسی کارکنوں و رہنمائوں کی گرفتاریوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔

شرکا نے مطالبہ کیا کہ گورنر راج کے نفاذ کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے اور صوبے کے عوام کے جمہوری مینڈیٹ کا احترام یقینی بنایا جائے۔

اجلاس میں کہا گیا کہ 11اکتوبر کو پاکستان کی جمہوری تاریخ میں سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا، خیبر پختونخوا میں منتخب حکومت کا خاتمہ، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت پاکستان تحریک انصاف کے قائدین کی گرفتاری اور سیاسی کارکنوں کے خلاف کارروائیاں صوبے کے عوامی مینڈیٹ اور جمہوری اقدار کے منافی ہیں۔

شرکا نے مطالبہ کیا کہ گرفتار رہنمائوں اور کارکنوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور آئین و قانون کی بالادستی برقرار رکھی جائے۔جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اجلاس کو حکومت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کے ساتھ بات چیت مکمل ہونے کے باوجود خیبر پختونخوا میں یہ قدم اٹھایا گیا۔

شرکا نے جمہوری عمل کے فروغ، سیاسی کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کے لیے مولانا فضل الرحمن کی کوششوں اور کردار کو سراہا۔اجلاس کے شرکا نے کہا کہ ملک میں ظلم و جبر کی حکمرانی قائم ہے، حالانکہ عوام سے وعدہ کیا گیا تھا کہ پاکستان میں جمہوری نظام ہوگا اور آئین شہریوں کے حقوق اور جمہوری اداروں کے تحفظ کی ضمانت دے گا۔

آئین کی روح کے مطابق پارلیمنٹ عوام کی نمائندہ اور ریاستی اختیار کا بنیادی جمہوری مرکز ہے، لیکن مسلسل غیر جمہوری اقدامات کے باعث پارلیمان کی خودمختاری اور عوامی مینڈیٹ متاثر ہو رہا ہے۔اجلاس میں 8فروری کے انتخابات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ انتخابی عمل میں مبینہ مداخلت اور ارکان کے ضمیر خریدنے جیسے اقدامات نے جمہوری نظام کو نقصان پہنچایا۔ شرکا نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو نظرانداز کرکے اقتدار حاصل کرنے اور برقرار رکھنے کی کوششیں جمہوریت کے بنیادی اصولوں کے منافی ہیں۔ عوام کے حقِ رائے دہی اور ان کے منتخب نمائندوں کے اختیار کا احترام کیے بغیر ملک میں سیاسی استحکام ممکن نہیں۔

شرکا نے کہا کہ آئین میں ترامیم کے ذریعے عدلیہ کے اختیارات محدود کرنے اور آئینی اداروں کو کمزور کرنے کے اقدامات پر بھی سنجیدہ تحفظات ہیں۔ ایک طرف آئین اور جمہوریت کی بات کی جاتی ہے، دوسری طرف سیاسی مخالفین کو احتجاج اور اختلافِ رائے کے بنیادی حق سے محروم کیا جاتا ہے۔ کسی بھی حکومت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ خود کو قانون سے بالاتر سمجھے یا اپنے اختیارات کے ذریعے سیاسی مخالفین کو دبائے۔

اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ آئین کی خلاف ورزی اور آئینی نظام کو نقصان پہنچانے کے معاملات میں قانون کی بالادستی یقینی بنائی جائے۔ شرکا نے کہا کہ آئین کے ساتھ کھلواڑ کسی صورت قابل قبول نہیں، جبکہ قانون کا اطلاق تمام افراد اور اداروں پر یکساں ہونا چاہیے۔ حکومت کے احتساب، کرپشن کے خاتمے اور قانون کی حکمرانی کے دعوں کو عملی اقدامات سے ثابت کیا جانا چاہیے۔

اجلاس میں بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے معاملات پر دوہرے معیار پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ شرکا نے کہا کہ اگر صوبوں میں امن و امان اور آئینی مسائل موجود ہیں تو ان کے حل کے لیے یکساں اصول اپنائے جائیں۔ کسی صوبے میں سیاسی اختلاف کی بنیاد پر منتخب حکومت ختم کرنا یا غیر جمہوری اقدامات کرنا مسائل کا حل نہیں۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان سمیت تمام صوبوں کے عوام کے حقوق اور منتخب نمائندوں کے مینڈیٹ کا یکساں احترام کیا جائے۔

شرکا نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کے حقِ رائے دہی اور جمہوری مینڈیٹ کے ساتھ مذاق بند کیا جائے۔ صوبے کے عوام کو امن، تحفظ اور آئینی حقوق درکار ہیں، مزید سیاسی تجربات نہیں۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے یکطرفہ فیصلوں کے بجائے تمام متعلقہ فریقوں کی مشاورت سے جامع قومی حکمت عملی تشکیل دی جائے اور صوبے کو درکار وسائل فراہم کیے جائیں۔ اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ متحدہ اپوزیشن ایک جمہوری پاکستان کے قیام، گورنر راج کے خاتمے صوبے میں آئینی حکومت کی واپسی، آئین کی بالادستی اور عوام کے حقِ حکمرانی کے لیے ہر ممکن سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی۔

ارکان نے واضح کیا کہ مذاکرات کے ساتھ ساتھ آئینی و جمہوری جدوجہد بھی جاری رہے گی۔ سیاسی اختلافات کا حل طاقت، گرفتاریوں اور غیر جمہوری اقدامات میں نہیں بلکہ سیاسی مکالمے، باہمی احترام اور عوامی مینڈیٹ کی پاسداری میں ہے۔متحدہ اپوزیشن کے رہنمائوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے خاتمے، منتخب حکومت کے مینڈیٹ کی بحالی، سیاسی رہنمائوں اور کارکنوں کے حقوق کے تحفظ اور ملک میں جمہوری نظام کی مضبوطی کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھیں گے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں