میگزین

Magazine
تازہ ترین : عمران خان کی حکومت ہٹانے سے متعلق سائفر امریکی میڈیا میں ہی افشا ہو گیا فیلڈ مارشل کا دورۂ تہرن،اہم امریکی پیغام پہنچا دیا،امریکا ، ایران مذاکرات اگلے ہفتے اسلام آباد میںہوں گے تحریک انصاف کااسمبلیوں سے استعفے دینے پرغور،محمود اچکزئی ، ناصر عباس سے اختیارات واپس لینے کیلئے دبائو پی ای سی ایچ ایس، امتحانی مرکز پر چیئرمین میٹرک بورڈ کا چھاپہ، سینٹر سپرٹنڈنٹ معطل وزیراعلیٰ سندھ کا محکمہ خوراک کو گندم خریداری مہم تیز کرنے کا حکم آبنائے ہرمزکی ناکہ بندی ، ملک میں گیس قیمتوں میں بڑے اضافے کا خدشہ قبضہ مافیاز کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائیگا،وزیر داخلہ سندھ کراچی کو حق دو کے بینرز جو دکاندار بنائیں گے ان کو سِیل کر دینگے، مرتضیٰ وہاب افغان طالبان کی باجوڑ میں آبادی پر گولہ باری ،2بچوں سمیت 3 افرادشہید غزہ میں اسرائیل کی جنگ بندی خلاف ورزیاں ، تازہ حملے میں11فلسطینی شہید سندھ بلڈنگ، اسکیم 24گلشن اقبال میں غیر قانونی تعمیرات کا راج

ای پیج

e-Paper
اے آئی چند ماہ میں وائٹ کالر ملازمین کی جگہ لے  لے گا، مائیکرو سافٹ

اے آئی چند ماہ میں وائٹ کالر ملازمین کی جگہ لے لے گا، مائیکرو سافٹ

جرات ڈیسک
جمعه, ۱۳ فروری ۲۰۲۶

شیئر کریں

کمپنیاں اخراجات کم کرنے کے لیے اے آئی ٹولز کو اپنائیں گی

 

حال ہی میں مائیکروسافٹ کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ کچھ ہی عرصے میں اے آئی وائٹ کالر ملازمین کی جگہ لےسکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق مصطفیٰ سلیمان جو اس وقت مائیکرو سافٹ کے اے آئی ڈویژن کے سی ای او ہیں نے، حالیہ ایک انٹرویو میں کہا کہ اگلے 12 سے 18 مہینوں میں اے آئی خاص طور پر وائٹ کالر ملازمین کی جگہ لے سکتی ہے۔

"وائٹ کالر” ملازمین میں عام طور پر دفتری عملہ، اکاؤنٹنٹس، کسٹمر سروس نمائندگان، قانونی اسسٹنٹس، تجزیہ کار اور آئی ٹی سپورٹ اسٹاف شامل ہوتا ہے۔

مصطفیٰ سلیمان کے مطابق اے آئی تیزی سے ایسی صلاحیتیں حاصل کر رہا ہے جو رپورٹ لکھنے، ڈیٹا تجزیہ کرنے، ای میل ڈرافٹ کرنے، کوڈ لکھنے اور تحقیق کرنے جیسے کام خودکار بنا سکتا ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کمپنیاں اخراجات کم کرنے کے لیے اے آئی ٹولز کو اپنائیں گی۔ کچھ شعبوں میں ملازمتوں کی نوعیت بدل جائے گی، جبکہ کچھ کردار مکمل طور پر ختم بھی ہو سکتے ہیں

مصطفیٰ سلیمان کا بیان ایک انتباہ بھی ہے اور ایک پیش گوئی بھی۔ ممکن ہے مکمل ملازمتیں ختم نہ ہوں، لیکن ان کی نوعیت ضرور بدل جائے گی۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں