آئی ایم ایف سے قرض کی منظوری۔۔وقتی سہارا،مستقل حل نہیں!
شیئر کریں
انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ آئی ایم ایف نے گزشتہ روزٹیکس نیٹ بڑھانے اور اصلاحات جاری رکھنے، بجلی، گیس اور پیٹرولیم قیمتیں لاگت کے مطابق رکھنے سرکاری اداروں کی نجکاری اور اصلاحات تیز کرنے، سماجی تحفظ اور تعلیم و صحت پر اخراجات بڑھانے اورموسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے اصلاحات جاری رکھنے پر زور دیتے ہوئے پاکستان کے لیے تقریباً ایک ارب 32 کروڑ ڈالرز کی نئی قسط جاری کرنے کی منظوری دی ہے۔
آئی ایم ایف بورڈ نے ای ایف ایف کے تحت 1.1 ارب ڈالرز جاری کرنے کی توثیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو آر ایس ایف کے تحت بھی مزید 22 کروڑ ڈالرز ملیں گے۔ اس طرح دونوں پروگراموں کے تحت پاکستان کو مجموعی طور پر تقریباً 4.8 ارب ڈالر موصول ہو چکے ہیں، آئی ایم ایف نے پاکستان کو قرض جاری کرنے کیلئے ہونے والے جائزہ اجلاس میں تسلیم کیا کہ پاکستان کی معیشت میں استحکام آرہا ہے اورمشرقِ وسطیٰ جنگ کے باوجود پاکستان نے معاشی اہداف حاصل کئے ہیں ۔ قرض کی منظوری سے متعلق آئی ایم ایف کے اعلامیے میں ہدایت کی گئی ہے کہ پاکستان کو کاروباری وسعت کے لیے مسابقت کو فروغ دینا ہو گا، مسابقت سے پیداواری شعبہ ترقی کرے گا، معاشی اصلاحات کے ذریعے پاکستان طویل مدت معاشی گروتھ حاصل کر سکتا ہے۔آئی ایم ایف نے مالی سال 2026 میں پاکستان کی معاشی شرحِ نمو 3.6 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی کی شرح رواں مالی سال میں 7.2 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے۔
پاکستان کے لیے 1.3 ارب ڈالر کی قسطوں کی منظوری کے ساتھ ہی آئی ایم ایف نے واضح کر دیا ہے کہ اشیائے صرف کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤکے ماحول میں پاکستان کو پیٹرول، بجلی اور گیس کی مقامی قیمتوں کو لاگت کے مطابق برقرار رکھنا ہوگا، جبکہ غریب اور کمزور طبقے کو ہدفی امداد فراہم کی جائے ۔آئی ایم ایف نے اپنے بیان میں کہا کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات ناگزیر ہیں، انسدادِ بدعنوانی کے اداروں کو مضبوط بنانا، سرکاری اداروں کی نجکاری اور کاروباری ماحول میں غیر ضروری رکاوٹوں اور ضوابط کے خاتمے جیسی ساختیاتی اصلاحات کو مزید گہرا کرنا ہوگا، پاکستان سے متعلق عالمی مالیاتی ادارے کے تخمینوں میں کہا گیا ہے کہ 2027 میں جی ڈی پی نمو 3.5 فیصد رہنے،2026 میں جی ڈی پی کے 1.6 فیصد کے مساوی بنیادی بجٹ سرپلس حاصل ہونے اور جون 2026 تک زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر 17.5ارب ڈالر تک پہنچنے جبکہ افراطِ زر دوبارہ بڑھ کر 8.4 فیصد تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔ آئی ایم ایف نے حکومت کو خاص طورپر یہ ہدایت کی ہے کہ اشیائے ضروریہ کی بلند اور غیر مستحکم عالمی قیمتوں کے ماحول میں توانائی کے شعبے کی مالی حالت میں حالیہ بہتری کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ پیٹرول، بجلی اور گیس کی مقامی قیمتیں اصل لاگت کے مطابق رکھی جائیں۔ اخراجات میں کمی اور نااہلیوں کے خاتمے کے لیے اصلاحات کا سلسلہ جاری رکھنے سے توانائی کے شعبے کی پائیداری محفوظ ہوگی اور پاکستان کی مسابقت میں اضافہ ہوگا۔آئی ایم ایف نے مالی سال 2027 کے لیے پاکستان کی جی ڈی پی نمو 3.5 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے، جبکہ افراطِ زر دوبارہ بڑھ کر 8.4 فیصد تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر جون 2026 تک 17.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔آئی ایم ایف کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باوجود پاکستانی حکام نے اصلاحاتی پروگرام پر مضبوطی سے عمل درآمد کیا، جس سے معاشی استحکام برقرار رہا
اور بیرونی مالی حالات بہتر ہوئے۔ بیان میں کہا گیا کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ سے پیدا ہونے والے جھٹکے اس بات کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتے ہیں کہ پاکستان مضبوط معاشی پالیسیوں کو جاری رکھے اور پائیدار ترقی کے لیے ساختیاتی اصلاحات کو تیز کرے۔پالیسی ترجیحات میں معاشی استحکام برقرار رکھنا، سرکاری مالیات کو مضبوط بنانا، مسابقت اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ، سماجی تحفظ اور انسانی وسائل کو بہتر بنانا، سرکاری اداروں (SOEs) کی اصلاحات، عوامی خدمات میں بہتری اور توانائی کے شعبے کی بحالی شامل ہیں۔آئی ایم ایف نے کہا کہ پاکستان کا 37 ماہ پر مشتمل EFF پروگرام، جس کی منظوری 25 ستمبر 2024 کو دی گئی تھی، معیشت کو مستحکم بنانے اور پائیدار ترقی کو ممکن بنانے کے لیے ترتیب دیا گیا۔
آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کے جاری فنڈ پروگرام کے تازہ جائزے کی منظوری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی معیشت بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے باعث توانائی کی عالمی منڈیاں متاثر ہو رہی ہیں، ایسے میں اس منظوری کی اہمیت ایک ایسے ملک کے لیے مزید بڑھ جاتی ہے جس کی بیرونی معاشی پوزیشن درآمدی توانائی کے جھٹکوں کے مقابلے میں اب بھی کمزور ہے۔پاکستان، جس کے ادائیگیوں کے توازن کا انحصار بڑی حد تک بیرونی مالی معاونت اور ترسیلاتِ زر کے استحکام پر ہے، کے لیے قرض کی نئی قسط وقتی ریلیف فراہم کرے گی۔ جائزے کی منظوری پر کوئی خاص شبہ نہیں تھا کیونکہ اسلام آباد مجموعی طور پر پروگرام کے اہداف پر عمل درآمد کی راہ پر گامزن ہے۔ تاہم یہ منظوری خودکار انداز میں نہیں ملی۔ اطلاعات کے مطابق حکومت نے تقریباً ایک درجن نئی شرائط قبول کیں اور جنگ سے قبل طے شدہ اہداف پر عمل جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی تاکہ معاشی استحکام کی کوششیں متاثر نہ ہوں۔اہم ترین شرائط میں ایک نمایاں شرط سخت مانیٹری پالیسی کو برقرار رکھنا ہے، حالانکہ شرح سود میں کمی کے لیے دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے مہنگائی کے خطرات پر زور اس خدشے کی عکاسی کرتا ہے کہ عالمی سطح پر توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں مقامی معیشت پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام آباد کو معاشی ترقی کے بجائے میکرو اکنامک استحکام کو ترجیح دینے کا کہا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق حکومت نے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے2فیصد کے برابر بنیادی بجٹ سرپلس حاصل کرنے کا وعدہ
بھی کیا ہے۔ آئی ایم ایف نے اگرچہ پاکستان کیلئے قرض کی نئی قسط کی منظوری دیتے ہوئے بجلی اور پیڑول کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کی کوئی
شرط عائد نہیں کی ہے بلکہ اس کے بجائے ان قیمتوں کو مارکیٹ سے ہم آہنگ کرنے کا مشورہ دیاہے لیکن ہمارے ہر دلعزیز وزیر اعظم نے بلاسوچے سمجھے دل پر ایک اور پتھر رکھتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کرنے کا اعلان کردیا اور اب حکومتی حلقوں کی جانب سے یہ غلط تاثر دے کر عوام کو خون کے گھونٹ پی کر خاموش رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ وزیراعظم نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نیا اضافہ آئی ایم ایف کی ہدایت پر کیاہے حالانہ ایک پرائمری کا طالب علم بھی یہ اچھی طرح جانتاہے کہ پیٹرولیم کی قیمتوں میں یہ اضافہ لیوی یا ٹیکس کی شرح میں اضافہ کی وجہ سے ہواہے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے نہیں ہوا کیونکہ اس دوران تیل کی عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کے باوجود قیمتیں نسبتاً مستحکم رہی ہیں اور ملک کے زرمبادلے پر کوئی نمایاں اضافی بوجھ نہیں پڑا ہے، اور اگر آج حکومت اس ٹیکس یا لیوی کی شرح میں کمی کردے تو شاید آئی ایم ایف کو کوئی اعتراض نہ ہو کیونکہ وہ خود ہی اس ملک کے غریب عوام کوہدفی امداد فراہم کرنے کا مشورہ دے چکاہے۔
حکومتی حلقے آئی ایم ایف کی جانب سے قرض کی منظوری اور پروگرام پر عمل درآمد کی تعریف کو موجودہ حکومت کی بڑی کامیابی ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور حکومت کے بھونپو ہر چینل پر اسے موجودہ حالات میں حکمرانوں کی حیران کن کامیابی ثابت کرنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں ،لیکن حقیقت یہ کہ اس کو کسی بڑی کامیابی کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ موجودہ معاشی استحکام بیرونی مالی وسائل پر قائم ہے اور اس کی بنیاد پائیدار پیداواری صلاحیت یا برآمدی مسابقت میں حقیقی بہتری پر نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاشی کامیابیاں اب بھی نازک ہیں، اور فنڈ کی تجاویز پر عمل جاری رکھنا ناگزیر دکھائی دیتا ہے۔ماضی میں عالمی قرض دہندہ ادارے کے ساتھ پاکستان کے تعلقات ایک مانوس طرز پر چلتے رہے ہیں: ابتدا میں دباؤ کے تحت شرائط پر عمل، عارضی استحکام، اور پھر فوری مالی ضروریات پوری ہونے کے بعد پالیسیوں میں واپسی۔ موجودہ عالمی حالات ایسی کسی لغزش کی گنجائش نہیں چھوڑتے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب علاقائی جنگ عالمی منڈیوں کو متاثر کر رہی ہے۔ حقیقت یہ کہ صرف عالمی سطح پرتیل کی قیمتوں میں اضافہ اکیلے ہی درآمدی بل میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ پڑ سکتا ہے اور اس سے مہنگائی کی نئی لہر کو جنم لے سکتی ہے۔ مالیاتی یا مانیٹری نظم و ضبط میں کسی بھی قبل از وقت نرمی سے اب تک حاصل ہونے والا استحکام تیزی سے ختم ہو سکتا ہے۔
اس کے علاوہ ہمارے وزیر خزانہ اور وزارت خزانہ کے ارباب اقتدار کو یہ سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے کہ اصل چیلنج قرض کی قسطوں اور جائزوں سے کہیں آگے ہے کیونکہ پاکستان کی معیشت ہمیشہ ان قرض دہندگان پر انحصار نہیں کر سکتی جو ان کمزوریوں کو سہارا دیتے ہیں جنہیں سیاسی طور پر حل کرنا مشکل سمجھا جاتا ہے۔ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا، سرکاری اداروں میں اصلاحات، توانائی کے شعبے میں بہتری اور برآمدی مسابقت میں اضافہ ایسے اقدامات ہیں جنہیں مزید موخر نہیں کیا جا سکتا۔ عالمی معیشت ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہوگا، بیرونی مالی معاونت مزید سخت ہو سکتی ہے اور جغرافیائی سیاسی بحران زیادہ بار سامنے آ سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں پاکستان کا معاشی استحکام ہنگامی مالی امداد سے کم اور ان اصلاحات پر زیادہ منحصر ہوگا جو اسے بیرونی انحصار سے نجات دلانے میں مدد دیں اور یہ معاشی استحکام عوام کو ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبانے سے نہیں بلکہ حکومت کے اللے تللوں کو کم بلکہ ختم کرنے سے ہی حاصل ہوسکے گا،وزیراعظم اور دوسرے ارباب اختیار کو یہ سمجھنا چاہئے کہ بیرون ملک دوروں میں ان کی عزت افزائی اور پزیرائی ایک دن میں 4 دفعہ نفیس ترین سوٹ تبدیل کرنے سے نہیں بلکہ ان کے مضبوط ویژن سےہوتی ہے،
وزیراعظم اور دیگر عمائدین حکومت کو یہ سمجھنا چاہئے کہ وہ اس کم وسیلہ ملک کے محدود وسائل پر بیرون ملک کسی فیشن شو میں شرکت کیلئے نہیں جاتے بلکہ اس غریب ملک کے عوام کیلئے ممکنہ آسانیاں تلاش کرنے جاتے ہیں لیکن جب وہ وہاں اپنے نفیس لباس اور پہناوے کی نمائش کرتے ہیں تو بیرون ملک اخبارات میں طنز کے طورپر ان کے پہناوے کا چرچا ہوتاہے جس سے ملک کی نیک نامی کی جگہ بدنامی ہوتی ہے۔
٭٭٭


