میگزین

Magazine
تازہ ترین : فضل الرحمان کے قریبی رفقا نشانہ، مولانا کی اسلام آباد رہائش گاہ کے مالک کو بھی نوٹس جاری امریکی انتخابات، ٹرمپ نے شکست تسلیم کرلی، ڈیموکریٹس کے ساتھ  کام کرنے کا اعلان تکنیکی اور آپریشنل وجوہات،کراچی ایئرپورٹ پر 8 پروازیں منسوخ ڈیموکریٹ امیدوار نبیلہ سید الینوائے کی ریاستی سینیٹ کی رکن منتخب جسٹس منصور کے انٹرویو پر الیکشن کمیشن کا بڑا جواب، پی ٹی آئی کے انتخابی نشان اور مخصوص نشستوں کا پنڈورہ باکس کھل گیا ایف آئی آردرج ہونا جرم نہیں، بریت کے بعد ملازمت سے محرومی غیرقانونی قرار، آئینی عدالت امریکا کا سعودی عرب میں سیکیورٹی الرٹ دوبارہ جاری، غیر ہنگامی عملے کو ملک چھوڑنے کی ہدایت ایران: شہریوں کو ممکنہ جوہری حملے کی صورت میں محفوظ رکھنے کے لیے ہنگامی ہدایات جاری پیٹرول کی قیمت کا کھیل، عالمی منڈی سے پاکستانی پمپ تک، اربوں روپے کس کی جیب میں جاتے ہیں؟ محکمہ اطلاعات، اشتہارات میں من پسند اور کم ریٹنگ والے چینلز پر نوازشیں

ای پیج

e-Paper
کیا اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ہلاک ہو گئے؟ ایرانی میڈیا پر قیاس آرائیاں

کیا اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ہلاک ہو گئے؟ ایرانی میڈیا پر قیاس آرائیاں

ویب ڈیسک
بدھ, ۱۱ مارچ ۲۰۲۶

شیئر کریں

ایران نے نیتن یاہو کے ممکنہ ٹھکانے کو نشانہ بنایا اور اس حملے میں ان کے بھائی کی ہلاکت ہوئی
7مارچ کو سرکاری بیان جاری کیا ،6مارچ کو بیرشیبا میں حملے کے مقام کا دورہ کر چکے ہیں،رپورٹ

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے زخمی یا ہلاک ہونے سے متعلق قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹ شائع کی ہے، تاہم اس دعوے کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ حالیہ دنوں میں نیتن یاہو کی نئی ویڈیوز سامنے نہ آنے، ان کی رہائش گاہ کے اردگرد سکیورٹی سخت ہونے اور بعض سفارتی ملاقاتوں کے ملتوی ہونے کی وجہ سے ان کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہوئے ہیں۔اس رپورٹ میں سابق امریکی انٹیلی جنس افسر اسکاٹ رِٹر کے ایک بیان کا حوالہ بھی دیا گیا جس میں دعوی کیا گیا کہ ایران نے نیتن یاہو کے ممکنہ ٹھکانے کو نشانہ بنایا اور اس حملے میں ان کے بھائی کی ہلاکت ہوئی۔ تاہم تسنیم نیوز نے خود بھی تسلیم کیا کہ اس دعوے کی کوئی سرکاری تصدیق یا تردید موجود نہیں۔دوسری جانب دستیاب معلومات کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نے 7مارچ کو ایک سرکاری بیان جاری کیا تھا جبکہ اسرائیلی حکام کے مطابق وہ 6مارچ کو بیرشیبا میں ایک حملے کے مقام کا دورہ بھی کر چکے ہیں۔اسرائیلی حکام نے اس سے قبل بھی ایسے دعوں کو "جعلی خبریں” قرار دیا تھا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنگی حالات میں اکثر نامکمل معلومات یا افواہوں کو بنیاد بنا کر سازشی نظریات پھیلائے جاتے ہیں۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں