صدر زرداری کے دستخط کے بغیر خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ ممکن نہیں تھا، بلاول بھٹو
شیئر کریں
فضل الرحمان ہم پر تنقید کریں مگر دہشت گردی کے خلاف کھل کر بات بھی کریں
پیپلز پارٹی نے ہمیشہ آئینی طریقے سے ایمرجنسی نافذ کی، چیئرمین پیپلزپارٹی
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ صدر آصف علی زرداری کے دستخط کے بغیر خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ ممکن نہیں تھا، پیپلز پارٹی نے ہمیشہ آئینی اور قانونی طریقے سے ایمرجنسی نافذ کی۔
مولانا فضل الرحمان اپوزیشن رہنما کی حیثیت سے ہم پر سیاسی تنقید کرنے کا حق رکھتے ہیں، تاہم انہیں دہشت گردی کے خلاف بھی کھل کر بات کرنی چاہیے۔
سانحہ کارساز کے شہداء کی 19ویں برسی کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ 18 اکتوبر ملکی تاریخ کا سیاہ دن ہے، جب شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی وطن واپسی پر دہشت گردی کے ذریعے انہیں نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔
استقبالیہ جلوس میں شریک کارکنوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر اپنی قائد کی حفاظت کی۔ شہدائے کارساز کی قربانیاں اس بات کی گواہ ہیں کہ دہشت گردی، انتہاپسندی اور تشدد جمہوریت کے عزم کو متزلزل نہیں کرسکتے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے کارکن دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنے آخری جلسے میں بھی نشاندہی کی تھی کہ بعض قوتیں سوات میں پاکستان کی عمل داری نہیں دیکھنا چاہتیں۔
2008ء میں حکومت بنانے کے بعد پیپلز پارٹی نے سوات میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کیا اور بینظیر بھٹو کا وعدہ پورا کیا۔ دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کے نتیجے میں دہشت گردوں کو شکست دی گئی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ماضی میں جیلوں سے دہشت گردوں کو رہا کرانے کے فیصلوں کا خمیازہ آج پاکستان بھگت رہا ہے۔ ملک ایک بار پھر ایسی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے جہاں بعض قوتیں سوات سے پاکستان کا پرچم اتارنا چاہتی ہیں۔
خیبر سے خضدار تک دہشت گردی کا مقابلہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی دھرتی کا دفاع کرنے کے لیے تیار نہیں، لیکن پیپلز پارٹی سے مقابلے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سانحہ کارساز کے شواہد مٹا دیے گئے تھے، جبکہ پیپلز پارٹی دہشت گردوں کا مقابلہ کرتی رہی ہے۔ اب پورا معاشرہ دہشت گردی کے خلاف کھڑا ہے اور پاکستان کا ہر شہری اس جنگ میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں پْرامن ماحول قائم کرنے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم ابھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ شہید بینظیر بھٹو کا خواب مکمل طور پر پورا ہوگیا ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سیاسی مفاہمت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تحریک بحالی جمہوریت کے دوران شہید ذوالفقار علی بھٹو کی مخالفت کرنے والی جماعتوں کے ساتھ بھی مل کر جدوجہد کی گئی۔
شہید بینظیر بھٹو نے جمہوریت کے لیے مفاہمت کا راستہ اختیار کیا اور 1988ء میں حکومت بنانے کے لیے بھی سیاسی سمجھوتے کرنا پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم تمام فریقین کے اتفاق رائے اور مذاکرات کے ذریعے منظور ہوئی۔
سیاست میں باہمی مشاورت سے قابل قبول راستہ نکالنا ضروری ہے، جبکہ منشور پر عمل درآمد اور عوام کو بنیادی مسائل میں ریلیف دینا بھی اہم ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا مؤقف واضح ہے کہ صوبے آئینی اور قانونی طریقے سے بن سکتے ہیں۔
محسن نقوی صدر آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کی پالیسی سے آگاہ ہیں۔ اگر نئے صوبوں کا معاملہ محض سیاسی شوشا نہیں تو جہاں اتفاق رائے موجود ہے وہاں صوبے کیوں نہیں بنائے جا رہے؟ گلگت میں بھی اس حوالے سے پیش رفت ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو حکومت پر تنقید کا حق حاصل ہے، لیکن ان کی جماعت کے ارکان بھی دہشت گردوں کے حملوں میں شہید ہوئے ہیں۔
ایسے میں انہیں دہشت گردی کے خلاف واضح مؤقف اختیار کرنا چاہیے تھا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات پر سیاست نہیں ہونی چاہیے، بلکہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششیں کی جانی چاہئیں۔


