میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
معروف گلوکارہ میشا شفیع ہراسگی کیس سپریم کورٹ پہنچ گیا

معروف گلوکارہ میشا شفیع ہراسگی کیس سپریم کورٹ پہنچ گیا

ویب ڈیسک
پیر, ۱۱ جنوری ۲۰۲۱

شیئر کریں

معروف گلوکارہ میشا شفیع ہراسگی کیس سپریم کورٹ پہنچ گیا ،عدالت نے جنسی ہراسگی کے کیس میں گلوکارہ میشا شفیع کی اپیل ابتدائی سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے اسے جنسی ہراسانی کی تعریف کے ازخود نوٹس کے ساتھ منسلک کردیا۔پیر کوسپریم کورٹ میں جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے میشا شفیع ہراسانی کیس کی سماعت کی ۔دوران سماعت لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف میشا شفیع کی اپیل ابتدائی سماعت کے لیے منظور کرلی گئی۔عدالت نے علی ظفر اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے علی ظفر کے وکیل سے تحریری جواب طلب کرلیا۔دورانِ سماعت میشا شفیع کے وکیل خواجہ احمد حسن نے موقف اپنایا کہ لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ ہراسانی کی شکایت صرف متعلقہ ادارے کے ملازمین کر سکتے ہیں، ہراسانی قانون کے تحت کسی کے خلاف شکایت کے لیے شکایت کنندہ کا اس کا ملازم ہونا ضروری نہیں، تعلیمی اداروں میں بھی ہراسانی کا قانون لاگو ہوتا ہے ۔اس موقع پر علی ظفر کے وکیل نے کہاکہ سپریم کورٹ کیس کے میرٹس کو نا دیکھے ، وفاقی محتسب اور لاہور ہائیکورٹ میشا شفیع کی درخواست خارج کرچکے ۔اس پر عدالت نے کہا کہ ہم کیس کا فیصلہ نہیں کررہے ، صرف قانونی نکات کی وضاحت کے لیے نوٹس کیا ہے ، جو نکات اٹھائے گئے ان کا جائزہ لینا ضروری ہے ، میشا شفیع کے وکیل کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات غور طلب ہیں۔عدالت نے کیس کو جنسی ہراسانی کی تعریف کے لیے گئے ازخود نوٹس کے ساتھ منسلک کردیا۔عدالت نے کہا کہ جنسی ہراسانی کی تعریف پر لیا گیا ازخودنوٹس بھی زیرسماعت ہے ۔کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی گئی۔


مزید خبریں

دمشق: بشار الاسد کی شامی حکومت کے ڈرامائی زوال نے ان کی حکومت کے تاریک پہلوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے، جن میں ممنوعہ منشیات کیپٹاگون کی صنعتی سطح پر برآمد شامل ہے۔  زرائع کے مطابق اپوزیشن فورسز نے ان اڈوں اور تقسیم کے مراکز پر قبضہ کر لیا ہے جہاں یہ نشہ آور گولیاں تیار کی جاتی تھیں اور پورے مشرق وسطیٰ میں بلیک مارکیٹ میں فروخت کی جاتی تھیں۔ ہیئت تحریر الشام کے زیر قیادت ان جنگجوؤں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے منشیات کی ایک بڑی کھیپ قبضے میں لے لی ہے اور اسے تباہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔  ایچ ٹی ایس کے جنگجوؤں نے اے ایف پی کے صحافیوں کو دمشق کے مضافات میں ایک کوئلے کے گودام تک رسائی دی، جہاں کیپٹاگون گولیوں کو برقی آلات کے پرزوں کے اندر چھپا کر برآمد کیا جا رہا تھا۔  گودام کے نیچے موجود ایک بڑے گیراج میں، ہزاروں کی تعداد میں مٹیالے رنگ کی کیپٹاگون گولیاں نئی گھریلو وولٹیج اسٹیبلائزرز کی تانبے کی کوائلز میں چھپائی گئی تھیں۔  ابو مالک الشامی نامی ایک نقاب پوش جنگجو نے کہا،

دمشق: بشار الاسد کی شامی حکومت کے ڈرامائی زوال نے ان کی حکومت کے تاریک پہلوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے، جن میں ممنوعہ منشیات کیپٹاگون کی صنعتی سطح پر برآمد شامل ہے۔ زرائع کے مطابق اپوزیشن فورسز نے ان اڈوں اور تقسیم کے مراکز پر قبضہ کر لیا ہے جہاں یہ نشہ آور گولیاں تیار کی جاتی تھیں اور پورے مشرق وسطیٰ میں بلیک مارکیٹ میں فروخت کی جاتی تھیں۔ ہیئت تحریر الشام کے زیر قیادت ان جنگجوؤں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے منشیات کی ایک بڑی کھیپ قبضے میں لے لی ہے اور اسے تباہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ایچ ٹی ایس کے جنگجوؤں نے اے ایف پی کے صحافیوں کو دمشق کے مضافات میں ایک کوئلے کے گودام تک رسائی دی، جہاں کیپٹاگون گولیوں کو برقی آلات کے پرزوں کے اندر چھپا کر برآمد کیا جا رہا تھا۔ گودام کے نیچے موجود ایک بڑے گیراج میں، ہزاروں کی تعداد میں مٹیالے رنگ کی کیپٹاگون گولیاں نئی گھریلو وولٹیج اسٹیبلائزرز کی تانبے کی کوائلز میں چھپائی گئی تھیں۔ ابو مالک الشامی نامی ایک نقاب پوش جنگجو نے کہا، "جب ہم نے گودام میں داخل ہو کر تلاشی لی، تو ہمیں پتہ چلا کہ یہ فیکٹری ماہر الاسد اور اس کے ساتھی عامر خیتی کی ہے۔" ماہر الاسد سابق صدر بشار الاسد کا بھائی تھا، اب مفرور سمجھا جا رہا ہے۔ اس پر منشیات کی منافع بخش تجارت کے پیچھے ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام ہے۔ شامی سیاستدان عامر خیتی پر 2023 میں برطانوی حکومت نے پابندیاں عائد کی تھیں۔ 

Author One
جمعه, ۱۳ دسمبر ۲۰۲۴

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں