میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
خضدار میں پیپلزپارٹی رہنما کے گھر خود کش حملہ ،5 پولیس اہلکاروں سمیت 12 افراد شہید

خضدار میں پیپلزپارٹی رہنما کے گھر خود کش حملہ ،5 پولیس اہلکاروں سمیت 12 افراد شہید

جرات ڈیسک
جمعرات, ۹ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

خضدار میں پی پی پی رہنما شفیق مینگل کی رہائش گاہ پر بی ایل اے کا گرینڈ خودکش حملہ

خضدار میں بدھ کی دوپہر پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما میر شفیق الرحمان مینگل کی رہائش گاہ پر خود کش حملے میں 12 افراد شہید اور 10 سے زائد زخمی ہو گئے۔

کالعدم بی ایل اے کے ‘مجید بریگیڈ’ نے خودکش اور مسلح حملہ کیا۔ سب سے پہلے بارود سے بھری گاڑی مرکزی دروازے سے ٹکرائی گئی، جس کے بعد 4 سے 5 خودکش حملہ آور کمپاؤنڈ میں داخل ہو گئے۔

شفیق مینگل اور ان کے محافظوں نے فرنٹ لائن پر آ کر ڈٹ کر مقابلہ کیا، جس کے نتیجے میں تمام حملہ آور مارے گئے تاہم فائرنگ اور دھماکوں کے تبادلے میں 5 پولیس اہلکاروں سمیت 12 افراد شہید اور 10 سے زائد زخمی ہو گئے۔

شفیق مینگل حملے میں محفوظ رہے، تاہم انہوں نے پولیس پر تاخیر سے پہنچنے کا الزام لگاتے ہوئے تفتیشی ٹیموں کو فی الحال جائے وقوعہ کے معائنے سے روک دیا ہے۔

واضح رہے کہ شفیق مینگل سابق وفاقی وزیر میر نصیر مینگل کے بیٹے ہیں اور ماضی میں بھی ان پر متعدد ہولناک حملے ہو چکے ہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے سہولت کاروں کی فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے۔

مجموعی طور پر حملے میں 12 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں خضدار پولیس کے 5 اہلکار بھی شامل ہیں۔ زخمیوں میں میر شفیق مینگل کے چچا اور ڈسٹرکٹ کونسل خضدار کے وائس چیئرمین اقبال بلوچ بھی شامل ہیں۔

واقعے کے بعد ایک نیا تنازع اس وقت کھڑا ہوا جب میر شفیق مینگل نے پولیس کی تفتیشی اور فورینزک ٹیموں کو جائے وقوعہ کا معائنہ کرنے سے روک دیا۔

ان کا مؤقف تھا کہ پولیس نے پہنچنے میں تاخیر کی اور انہیں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ تنہا ہی دہشت گردوں کا مقابلہ کرنا پڑا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس بزدلانہ کارروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور حملہ آوروں کا بہادری سے مقابلہ کرنے پر شفیق مینگل کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو سہولت کاروں کی فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں