میگزین

Magazine
تازہ ترین : فضل الرحمان کے قریبی رفقا نشانہ، مولانا کی اسلام آباد رہائش گاہ کے مالک کو بھی نوٹس جاری امریکی انتخابات، ٹرمپ نے شکست تسلیم کرلی، ڈیموکریٹس کے ساتھ  کام کرنے کا اعلان تکنیکی اور آپریشنل وجوہات،کراچی ایئرپورٹ پر 8 پروازیں منسوخ ڈیموکریٹ امیدوار نبیلہ سید الینوائے کی ریاستی سینیٹ کی رکن منتخب جسٹس منصور کے انٹرویو پر الیکشن کمیشن کا بڑا جواب، پی ٹی آئی کے انتخابی نشان اور مخصوص نشستوں کا پنڈورہ باکس کھل گیا ایف آئی آردرج ہونا جرم نہیں، بریت کے بعد ملازمت سے محرومی غیرقانونی قرار، آئینی عدالت امریکا کا سعودی عرب میں سیکیورٹی الرٹ دوبارہ جاری، غیر ہنگامی عملے کو ملک چھوڑنے کی ہدایت ایران: شہریوں کو ممکنہ جوہری حملے کی صورت میں محفوظ رکھنے کے لیے ہنگامی ہدایات جاری پیٹرول کی قیمت کا کھیل، عالمی منڈی سے پاکستانی پمپ تک، اربوں روپے کس کی جیب میں جاتے ہیں؟ محکمہ اطلاعات، اشتہارات میں من پسند اور کم ریٹنگ والے چینلز پر نوازشیں

ای پیج

e-Paper
دعا منگی کی بازیابی میں پولیس کی مکمل ناکامی سامنے آ گئی

دعا منگی کی بازیابی میں پولیس کی مکمل ناکامی سامنے آ گئی

ویب ڈیسک
اتوار, ۸ دسمبر ۲۰۱۹

شیئر کریں

شہر قائد کے علاقے ڈیفنس سے تاوان کے لیے اغوا ہونے والی دعا منگی کی بازیابی میں پولیس کی مکمل ناکامی سامنے آ گئی۔ تفصیلات کے مطابق کراچی پولیس دعا منگی کو بازیاب کرانے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے ، تاوان کی ادائیگی کے بعد ہی دعا ایک ہفتے بعد گھر پہنچی، معلوم ہوا ہے کہ تاوان کی ادائیگی اور دعا کی رہائی کا طریقہ کار سوشل میڈیا پر طے ہوا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دعا منگی کے اغوا میں ہائی ٹیک گروہ ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے ، اغوا کاروں نے دعا کے اہل خانہ سے بات کے دوران ویڈیو کال پر گھر کا جائزہ بھی لیا تھا، دعا کے اغوا میں ملوث گروہ پر پہلے بھی شہر میں واردات کا شبہ ہے ، مئی میں ڈیفنس ہی سے اغوا ہونے والی بسمہ کے کیس میں بھی یہی گروہ ملوث تھا۔بسمہ اور دعا کے اغوا کے کیسز میں مماثلت بتائی جا رہی ہے ، بسمہ کو بھی بھاری تاوان کی ادائیگی کے بعد چھوڑا گیا تھا، سات مہینے گزرنے کے بعد بھی بسمہ کیس کے ملزمان گرفتار نہیں ہوئے ، سندھ پولیس دعا منگی کے کیس میں بھی مکمل طور پر بے بس نظر آ رہی ہے ۔صورت حال بتا رہی ہے کہ بسمہ کے بعد دعا منگی کے کیس میں بھی پولیس خاموشی اختیار کر کے اس کیس کو رفتہ رفتہ بھول جائے گی۔ ہائی پروفائل کیس میں پولیس سمیت دیگر تحقیقاتی ادارے بھی کام کر رہے تھے تاہم دعا کو تاوان کے ذریعے ہی رہائی ملی، جب کہ پولیس اغوا کاروں کی گاڑی سے مماثلت رکھنے والی گاڑی برآمد کرنے تک ہی محدود رہی، ایک ہفتہ گزرنے کے بعد بھی پولیس کو ملزمان سے متعلق ایک بھی کلیو ہاتھ نہیں آیا۔خیال رہے کہ دعا منگی کو 30 نومبر کو کراچی کے علاقے ڈیفینس خیابان بخاری سے نامعلوم اغوا کاروں نے اٹھایا تھا، جب کہ اس کے ساتھ موجود دوست حارث کو گولی مار کر زخمی کر دیا تھا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں