آپ کے مسائل اور اُن کا حل
شیئر کریں
مفتی محمد وقاص رفیع
پرائز بانڈ خرید کر آگے بیچنے کا حکم:
سوال: میں نے دس لاکھ کے پرائز بانڈ خریدے ہیں اور ہماری دسویں مہینے میں قرعہ اندازی ہے، اب ایک شخص کہہ رہا ہے کہ یہ دس لاکھ کے پرائز بانڈ مجھے ستر ہزار روپے منافع کے عوض دس لاکھ ستر ہزار روپے میں بیچ دو تو کیا ایسا کرنا جائز ہے؟ جب کہ میرا دل ایسا کرنے سے روک رہا ہے۔ جواب عنایت فرماکر مشکور و ممنون فرمائیں۔ سائل: زبیر صدیقی(لاہور)
جواب:پرائز بانڈ خریدنا بذاتِ خود جوا اور حرام ہے اور پھر اسے آگے بیچنا حرام در حرام ہے۔ آپ کو چاہیے کہ آپ یہ پرائز بانڈ متعلقہ بینک کو واپس کریں ان سے اپنے پیسے واپس لیں اور اس پر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں۔ فقط واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
مسجد میں سلام کرنے کا حکم:
سوال: میرا سوال یہ ہے کہ جب ہم لوگ وضو وغیرہ کرکے مسجد میں داخل ہوجاتے ہیں تو وہاں جو لوگ پہلے سے موجود ہوتے ہیں اُن کو سلام کرنا چاہیے یا نہیں؟ سائل: وکیل احمد مری
جواب:مسجد میں اگر لوگ ویسے ہی بیٹھے ہوئے ہوں اور ذکر واذکار نماز وغیرہ میں مصروف نہ ہوں تو پھر ان کو سلام کرنا چاہیے اور اگروہ ذکر و اذکار اور نماز وغیرہ میں مصروف ہوں تو پھر سلام نہیں کرنا چاہیئے۔فقط واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
شوہر کی اجازت کے بغیر اپنے مال میں سے رشتہ داروں کو قرض دینے کا حکم:
سوال: ایک خاتون نے پوچھا ہے کہ میں اپنے رشتہ داروں کو اپنے مال میں سے کسی مصلحت کے تحت قرض دیتی ہوں اور اپنے شوہر کو نہیں بتاتی اور شوہر اس بات کو اچھا بھی نہیں سمجھتا کہ میں رشتہ داروں کو قرض دوں توکیا اس میں میں گنہگار ہوں گی۔
جواب: بیوی اپنے مال میں سے اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر اپنے رشتہ داروں کو قرض دے سکتی ہے اور اس میں اس کو گناہ نہیں ملے گا۔ فقط واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم مجلۃ الاحکام العدلیہ المادۃ:1192
جاز کیش کا سودی قرض اتارنے کی نیت سے کسی سے چندہ کی اپیل کرنے کا حکم:
سوال: مفتی صاحب ایک خاتون کا مسئلہ ہے کہ اس نے جیز کیش سے قرض لیا تھا جو سود پر ملتا ہے اس خاتون کا کہنا ہے کہ اس کا شوہر بیمار تھا اور یہ کرائے والے گھر پہ رہتی تھی آمدن کا ذریعہ نہیں تھا مجبور ہو کر قرضہ لینا پڑا جو سود پر تھا جیز کیش سے چند لوگوں نے ایک تنظیم بنائی ہوئی ہے جہاں سے غریب لوگوں کی مدد کی جاتی ہے اس خاتون نے اس تنظیم والوں سے اپیل کی کہ مجھے اتنا پیسہ دیں کہ میں سود پر جو قرضہ لے چکی ہوں تقریبا ساٹھ ہزار وہ میں ادا کر لوں اور ساتھ وہ توبہ بھی کر رہی ہے کہ ائندہ میں یہ سود والا کام نہیں کرتی اور تنظیم والے کہہ رہے ہیں کہ ہم اپ کی کسی اور کام میں مدد کر دیں گے اپ کا کرایہ دے دیں گے یا کسی اور کام میں ہیلپ کر دیں گے لیکن یہ جو سودی قرضہ ہے یہ ہم نہیں اتاریں گے اس کے لیے ہم یہ پیسے نہیں دیں گے آپ رہنمائی کریں کیا اس سودی قرضے کو اتارنے کے لیے تنظیم والے اس کی ہیلپ کریں تو کیا ان کو اس پر اجر ملے گا؟ تنظیم والے کہتے ہیں اگر ہم نے اس کا سودی قرضہ اتار دیا تو ہو سکتا ہے کہ اس کو یہ عادت بن جائے اور دوبارہ پھر یہ کام کرے تو اس لیے وہ سود کے قرضے کو اتارنے میں ڈر رہے ہیں یہ کہیں ہم اس میں شریک ہو کر گنہگار نہ ہو جائے۔ اور خاتون کا کہنا ہے کہ میں پکی توبہ کر چکی ہوں آئندہ میں سودی قرضہ نہیں لوں گی۔ سائلہ: تنزیلہ بیگم(سپین)
جواب: شریعت یہ کہتی ہے کہ آپ ہر دوسرے شخص کے بارے میں اچھا گمان ہی رکھیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر اس خاتون کے اس نیک کام میں شریک ہوکر اس کا مالی تعاون ضرور کریں آپ کو اس پر پورا پورا اجر و ثواب ملے گا، باقی وہ خاتون آئندہ ایسے کرے گی یا نہیں کرے اسے اس کام کی عادت پڑے گی یا نہیں پڑے گی اس کے اس معاملہ کو آپ اس کے اور اللہ کے درمیان چھوڑ دیں آپ کو آپ کی اس نیکی ہر پورا اجر ملے گا۔ فقط واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم
ٹینکی میں پرندہ گرجائے تو اسے پاک کرنے کا ھکم؟
سوال: ہماری ایک ٹینکی ہے جس میں ہمیں ایک مرا ہوا پرندہ ملا ہے، پانی میں اس کی بدبو پیدا ہوچکی ہے، ہم نے ٹینکی سے وہ پرندہ نکال کر اسے ایک سے دو مرتبہ صاف کیا ہے، تو کیا اب ہم اس ٹینکی کے پانی کو اپنے استعمال میں لاسکتے ہیں؟ سائل: روح اللہ (لکی مروت)
جواب: ایک دو مرتبہ ٹینکی کو پاک صاف کرنے سے وہ پاک نہیں ہوگی بلکہ اسے تین مرتبہ پاک پانی سے دھویا جائے گا تب وہ پاک ہوگی۔ فقط واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
طلاق کے پییر پڑھے بغیر اس کے نوٹس پر انگوٹھا لگانے کا حکم:
سوال:حضرت مفتی صاحب!میرا ایک نہایت اہم شرعی مسئلہ ہے، براہِ کرم قرآن، سنت، فقہِ حنفی اور معتبر فتاویٰ کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ میں اپنی بیوی کے ساتھ کورٹ گیا تھا۔ میرے سسر تین طلاقیں لکھوانا چاہتے تھے، لیکن میں نے ان سے کہا تھا کہ تین طلاقیں نہ لکھوائیں، اس کے بعد وکیل نے طلاق کا نوٹس تیار کروایا۔ جب نوٹس پرنٹ ہو رہا تھا تو میری بیوی نے مجھے اشارہ کیا کہ اس میں ”طلاقِ ثلاثہ” لکھی ہوئی ہے، لیکن میں نے پھر بھی نوٹس کو نہیں پڑھا۔ میری وجہ یہ تھی کہ میری نیت طلاق دینے کی نہیں تھی، اور مجھے ڈر تھا کہ کہیں پڑھنے یا اس
معاملے میں پڑنے سے میں واقعی طلاق نہ دے بیٹھوں۔ وکیل بار بار مجھ پر زور دے رہے تھے کہ انگوٹھا لگا دو، چنانچہ میں نے بغیر پڑھے انگوٹھا لگا دیا۔اس کے بعد وکیل نے مجھ سے کہا کہ اب زبانی طلاق بھی دو، لیکن میں نے زبانی ایک بھی طلاق نہیں دی، نہ ”طلاق” کا لفظ کہا، نہ کوئی اقرار کیا، بلکہ خاموش رہا۔
میری نیت نہ تین طلاق دینے کی تھی اور نہ زبانی طلاق دینے کی۔
میرے سوالات یہ ہیں:
1۔ کیا اس صورت میں صرف بغیر پڑھے نوٹس پر انگوٹھا لگانے سے شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے؟
2۔ اگر واقع ہوتی ہے تو ایک طلاق ہوتی ہے یا تین؟
3۔ اگر میری نیت طلاق کی نہیں تھی اور میں نے زبانی بھی طلاق نہیں دی، تو اس کا شرعی حکم کیا ہے؟
4۔ کیا اس صورت میں رجوع کی گنجائش ہے یا نکاح بدستور قائم ہے؟
5۔ براہِ کرم قرآن، احادیث، فقہِ حنفی اور معتبر علماء کے فتاویٰ کی روشنی میں تفصیلی جواب عنایت فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً۔ سائل: شاہ فہد(کراچی)
جواب: 1۔پڑھے بغیر نوٹس پر انگوٹھا لگانے سے یہاں شرعاً طلاق واقع ہوگئی ہے کیوں کہ آپ کو معلوم تھا کہ یہ طلاق نامہ کا پیپر ہے اور بیوی نے آپ کو اشارہ کرکے بتا دیا تھا کہ اس میں تین طلاقیں لکھی ہوئی ہیں۔
2۔تین طلاقیں واقع ہوئی ہیں۔
3۔یہاں نیت کا اعتبار نہیں ہوتا بلکہ طلاق کی نیت کی ہو یا نہ کی ہو بہرحال طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں۔
4۔چوں کہ تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں اس لئے رجوع کی کوئی گنجائش نہیں ہے رجوع تین سے کم طلاقوں کی صورت میں ہوتا ہے۔
5۔آپ کو یہ جواب قرآن وحدیث اور فقہ حنفی اور معتبر علماء کے فتاویٰ کی روشنی میں دیا جارہا ہے۔ فقط واللہ سبحانہ وتعالی اعلم


