میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
نئی متبادل توانائی پالیسی  متفقہ طور پر منظور

نئی متبادل توانائی پالیسی متفقہ طور پر منظور

ویب ڈیسک
جمعه, ۷ اگست ۲۰۲۰

شیئر کریں

مشترکہ مفادات کونسل میں تمام وزرا ئے اعلی نے نئی متبادل توانائی پالیسی متفقہ طور پر منظور کر لی۔ جمعرات کو وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ہوا جس اوھرا ترمیمی آرڈیننس پر غور کیا گیا ۔ اعلامیہ کے مطابق کونسل نے وزارت پٹرولیم کو صوبوں سے مشاورت کے بعد آرڈیننس پر کام مکمل کرنے کا ٹاسک سونپ دیا ۔ اعلامیہ کے مطابق چشمہ بیراج کا کے زیریں پورشن کا کنٹرول حوالے کرنے سے متعلق پنجاب حکومت کی درخواست پر غور کیا گیا ۔ اعلامیہ کے مطابق مشترکہ مفادات کونسل نے پنجاب حکومت کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے معاملے پر کمیٹی تشکیل دی ،کمیٹی میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کے نمائندے شامل ہوں گے ،کمیٹی چشمہ بیراج کے لوور پورشن کا کنٹرول وزارت آبی وسائل سے لے کر پنجاب حکومت کو دینے کے حوالے معاملے کو حتمی شکل دے گی،سی سی آئی نے نیشنل ایجوکیشن کمیشن اور ہیومن ڈیولپمنٹ اینڈ بیسک کمینونٹی اسکول کے مستقبل میں کردار کا جائزہ لیا ،کونسل نے وزارت تعلیم سے معاملات صوبوں کے حوالے کرنے کی منظوری دیدی۔ وفاقی وزیر عمر ایوب نے اپنے ٹوئٹ میں کہاکہ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل میں تمام وزرا ئے اعلی نے نئی متبادل توانائی پالیسی متفقہ طور پر منظور کر لی،فیصلے سے پاور سیکٹر میں ایک نیا انقلاب پربا ہونے والاہے۔


مزید خبریں

دمشق: بشار الاسد کی شامی حکومت کے ڈرامائی زوال نے ان کی حکومت کے تاریک پہلوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے، جن میں ممنوعہ منشیات کیپٹاگون کی صنعتی سطح پر برآمد شامل ہے۔  زرائع کے مطابق اپوزیشن فورسز نے ان اڈوں اور تقسیم کے مراکز پر قبضہ کر لیا ہے جہاں یہ نشہ آور گولیاں تیار کی جاتی تھیں اور پورے مشرق وسطیٰ میں بلیک مارکیٹ میں فروخت کی جاتی تھیں۔ ہیئت تحریر الشام کے زیر قیادت ان جنگجوؤں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے منشیات کی ایک بڑی کھیپ قبضے میں لے لی ہے اور اسے تباہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔  ایچ ٹی ایس کے جنگجوؤں نے اے ایف پی کے صحافیوں کو دمشق کے مضافات میں ایک کوئلے کے گودام تک رسائی دی، جہاں کیپٹاگون گولیوں کو برقی آلات کے پرزوں کے اندر چھپا کر برآمد کیا جا رہا تھا۔  گودام کے نیچے موجود ایک بڑے گیراج میں، ہزاروں کی تعداد میں مٹیالے رنگ کی کیپٹاگون گولیاں نئی گھریلو وولٹیج اسٹیبلائزرز کی تانبے کی کوائلز میں چھپائی گئی تھیں۔  ابو مالک الشامی نامی ایک نقاب پوش جنگجو نے کہا،

دمشق: بشار الاسد کی شامی حکومت کے ڈرامائی زوال نے ان کی حکومت کے تاریک پہلوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے، جن میں ممنوعہ منشیات کیپٹاگون کی صنعتی سطح پر برآمد شامل ہے۔ زرائع کے مطابق اپوزیشن فورسز نے ان اڈوں اور تقسیم کے مراکز پر قبضہ کر لیا ہے جہاں یہ نشہ آور گولیاں تیار کی جاتی تھیں اور پورے مشرق وسطیٰ میں بلیک مارکیٹ میں فروخت کی جاتی تھیں۔ ہیئت تحریر الشام کے زیر قیادت ان جنگجوؤں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے منشیات کی ایک بڑی کھیپ قبضے میں لے لی ہے اور اسے تباہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ایچ ٹی ایس کے جنگجوؤں نے اے ایف پی کے صحافیوں کو دمشق کے مضافات میں ایک کوئلے کے گودام تک رسائی دی، جہاں کیپٹاگون گولیوں کو برقی آلات کے پرزوں کے اندر چھپا کر برآمد کیا جا رہا تھا۔ گودام کے نیچے موجود ایک بڑے گیراج میں، ہزاروں کی تعداد میں مٹیالے رنگ کی کیپٹاگون گولیاں نئی گھریلو وولٹیج اسٹیبلائزرز کی تانبے کی کوائلز میں چھپائی گئی تھیں۔ ابو مالک الشامی نامی ایک نقاب پوش جنگجو نے کہا، "جب ہم نے گودام میں داخل ہو کر تلاشی لی، تو ہمیں پتہ چلا کہ یہ فیکٹری ماہر الاسد اور اس کے ساتھی عامر خیتی کی ہے۔" ماہر الاسد سابق صدر بشار الاسد کا بھائی تھا، اب مفرور سمجھا جا رہا ہے۔ اس پر منشیات کی منافع بخش تجارت کے پیچھے ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام ہے۔ شامی سیاستدان عامر خیتی پر 2023 میں برطانوی حکومت نے پابندیاں عائد کی تھیں۔ 

Author One
جمعه, ۱۳ دسمبر ۲۰۲۴

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں