اقتدار کا غرور اور عوامی احساسات کی بے توقیری
شیئر کریں
جمہوری نظام کی اصل روح یہ ہے کہ حکمران خود کو عوام کا خادم سمجھیں، ان کے مسائل کو اپنا مسئلہ جانیں اور ریاستی وسائل کو عوام کی امانت تصور کریں۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب اقتدار خدمت کے بجائے مراعات، اختیار اور غرور کی علامت بن جائے تو حکمران اور عوام کے درمیان ایک ایسی خلیج پیدا ہو جاتی ہے جو اعتماد، احترام اور وابستگی کے تمام رشتوں کو کمزور کر دیتی ہے۔
حالیہ دنوں میں سامنے آنے والا جملہ جہاز خریدا ہے بھائی محض چند الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ایسے طرزِ فکر کی عکاسی کرتا ہے جس میں عوامی احساسات، معاشی مشکلات اور قومی وسائل کی اہمیت پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ یہ جملہ اس حقیقت کی یاد دہانی بھی کراتا ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے افراد اگر عوامی دکھ درد سے کٹ جائیں تو ان کے الفاظ بھی عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف بن جاتے ہیں۔
پاکستان سمیت دنیا کے بہت سے ممالک میں عوام آج شدید معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، بجلی اور گیس کے بڑھتے ہوئے نرخ، تعلیم اور صحت کی مہنگی سہولیات، اور روزمرہ زندگی کے مسائل نے عام آدمی کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ ایک مزدور جو دن بھر محنت کے باوجود اپنے بچوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہو، ایک سرکاری ملازم جو محدود تنخواہ میں بڑھتے ہوئے اخراجات کا بوجھ اٹھا رہا ہو، ایک نوجوان جو تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھی روزگار کے لیے دربدر پھر رہا ہو، ان سب کے لیے ایسے بیانات نہایت تکلیف دہ ہوتے ہیں۔ جب عوام اپنے مسائل کے حل کی امید حکمرانوں سے لگائے بیٹھے ہوں اور جواب میں انہیں بے نیازی یا تمسخر کا تاثر ملے تو مایوسی اور بداعتمادی میں اضافہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔ڈاکٹر طاہر القادری نے برسوں پہلے اپنی تقاریر اور تحریروں میں اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی تھی کہ اقتدار جب جوابدہی سے آزاد ہو جائے اور حکمران طبقہ عوامی مشکلات سے لاتعلق ہو جائے تو ریاستی نظام کمزور ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق حکمرانی کا اصل مقصد عوام کی خدمت،انصاف کا قیام اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ہے۔ اگر اقتدار عوامی خدمت کے بجائے ذاتی مفادات، پروٹوکول اور شاہانہ طرزِ زندگی کا ذریعہ بن جائے تو معاشرے میں بے چینی، محرومی اور احساسِ ناانصافی جنم لیتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جب عوام اپنے نمائندوں سے جذباتی اور فکری طور پر دور ہونے لگتے ہیں۔
تاریخ کے صفحات اس حقیقت سے بھرے پڑے ہیں کہ قوموں کا عروج صرف مضبوط معیشت یا بڑی فوجوں سے وابستہ نہیں ہوتا بلکہ حکمرانوں کے کردار، انکساری اور عوام دوستی سے بھی جڑا ہوتا ہے۔ اسلامی تاریخ میں خلفائے راشدین کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ، حضرت عثمان غنیؓ اور حضرت علیؓ نے اقتدار کو اعزاز نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھا۔ حضرت عمر فاروقؓ کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ راتوں کو مدینہ کی گلیوں میں عوام کے حالات جاننے کے لیے نکلتے تھے اور خود کو رعایا کے ہر فرد کے سامنے جوابدہ سمجھتے تھے۔ یہی احساسِ ذمہ داری ایک حکمران کو عوام کے دلوں میں زندہ رکھتا ہے۔ اس کے برعکس جب حکمران طبقہ خود کو عوام سے برتر سمجھنے لگے تو اقتدار اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔
جہاز خریدا ہے بھائی جیسے جملے دراصل ایک بڑی سوچ کی علامت ہوتے ہیں۔ یہ سوچ اس تصورکو تقویت دیتی ہے کہ ریاستی وسائل پر عوام کے بجائے چند مخصوص افراد کا حق زیادہ ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ قومی خزانہ عوام کے ٹیکسوں، محنت اور قربانیوں سے بنتا ہے۔ ریاستی وسائل کا ہر استعمال عوام کے سامنے جوابدہی کا تقاضا کرتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں بھی جب حکومتی اخراجات پر سوالات اٹھتے ہیں تو حکمران وضاحت پیش کرتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ عوامی اعتماد ہی ان کی اصل طاقت ہے۔ لیکن جب سوال اٹھانے والوں کو طنز یا تمسخر کا سامنا کرنا پڑے تو یہ جمہوری رویوں کے لیے ایک خطرناک علامت بن جاتا ہے۔
معاشروں میں قیادت کا کردار صرف فیصلے کرنا نہیں بلکہ عوام کے جذبات کی ترجمانی کرنا بھی ہوتا ہے۔ ایک رہنما کے الفاظ لاکھوں لوگوں کے احساسات پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اگر قیادت سادگی، تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرے تو عوام میں امید اور اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ لیکن اگر قیادت کے الفاظ میں غرور،بے نیازی یا احساسِ برتری جھلکے تو عوام کے دلوں میں فاصلے پیدا ہونے لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں کامیاب رہنماؤں کو ان کی عاجزی، خدمت اور عوامی رابطے کی وجہ سے یاد رکھا جاتا ہے، نہ کہ ان کی مراعات اور پروٹوکول کی وجہ سے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں یہ مسئلہ مزید حساس ہو جاتا ہے کیونکہ یہاں ایک بڑی آبادی غربت اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔ لاکھوں افراد خطِ غربت کے قریب زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ نوجوان نسل بہتر مستقبل کی تلاش میں مشکلات سے نبرد آزما ہے۔ ایسے حالات میں حکمران طبقے کی ہر حرکت اور ہر بیان عوامی توجہ کا مرکز بنتا ہے۔ اگر ان بیانات میں عوامی مسائل کا ادراک نظر آئے تو اعتماد بڑھتا ہے، لیکن اگر ان میں لاپروائی یا تکبر کا تاثر ہو تو عوامی ردعمل فطری ہوتا ہے۔
جمہوریت صرف ووٹ لینے کا نام نہیں بلکہ عوام کے سامنے جوابدہ رہنے کا نام بھی ہے۔ عوام اپنے نمائندوں کو اس لیے منتخب کرتے ہیں
کہ وہ ان کے مسائل حل کریں، ان کی آواز بنیں اور ان کے وسائل کیحفاظت کریں۔ جب حکمران عوامی توقعات پر پورا اترتے ہیں تو جمہوری نظام مضبوط ہوتا ہے، لیکن جب عوام کو یہ محسوس ہونے لگے کہ ان کی مشکلات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا تو جمہوریت کی بنیادیں کمزور ہونے لگتی ہیں۔ اسی لیے ہر ذمہ دار قیادت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے الفاظ اور طرزِ عمل میں احتیاط، سنجیدگی اور عوامی احترام کو مقدم رکھے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ حکمران طبقہ عوام کے دکھ درد کو سمجھے، ان کے مسائل کو محسوس کرے اور اپنی ترجیحات کو عوامی ضروریات کے مطابق ترتیب دے۔ قومی وسائل کے استعمال میں شفافیت، سادگی اور جوابدہی کو فروغ دیا جائے۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ عوام کے ساتھ ایسے اندازمیں گفتگو کریں جس سے احترام، اعتماد اور ہمدردی کا پیغام ملے۔ کیونکہ قومیں صرف ترقیاتی منصوبوں سے نہیں بلکہ اعتماد، انصاف
اور باہمی احترام سے مضبوط ہوتی ہیں۔
جہاز خریدا ہے بھائی کا جملہ وقت گزرنے کے ساتھ شاید خبروں سے محو ہو جائے، لیکن اس نے ایک اہم سوال ضرور چھوڑ دیا ہے کہ کیا ہمارے حکمران واقعی عوام کے مسائل کو اپنی ترجیح سمجھتے ہیں؟ کیا اقتدار خدمت کا ذریعہ ہے یا مراعات کا؟ کیا عوام اور حکمران ایک ہی حقیقت میں زندگی گزار رہے ہیں یا دونوں کے درمیان فاصلے ناقابلِ تصور حد تک بڑھ چکے ہیں؟ ان سوالات کے جواب ہی کسی بھی قوم کے مستقبل کا تعین کرتے ہیں۔ اگر اقتدار عاجزی، خدمت اور جوابدہی کے اصولوں پر استوار ہو تو عوام کا اعتماد بحال رہتا ہے، لیکن اگر غرور، بے حسی اور احساسِ برتری غالب آ جائیں تو پھر چند الفاظ بھی پورے نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن جاتے ہیں۔
٭٭٭


