میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
بلوچستان کے حالات دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے، جسٹس جمال مندوخیل

بلوچستان کے حالات دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے، جسٹس جمال مندوخیل

جرات ڈیسک
جمعه, ۶ نومبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

کوئٹہ اس صورتحال تک کیسے پہنچا؟ یہ غور طلب بات ہے، بلوچستان بارکونسل کے عشائیے سے خطاب

 

سپریم کورٹ کے جج جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا ہے کہ بلوچستان کے موجودہ حالات دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے، صوبے میں امن کی بحالی کے لیے سب کو مل بیٹھ کر غور کرنا ہوگا۔بلوچستان بار کونسل کے عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ انہوں نے اپنے پیشہ ورانہ کیریئر میں جو خدمات انجام دیں، وہ ان کی ذمہ داری اور فرض تھا۔

انہوں نے کہا کہ آج ہمیں کوئٹہ جاتے ہوئے احتیاط کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے جبکہ ایک وقت تھا جب وہ بغیر کسی محافظ کے کہیں بھی چلے جاتے تھے، صوبہ اس صورتحال تک کیسے پہنچا، یہ غور طلب بات ہے۔جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے حالات بہتر بنانا صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری کو اس کی وجوہات پر غور کرنا ہوگا، صوبے میں ماضی جیسے حالات واپس لانے کے لیے سب کو مل بیٹھ کر سوچنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں امن چاہیے کیونکہ امن ہوگا تو کاروبار چلے گا اور لوگ عدالتوں میں آسکیں گے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے سانحہ سول اسپتال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس سانحے کو نہیں بھول سکتے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں