میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
کھانا پکالو یا دوا لے آئو

کھانا پکالو یا دوا لے آئو

منتظم
بدھ, ۵ اکتوبر ۲۰۱۶

شیئر کریں

syed-amir-najeeb
سید عامر نجیب
کسی کو خبر ہے کہ خط غربت سے بھی نیچے زندگی گزارنے والے 4 کروڑ سے بھی زائد پاکستانی دن رات کس اذیت سے دو چار ہو رہے ہیں۔ عالمی سطح پر سرمایہ دارانہ نظام اور ملکی سطح پر ناکام معاشی پالیسیوں نے کروڑوں انسانوں سے ضروریات زندگی کی تکمیل کا حق بھی چھین لیا ہے ۔ خوراک ، لباس ، رہائش ، پینے کا صاف پانی ،تحفظ ، تعلیم ، صحت ، عزت نفس ، واٹر اینڈ سیوریج کی اطمینان بخش سہولتیں ، صاف ستھرے گلی کوچے ، بچوں کے کھیلنے کے لیے میدان اور خوبصورت پارکس ان تمام چیزوں کا تعلق انسانی ضروریات سے ہے ۔ تو کیا ہم اپنے عوام کو یہ ضروریات فراہم کر رہے ہیں ۔ اور ہاں عوام کی ایک بہت اہم ضرورت یہ بھی ہے کہ سرکاری محکموں اور انتظامی اداروں میں عزت کے ساتھ ان کی بات سنی جائے ،شنوائی کے اس حق سے بھی ہمارے عوام محروم ہیں ۔
عید الاضحی کے بعد دو دن کے لیے میرا تھر پار کر جانا ہوا ، نو کوٹ کے قریب گائوں میں وقت گزارا، میری بیگم جو گائوں کی عورتوں کے ساتھ گھل مل گئیں تھیں ، انھوں نے بتایا یہاں تمام عورتیں اپنی اصل عمر سے زیادہ عمر کی لگتی ہیں ۔ غربت کی اور بھی بہت سی کہانیاں سامنے آئیں لیکن جو بات قارئین کو بتانی ہے وہ یہ کہ جب میری فیملی گائوں کی عورتوں سے رخصت ہو کر باہرآئی تو ایک عورت بھی انکے ساتھ گاڑی تک آگئی حالانکہ گائوں کی باقی عورتیں پردے کی وجہ سے باہر نہیں آئیں تھیں ۔ عورت کی عمر 30۔ 35 سال کے درمیان ہوگی، وہ حلیہ سے بھی ابنارمل لگ رہی تھی ،میرے میزبان نے تصدیق کی کہ اس عورت کا دماغی توازن درست نہیں ہے اور یہ فلاں کی بیوی ہے ۔ جس آدمی کی طرف انھوں نے اشارہ کیا ان کی عمر بھی 35 سال کے لگ بھگ ہوگی ، گائوں میں قیام کے دوران اس شخص سے ملاقات ہوتی رہی تھی اس کے چہرے پر مسکراہٹ ہی نظر آتی تھی ، اس نے اپنی کسی پریشانی کا ذکر بھی مجھ سے نہیں کیا تھا ۔ میرے میزبان نے مزید بتایا کہ اس پاگل عورت کے چھ بچے ہیں ۔میں نے کہا کہ یہ آدمی جو اس کا شوہر ہے وہ بھی پاگل ہے کیا ؟ ہمارے میزبان قاری صاحب نے کہا کہ شوہر سے تو آپ ملے ہیں ، ہم اسے سمجھاتے ہیں لیکن پھر بھی یہ سلسلہ چلتا رہا ہے ۔ میں نے کہا کہ اس کا شوہر اس کا علاج نہیں کراتا ؟ جو جواب ملا وہ میرے لیے جھٹکا تھا ’’ اس کا شوہر ایک دوسرے گائوں کے مدرسے میں پڑھاتا ہے ، وہاں اس کی تنخواہ پانچ ہزار روپے ہے ،اس کے علاوہ اس کی کوئی آمدنی نہیں ، گائوں والوں نے تین ہزار روپے جمع کر کے اسے علاج کے لیے حیدرآباد بھجوادیا تھا لیکن وہ علاج مستقل نہیں ہو سکا اس لیے اس کا کوئی بھی فائدہ نہیں ہوا ‘‘۔ میرے میزبان بول رہے تھے اور میں اپنی جگہ پر سُن کھڑا تھا ۔
چھ بچوں کا باپ اور گھر کے واحد کفیل کی تنخواہ صرف پانچ ہزار روپے ۔ وہ اپنے بچوں کو کیا کھلا رہا ہے ، کیا پہنا رہا ہے ، وہ بیمار ہوجائیں تو کیا علاج کراسکتا ہے ، تعلیم و تربیت اس کے بعد کی بات ہے ۔ یہ پاکستان کے لاکھوں گھرانوں کی کہانی ہے جہاں بیماریاں پالی جا تی ہیں ۔ ٹوٹکوں کے ذریعے اپنے آپ کو جھوٹی تسلیاں دے کر بیماری کو بڑھایا جاتا ہے ۔ کراچی جیسے شہر میں بوڑھوں ، بچوں اور عورتوں کو بیماریوں کے ساتھ زندگی نبھانی پڑ رہی ہے ۔ گھر کا کفیل یہ کہنے پر مجبور ہوتا ہے کہ یا گھر میں ہانڈی پکالو یا ان پیسوں کی دوا لے آئو ۔ کہنے والے کہتے ہیں ’’ غریبوں کو جینے کا سلیقہ نہیں ہے ، چادر دیکھ کر پائوں نہیں پھیلاتے ۔ علاج کے لیے سرکاری اسپتال کھلے ہیں جہاں فری علاج ہوتا ہے ، سرکاری اسکولوں میں فری تعلیم کی سہولت ہے لیکن غریبوں کو بھی دن لگے ہوئے ہیں ‘‘ ۔ حقائق کیا ہیں ؟اپنے بوڑھے ماں باپ یا بیوی بچوں کو سرکاری اسپتال لے جانے کے لیے بھی چھٹی کرنی پڑتی ہے ، دیہاڑی ماری جاتی ہے ، رکشے کا کرایہ دینا پڑتا ہے اور اگر سرکاری اسپتال کے ڈاکٹر صاحب نے بھی میڈیسن کمپنی یا پرائیوٹ لیبارٹری کی نمک حلالی کرتے ہوئے دوائیں اور ٹیسٹ لکھ دیا تو اس ایک دن کا خرچ ہزار دو ہزار تک پہنچ جاتا ہے ۔ اس لیے عافیت اسی میں ہے کہ محلے کے کسی پرائیوٹ کلینک سے 50 روپے فیس دے کر دوا لے آئو یا کسی کے بتائے ہوئے ٹوٹکے پر عمل کر کے اپنے دل کو تسلی دے لو کہ علاج ہو رہا ہے ۔
جب سے سرمائے کا بہائو پراپرٹی کے شعبے کی طرف ہوا ہے غریب آدمی اب اپنے گھر کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتا ، کرائے کے مکانوں میں دھکے کھانے پر مجبور ہے ، آئے دن مکانات بدلنا معمول بن گیا ہے ۔کراچی شہر میں ایسے ہزاروں گھرانے ہیں جو صرف ایک کمرے کے مکان میں وہ بھی کرائے پر رہنے کے لیے مجبور ہیں ۔ ایک کمرے کا مطلب ایک کمرہ ہے جس میں کوئی صحن نہیں اور نہ ہی علیحدہ کچن ہے ۔ متوسط گھرانوں میں جو لوگ 80 یا 120 کے ڈبل اسٹوری مکانوں میں رہ رہے ہیں وہ بھی اکثر مشترکہ نظام کے تحت رہ رہے ہیں ، ان کے حصے میں بھی ایک ایک دو دو کمرے ہی آتے ہیں ، ایک کمرہ بڑے بھائی کی فیملی کا ، ایک کمرہ درمیانے بھائی کا اور ایک کمرہ چھوٹے بھائی کا ۔ اسی لیے اب خاندانوں میں ایک دوسرے کے گھر آناجانا بھی کم ہو گیا ہے ، کہاں بٹھائیں گے اورکہاں کھلائیں گے ؟ اسی لیے باہمی محبتیں بھی کم ہوگئی ہیں ۔
اگر اورنگی ٹائون یا نیو کراچی کے کسی محلے کی پرچون کی دکان پر جاکے کھڑے ہوں تو غریب آدمی کی قوت خرید کا پتا چل جاتا ہے ۔ ایک کلو آٹا،آدھا پائو گھی ، ایک پائو چینی ، دس روپے کی چائے ، آدھا آدھا پائو دالیں ، پچاس روپے کلو والے آدھاکلو چاول ۔۔۔ یہ سنی سنائی نہیں،مشاہدہ کیے ہوئے حقائق ہیں ۔ اس سے بڑی تلخ حقیقت یہ ہے کہ غریب علاقوںمیں غیر معیاری اشیاء مہنگے داموں میں ملتی ہیں اور امیر علاقوں میں معیاری اشیاء نسبتاً سستی ہوتی ہیں کیونکہ غریب آدمی اتنی کم مقدار میں خریدتا ہے کہ دکاندار سے بارگیننگ کرتے ہوئے بھی شرم آتی ہے ۔ امیروں کے لیے بڑے بڑے ڈیپارٹمنٹل اسٹور ہیں ،جہاں ریٹیل بھی ہول سیل ریٹ پر ہوتی ہے ۔
پاکستانی سماج میں بنیادی انسانی ضرورتوں کی فراہمی ایک بڑا چیلنج ہے لیکن شاید اس سے بھی بڑا چیلنج اپنی مذہبی و سیاسی قیادت کو انسانی حقوق کا سبق پڑھانا ہے جن کی ترجیحات انسانوں کو حقوق فراہم کرنے کے بجائے ان کے حقوق پامال کرنا ہی ہے ۔ ضروریات کو ترسنے والا پیپلز پارٹی ، (ن) لیگ ، تحریک انصاف، ایم کیو ایم ، اے این پی ، جماعت اسلامی اور دیگر سیاسی جماعتوں کا ووٹر بھی ہے اور اس کا تعلق بریلوی ، دیو بندی ، اہلحدیث اور شیعہ مکاتب فکر سے بھی ہے ۔ نہ سیاسی قیادت کو اُن کی زندگیاں تبدیل کرنے کی فکرہے اور نہ فرقوں کے جشن، سوگ اور تبلیغ ہی غریبوں کے دکھوں کا مداوا بن رہی ہیں۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں