سندھ بلڈنگ،ضلع شرقی میں تعمیراتی لاقانونیت، رہائشی علاقوں کا تشخص داؤ پر
شیئر کریں
متعلقہ افسران کی مبینہ سرپرستی میں ڈائریکٹر سمیع جملانی کے نام پر وصولیوں کا سلسلہ
گلشن اقبال بلاک 5 کے پلاٹس A-176 اور A-406 پر خلافِ ضابطہ تعمیرات
کراچی کے ضلع شرقی میں غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جہاں بلڈنگ قوانین اور عدالتی احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے رہائشی علاقوں میں مبینہ طور پر غیر قانونی اور خلافِ ضابطہ عمارتیں تعمیر کی جا رہی ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ متعلقہ افسران کی مبینہ چشم پوشی اور سرپرستی کے باعث رہائشی علاقوں کا تشخص تیزی سے تباہ ہو رہا ہے، جبکہ سرکاری ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ضلع شرقی کے بعض متعلقہ افسران مبینہ طور پر ڈائریکٹر سمیع جملانی کے نام پر بھاری رقوم وصول کر کے غیر قانونی تعمیرات کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ان الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں تو کئی اہم حقائق سامنے آ سکتے ہیں۔جرأت سروے کے مطابق گلشن اقبال بلاک 5 میں واقع پلاٹس A-176 اور A-406 پر بلڈنگ قوانین کی مبینہ خلاف ورزی کرتے ہوئے تعمیراتی کام دن رات جاری ہے۔
الزام ہے کہ منظور شدہ نقشوں سے ہٹ کر اضافی فلورز اور دیگر غیر قانونی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں، لیکن شکایات کے باوجود متعلقہ افسران نے کارروائی کرنے کے بجائے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
مکینوں کا کہنا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات کے باعث علاقے میں ٹریفک، پارکنگ، سیوریج، پانی کی فراہمی اور دیگر شہری سہولیات شدید متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ قریبی عمارتوں کی بنیادوں اور رہائشیوں کی جان و مال کو بھی خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ رہائشی پلاٹوں کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے، جس سے پورے علاقے کا ماسٹر پلان متاثر ہو رہا ہے۔
شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گلشن اقبال میں جاری تعمیراتی کاموں کا فوری نوٹس لیا جائے، تمام قانونی ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی جائے،
خلافِ ضابطہ تعمیرات فوری طور پر بند کرائی جائیں اور اگر کسی افسر کی مبینہ غفلت یا کرپشن ثابت ہو تو اس کے خلاف بلاامتیاز محکمانہ اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
علاقہ مکینوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر غیر قانونی تعمیرات کے خلاف فوری کارروائی نہ کی گئی تو وہ عدالت سے رجوع کرنے کے ساتھ ساتھ احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر بھی مجبور ہوں گے، کیونکہ غیر قانونی تعمیرات نے رہائشی علاقوں کے مستقبل کو سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
خبر میں عائد کیے گئے الزامات متعلقہ شہریوں اور ذرائع کے دعوؤں پر مبنی ہیں، متعلقہ حکام کا مؤقف موصول ہونے پر اسے بھی شائع کیا جائے گا۔
نمائندہ جرات


