وقت سب سے بڑا فاتح ہوتا ہے!
شیئر کریں
بحیرۂ روم کے جزیرے کورسیکا کے شہر اجاکسیو میں15؍اگست 1769ء کو ایک بچہ پیدا ہوا۔ کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا کہ یہی بچہ ایک دن پورے یورپ کی سیاست، جغرافیہ اور تاریخ بدل دے گا۔ اس کا نام نپولین بوناپارٹ تھا۔
1779ء میں صرف دس برس کی عمر میں اسے فرانس کے فوجی اسکول بھیج دیا گیا۔ چھ سال بعد، 1785ء میں، وہ فوج میں سیکنڈ لیفٹیننٹ مقرر ہوا۔ قسمت اس کے لیے ایک اور دروازہ بھی کھول رہی تھی۔ 1789ء میں فرانسیسی انقلاب برپا ہوا، پرانا نظام بکھر گیا اور باصلاحیت نوجوان افسروں کے لیے ترقی کے راستے کھل گئے ۔ جس سے نپولین کو ترقی کے مواقع ملے ۔ 1793ء میں ٹولون کی جنگ نے نپولین کو پہلی بار پورے فرانس سے متعارف کرایا۔
اس کی غیرمعمولی فوجی حکمتِ عملی نے اسے بریگیڈیئر جنرل بنا دیا۔ صرف تین برس بعد، 1796ء میں، اسے اٹلی کی فوج کا سپہ سالار مقرر کیا گیا۔ اس نے ایک کے بعد ایک کامیاب معرکے جیت کر اپنی صلاحیتوں کا اعتراف دشمنوں سے بھی کروا لیا۔
1798ء میں اس نے مصر کی مہم شروع کی۔ اگرچہ یہ مہم اپنے تمام مقاصد حاصل نہ کر سکی، لیکن نپولین کی شہرت میں مزید اضافہ ہوا۔ اگلے ہی سال، 1799ء میں، اس نے اقتدار سنبھالا اور فرانس کا پہلا قونصل بن گیا۔ صرف پانچ سال بعد، 1804ء میں، اس نے خود اپنے سر پر شہنشاہِ فرانس کا تاج رکھا۔2؍دسمبر 1805ء تاریخ کا وہ دن تھا جس نے نپولین کو یورپ کا ناقابلِ شکست سپہ سالار بنا دیا۔
آسٹرلٹز کی جنگ، جسے "تین شہنشاہوں کی جنگ”بھی کہا جاتا ہے ، فرانس، روس اور آسٹریا کے درمیان لڑی گئی۔ میدان میں روس کے شہنشاہ الیگزینڈر اوّل اور آسٹریا کے شہنشاہ فرانسس دوم موجود تھے ۔ نپولین کے پاس تقریباً اڑسٹھ ہزار فوجی تھے جبکہ اتحادی افواج کی تعداد نوے ہزار کے قریب تھی۔ اس نے جان بوجھ کر اپنی دائیں جانب کو کمزور ظاہر کیا۔ اتحادی افواج نے اسے حقیقی کمزوری سمجھ کر پوری طاقت سے حملہ کیا، مگر یہی نپولین کا منصوبہ تھا۔ جیسے ہی دشمن اپنی مضبوط پوزیشن چھوڑ کر آگے بڑھا، فرانسیسی فوج نے اس کے مرکز پر فیصلہ کن حملہ کر دیا۔ چند گھنٹوں میں اتحادی صفیں ٹوٹ گئیں۔ تقریباً ستائیس ہزار اتحادی فوجی ہلاک، زخمی یا گرفتار ہوئے جبکہ فرانسیسی نقصان آٹھ ہزار کے قریب رہا۔ آسٹرلٹز کی فتح نے صرف ایک جنگ نہیں جیتی بلکہ یورپ کی سیاست بدل دی۔ تیسری اتحادی جنگ ختم ہوگئی، آسٹریا کو صلح کرنا پڑی، پریسبرگ کا معاہدہ ہوا اور چند ہی ماہ بعد تقریباً ایک ہزار سال پرانی مقدس رومی سلطنت بھی ختم ہوگئی۔ نپولین اب پورے یورپ کا سب سے طاقتور حکمران تھا۔
1806ء اور 1807ء میں اس نے پروشیا اور روس کے خلاف مزید کامیاب جنگیں لڑیں اور اپنی سلطنت کو وسعت دی، لیکن ہر عروج اپنے ساتھ زوال کا بیج بھی لاتا ہے ۔ 1812ء میں نپولین نے روس پر حملہ کیا۔ یہ فیصلہ اس کی زندگی کی سب سے بڑی فوجی غلطی ثابت ہوا۔ سخت سردی، طویل فاصلے ، رسد کی کمی اور روسیوں کی حکمتِ عملی نے فرانسیسی فوج کو تباہ کر دیا۔ لاکھوں سپاہی یا تو مارے گئے یا واپس نہ آ سکے ۔ یہی وہ موڑ تھا جہاں نپولین کی قسمت نے پلٹنا شروع کیا۔ 1814ء میں اسے اقتدار چھوڑ کر ایلبا کے جزیرے میں جلا وطن کر دیا گیا، لیکن اس نے ہار نہیں مانی۔ صرف ایک سال بعد وہ دوبارہ فرانس واپس آیا اور مختصر عرصے کے لیے اقتدار سنبھال لیا۔
18 جون 1815ء کو موجودہ بیلجیم کے مقام واٹر لو کے قریب وہ جنگ لڑی گئی جس نے نپولین کے عہد کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا۔ اس کے مقابلے میں برطانوی سپہ سالار ڈیوک آف ویلنگٹن اور پروشیائی کمانڈر گیبرڈ فون بلوخر کی اتحادی افواج تھیں۔ واٹر لو میں نپولین نے ایک بار پھر یورپ پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کی، مگر اس بار قسمت اس کے ساتھ نہیں تھی۔ شدید لڑائی کے بعد فرانسیسی فوج کو فیصلہ کن شکست ہوئی۔ تقریباً پچیس سے چھبیس ہزار فرانسیسی فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے ، آٹھ سے نو ہزار گرفتار ہوئے ، جبکہ اتحادی افواج کے بائیس ہزار کے قریب فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے ۔ مجموعی طور پر تقریباً پچاس ہزار انسان صرف ایک دن میں موت، زخمی ہونے یا قید کی صورت میں اس جنگ کا شکار بنے ۔ اس شکست کے بعد نپولین نے دوسری مرتبہ تخت چھوڑ دیا۔ اسے بحر اوقیانوس کے دور افتادہ جزیرے سینٹ ہیلینا بھیج دیا گیا، جہاں اس نے اپنی باقی زندگی جلاوطنی میں گزاری۔ چند برس پہلے تک جس کے ایک اشارے پر براعظموں کی سیاست بدل جاتی تھی، اب وہ ایک دور افتادہ جزیرے پر جلاوطن تھا۔ اس کے تاج، اس کی فوجیں، اس کی فتوحات اور اس کے خواب سب وقت کے دریا میں بہہ چکے تھے ۔ 5 مئی 1821ء کو اسی جزیرے میں اس کا انتقال ہوگیا۔
واٹر لو کی شکست کے بعد یورپ میں طاقت کا نیا توازن قائم ہوا۔ فرانس کی توسیع پسندانہ پالیسی ختم ہوگئی اور اگلے کئی عشروں تک یورپی طاقتیں ایک دوسرے کے ساتھ توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرتی رہیں۔ اس جنگ کے بعد یورپ میں تقریباً ایک صدی تک طاقت کا نیا توازن قائم رہا، جسے اکثر "Concert of Europe” سے جوڑا جاتا ہے ۔ آج بھی واٹر لو کا میدانِ جنگ محفوظ ہے ، جہاں ایک بڑا یادگاری ٹیلہ Lion’s Mound موجود ہے ، اور ہر سال ہزاروں سیاح اس تاریخی مقام کو دیکھنے آتے ہیں۔
تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ذہانت، بہادری، طاقت اور فتوحات انسان کو بہت بلند مقام تک پہنچا سکتی ہیں، مگر وقت ہمیشہ سب سے بڑا فاتح رہتا ہے ۔ نپولین بوناپارٹ نے آدھا یورپ فتح کر لیا تھا، لیکن وہ وقت کو فتح نہ کر سکا۔ شاید اسی لیے تاریخ کے اوراق میں اس کا نام صرف ایک عظیم فاتح کے طور پر نہیں بلکہ اس حقیقت کی علامت کے طور پر بھی لکھا گیا ہے کہ اقتدار، قوت اور کامیابی ہمیشہ عارضی ہوتی ہیں، جبکہ وقت ہمیشہ دائمی فاتح رہتا ہے ۔ اور انسان کا کردار صرف تاریخ کے صفحات پر درج رہ جاتا ہے ۔
٭٭٭


