
پی آئی اے ،قیمتی طیارے کوڑیوں کے مول بیچنے کی کوشش، سوسائٹی آف ائیرکرافٹ انجینئرز
شیئر کریں
پی آئی اے کی سوسائٹی آف ائیرکرافٹ انجینئرز کے صدر عبداللہ جدون نے کہا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کے لیے ابتدائی رقم کا حجم ایک بوئنگ ٹرپل سیون طیارے کے انجن کے برابر بھی نہیں رکھا گیا۔ صوبائی حکومتیں کنسورشیم کے تحت پی آئی اے کو خریدنا چاہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے ۔کراچی پریس کلب میں دیگر عہدیداروں کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران عبداللہ جدون کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کی نجکاری کے لیے دس ارب روپے کی بولی لگائی گئی۔ پی آئی اے کے بیڑے میں شامل ٹرپل سیون ساختہ پانچ طیاروں کے دس انجن کوڑیوں کے مول فروخت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ انجن فروخت کے لیے موصول ہونے والی پیشکش ایک انجن کی مالیت سے بھی انتہائی کم ہے ۔ اس بدترین کرپشن پر ایف آئی اے سے رجوع کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ عبداللہ جدون نے کہا کہ پی آئی اے انتظامیہ نے ملازمین کے پنشن فنڈ کے تیس ارب روپے آپریشن سمیت دیگر امور پر خرچ کردیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر چاروں صوبائی حکومتیں مل کر کنسورشیم کے تحت پی آئی اے کو خریدتی ہیں تو اس پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے ۔