آزاد کشمیر انتخابات:کیا مسئلہ صرف نتائج کا ہے یا پورے نظام کا؟
شیئر کریں
آزاد جموں و کشمیر کے حالیہ انتخابات کے ابتدائی غیر حتمی نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) نے برتری حاصل کی ہے ، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) نے انتخابی عمل پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں اور احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے ۔ یہ منظر پاکستان کی سیاست کے لیے نیا نہیں۔ ہر انتخاب کے بعد کوئی جماعت کامیابی کا جشن مناتی ہے اور کوئی انتخابی شفافیت پر سوال اٹھاتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اصل سوال یہ نہیں کہ کون جیتا اور کون ہارا، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہمارا انتخابی اور سیاسی نظام ایسا اعتماد پیدا کر سکا ہے کہ ہارنے والا بھی نتائج کو دل سے تسلیم کرے ؟
گزشتہ سات دہائیوں کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ایک حقیقت بار بار سامنے آتی ہے کہ انتخابات کے بعد دھاندلی، جانبداری، سیاسی انتقام، کرپشن اور انتخابی شفافیت کے سوالات مسلسل دہرائے جاتے رہے ہیں۔ مختلف ادوار میں مختلف جماعتیں ایک دوسرے پر یہی الزامات لگاتی رہی ہیں۔ جب اقتدار میں ہوتی ہیں تو نظام کو درست قرار دیتی ہیں، اور جب اپوزیشن میں آتی ہیں تو اسی نظام کو ناکام اور جانبدار کہتی ہیں۔ اس رویے نے عوام کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے ۔
اصل المیہ یہ ہے کہ بحث اکثر شخصیات کے گرد گھومتی رہتی ہے ، جبکہ نظامی اصلاحات پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ عوام کو بار بار یہ امید دلائی جاتی ہے کہ صرف حکومت بدلنے سے تمام مسائل حل ہو جائیں گے ، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں۔ اگر نظام کی بنیادی کمزوریاں برقرار رہیں تو صرف حکمرانوں کی تبدیلی سے نتائج مختلف ہونا مشکل ہوتے ہیں۔
آج اگر مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف یا کوئی اور جماعت ایک دوسرے پر الزامات لگا رہی ہے تو عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ آخر یہ سلسلہ کب ختم ہوگا؟ کب ایسا انتخابی نظام وجود میں آئے گا جس پر تمام سیاسی قوتوں کا اعتماد ہو اور جس کے نتائج کو شکست کھانے والی جماعت بھی تسلیم کرے ؟ اگر سیاسی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو مسلم لیگ (ن) مختلف ادوار میں وفاق اور پنجاب میں طویل عرصہ حکومت کر چکی ہے ۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے سندھ میں کئی ادوار حکومت کی ہے ، جبکہ تحریک انصاف نے مرکز اور خیبر پختونخوا میں بھی حکومت کی۔ ہر جماعت نے اپنے اپنے منشور کے مطابق عوام سے بڑے وعدے کیے ، مگر عوامی سطح پر آج بھی بے روزگاری، مہنگائی، تعلیم، صحت، انصاف، مقامی حکومتوں کی مضبوطی اور ادارہ جاتی اصلاحات جیسے بنیادی مسائل پوری شدت کے ساتھ موجود ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کسی ایک جماعت نے کچھ نہیں کیا، بلکہ یہ کہ عوام کی توقعات اور عملی نتائج کے درمیان ایک واضح خلا موجود رہا۔
پاکستان کے نوجوان اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ وہ اب محض سیاسی نعروں سے مطمئن نہیں ہوتے ۔ وہ ایسے نظام کے خواہاں ہیں جہاں میرٹ ہو، قانون سب کے لیے برابر ہو، روزگار کے مساوی مواقع میسر ہوں، اور ریاستی ادارے سیاسی کشمکش سے بالاتر ہو کر کام کریں۔ اگر نوجوانوں کو اپنے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کا احساس رہے گا تو ملک کی ترقی کی رفتار بھی متاثر ہوگی۔
ڈاکٹر طاہر القادری نے برسوں قبل اپنی سیاسی جدوجہد کے دوران یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ پاکستان کے بنیادی مسائل کی جڑ نظام کی کمزوریاں ہیں، جن میں انتخابی اصلاحات، مؤثر احتساب، آئین کی بالادستی اور ادارہ جاتی مضبوطی شامل ہیں۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے وقت سے پہلے ان مسائل کی نشاندہی کی اور اصلاحات کا مطالبہ کیا، جبکہ ناقدین نے ان کی سیاسی حکمت عملی سے اختلاف کیا۔ یہ دونوں نقطۂ نظر پاکستان کی سیاسی تاریخ کا حصہ ہیں اور ان کا جائزہ حقائق اور عملی نتائج کی روشنی میں لیا جانا چاہیے ۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ حالیہ برسوں میں مختلف ریاستی اور سیاسی شخصیات کی جانب سے بھی ادارہ جاتی اصلاحات، گورننس کے مسائل اور نظامی کی کمزوریوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے ۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کو محض سیاسی مقابلے کے بجائے ریاستی اصلاحات پر سنجیدہ قومی مکالمے کی ضرورت ہے ۔
سوال یہ بھی ہے کہ کیا ہم ہر پانچ سال بعد ایک ہی منظر دہراتے رہیں گے ؟ انتخابات ہوں، نتائج آئیں، دھاندلی کے الزامات لگیں، احتجاج ہوں، کمیشن بنیں، اور پھر اگلے انتخابات تک سب کچھ بھلا دیا جائے ؟ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو عوامی اعتماد مزید کمزور ہوگا، اور جمہوری نظام کی ساکھ متاثر ہوگی۔
ایک اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے شروع کیے جاتے ہیں، مگر کئی منصوبے مناسب نگرانی، شفافیت یا تسلسل نہ ہونے کی وجہ سے مطلوبہ نتائج نہیں دے پاتے ۔ حکومتیں بدلتی ہیں تو منصوبوں کے نام بدل جاتے ہیں، ترجیحات تبدیل ہو جاتی ہیں، لیکن عوامی مسائل اپنی جگہ برقرار رہتے ہیں۔
ترقیاتی منصوبے اس وقت ہی دیرپا نتائج دیتے ہیں جب وہ قومی پالیسی کا حصہ ہوں، نہ کہ صرف سیاسی تشہیر کا ذریعہ۔آج پاکستان کو ایسے سیاسی کلچر کی ضرورت ہے جہاں اختلاف رائے کو دشمنی نہ سمجھا جائے ، جہاں ادارے مضبوط ہوں، انتخابی قوانین پر تمام جماعتوں کا اتفاق ہو، اور احتساب کا نظام سب پر یکساں لاگو ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے عوام کا اعتماد بحال کیا جا سکتا ہے ۔اگر ڈاکٹر طاہر القادری کے حامی یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے پیش کردہ اصلاحاتی ایجنڈے اور وژن پر دوبارہ غور ہونا چاہیے ، تو یہ ایک سیاسی رائے ہے جسے جمہوری بحث کا حصہ بنایا جا سکتا ہے ۔ اسی طرح دیگر سیاسی جماعتوں کے پاس بھی اپنے اپنے نظریات اور پروگرام موجود ہیں۔ ایک جمہوری معاشرے میں عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ تمام سیاسی نظریات، پروگراموں اور قائدین کا جائزہ لیں اور جسے بہتر سمجھیں، اس کی حمایت کریں۔تما م قائدین کو قومی ٹی وی پر اپنے منشور اورملک کے مسائل کا حل پیش کرنے کا موقع دیا جائے اور ان سے سوالات ہوں عوام جن سے متمن ہوں انکو تین سال دئے جائیں مکمل اختیارات کے ساتھ تاکہ وہ اصلاحات کرسکیں۔
پاکستان کو اس وقت شخصیات کی پرستش سے زیادہ مضبوط اداروں، شفاف انتخابی عمل، مستقل معاشی پالیسی، معیاری تعلیم، قانون کی حکمرانی اور قومی یکجہتی کی ضرورت ہے ۔ نوجوان نسل اب صرف وعدے نہیں بلکہ نتائج دیکھنا چاہتی ہے ۔ وہ ایک ایسا پاکستان چاہتی ہے جہاں کامیابی کا معیار تعلقات نہیں بلکہ صلاحیت ہو، جہاں انصاف بروقت ملے ، اور جہاں ریاست ہر شہری کے ساتھ مساوی سلوک کرے۔
آخرکار، آزاد کشمیر کے انتخابات ایک مرتبہ پھر ہمیں اسی بنیادی سوال کی طرف لے آتے ہیں:کیا ہم صرف انتخابی نتائج پر بحث کرتے رہیں گے ، یا اس نظام کو بہتر بنانے کے لیے بھی سنجیدہ اقدامات کریں گے جس پر ہر انتخاب کے بعد سوال اٹھتے ہیں؟ جب تک انتخابی اصلاحات، ادارہ جاتی مضبوطی، قانون کی بالادستی اور شفاف حکمرانی کو قومی ترجیح نہیں بنایا جاتا، تب تک ہر انتخاب کے بعد الزامات، احتجاج اور سیاسی کشیدگی کا یہ سلسلہ ختم ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ مضبوط ریاستیں صرف انتخابات سے نہیں بلکہ ایسے نظام سے بنتی ہیں جس پر عوام کا اعتماد ہو، جہاں آئین بالادست ہو، اور جہاں اقتدار کا اصل مقصد عوامی خدمت ہو، نہ کہ صرف اقتدار کا حصول۔


