میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
موبائل مارکیٹ میں کروڑ روپے مالیت کی چوری کرنے والا ملزم خود دکاندار نکلا

موبائل مارکیٹ میں کروڑ روپے مالیت کی چوری کرنے والا ملزم خود دکاندار نکلا

ویب ڈیسک
اتوار, ۴ اگست ۲۰۱۹

شیئر کریں

ایک ہی موبائل مال میں دو مرتبہ تالا توڑ کر ایک کروڑ روپے مالیت کی نقب زنی کرنے والا ملزم موبائل مال کا ہی دکاندار نکلا۔ فلموں میں دیکھ کرسی سی ٹی وی پراسپرے کاطریقہ سیکھا۔تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے موبائل مارکیٹ صدر میں 36گھنٹے کی طویل ترین چوری کرنے والے ملزم نے مزید انکشافات کیے ہیں۔ موبائل مال میں ایک کروڑ روپے سے زائد کی نقب زنی میں ملوث ملزم خود دکاندار نکلا۔ ملزم نے فلموں میں دیکھ کر سی سی ٹی وی کیمرے پر اسپرے کرنے کا طریقہ سیکھا، ملزم نے بتایا کہ موبائل مال میں پہلے بھی50لاکھ کی نقب زنی بھی کرچکا ہوں، ملزم 4ماہ قبل اسی مال میں50 لاکھ کی نقب زنی کی تھی۔ملزم کے مطابق ایک سال سے اسی موبائل مال میں موبائل فون کا کاونٹر کرائے پر لے رکھا ہے ، ملزم نے انکشاف کیا کہ5 روزقبل45 لاکھ سے زائد کے موبائل فون چوری کیے ۔ملزم یاسر اعوان نقب زنی کے لیے مال کے اندر36گھنٹے تک موجود رہا تھا، ملزم نے 3روز تک پیٹیز اور بسکٹ کھا کر گزارا کیا، ملزم نے فرار ہونے کے لیے بینک کے تالے توڑ دیے تھے لیکن ناکام رہا۔ملزم نے انکشاف کیا کہ وارداتیں مکمل ہونے کے بعد اپنے کاؤنٹر پرچوری کا مال چھپایا، ملزم نے وارداتوں کے بعد چھپنے کے لیے ایک خالی دکان کا انتخاب کیاتھا، پولیس کے مطابق فرانزک ٹیسٹ میں7موبائل فون گزشتہ نقب زنی میں چوری کیے گئے نکلے ۔


مزید خبریں

دمشق: بشار الاسد کی شامی حکومت کے ڈرامائی زوال نے ان کی حکومت کے تاریک پہلوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے، جن میں ممنوعہ منشیات کیپٹاگون کی صنعتی سطح پر برآمد شامل ہے۔  زرائع کے مطابق اپوزیشن فورسز نے ان اڈوں اور تقسیم کے مراکز پر قبضہ کر لیا ہے جہاں یہ نشہ آور گولیاں تیار کی جاتی تھیں اور پورے مشرق وسطیٰ میں بلیک مارکیٹ میں فروخت کی جاتی تھیں۔ ہیئت تحریر الشام کے زیر قیادت ان جنگجوؤں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے منشیات کی ایک بڑی کھیپ قبضے میں لے لی ہے اور اسے تباہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔  ایچ ٹی ایس کے جنگجوؤں نے اے ایف پی کے صحافیوں کو دمشق کے مضافات میں ایک کوئلے کے گودام تک رسائی دی، جہاں کیپٹاگون گولیوں کو برقی آلات کے پرزوں کے اندر چھپا کر برآمد کیا جا رہا تھا۔  گودام کے نیچے موجود ایک بڑے گیراج میں، ہزاروں کی تعداد میں مٹیالے رنگ کی کیپٹاگون گولیاں نئی گھریلو وولٹیج اسٹیبلائزرز کی تانبے کی کوائلز میں چھپائی گئی تھیں۔  ابو مالک الشامی نامی ایک نقاب پوش جنگجو نے کہا،

دمشق: بشار الاسد کی شامی حکومت کے ڈرامائی زوال نے ان کی حکومت کے تاریک پہلوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے، جن میں ممنوعہ منشیات کیپٹاگون کی صنعتی سطح پر برآمد شامل ہے۔ زرائع کے مطابق اپوزیشن فورسز نے ان اڈوں اور تقسیم کے مراکز پر قبضہ کر لیا ہے جہاں یہ نشہ آور گولیاں تیار کی جاتی تھیں اور پورے مشرق وسطیٰ میں بلیک مارکیٹ میں فروخت کی جاتی تھیں۔ ہیئت تحریر الشام کے زیر قیادت ان جنگجوؤں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے منشیات کی ایک بڑی کھیپ قبضے میں لے لی ہے اور اسے تباہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ایچ ٹی ایس کے جنگجوؤں نے اے ایف پی کے صحافیوں کو دمشق کے مضافات میں ایک کوئلے کے گودام تک رسائی دی، جہاں کیپٹاگون گولیوں کو برقی آلات کے پرزوں کے اندر چھپا کر برآمد کیا جا رہا تھا۔ گودام کے نیچے موجود ایک بڑے گیراج میں، ہزاروں کی تعداد میں مٹیالے رنگ کی کیپٹاگون گولیاں نئی گھریلو وولٹیج اسٹیبلائزرز کی تانبے کی کوائلز میں چھپائی گئی تھیں۔ ابو مالک الشامی نامی ایک نقاب پوش جنگجو نے کہا، "جب ہم نے گودام میں داخل ہو کر تلاشی لی، تو ہمیں پتہ چلا کہ یہ فیکٹری ماہر الاسد اور اس کے ساتھی عامر خیتی کی ہے۔" ماہر الاسد سابق صدر بشار الاسد کا بھائی تھا، اب مفرور سمجھا جا رہا ہے۔ اس پر منشیات کی منافع بخش تجارت کے پیچھے ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام ہے۔ شامی سیاستدان عامر خیتی پر 2023 میں برطانوی حکومت نے پابندیاں عائد کی تھیں۔ 

Author One
جمعه, ۱۳ دسمبر ۲۰۲۴

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں