سندھ اسمبلی میں صوبے کی کسی بھی قسم کی تقسیم کے خلاف قرارداد متفقہ منظور
شیئر کریں
قرارداد پیش کرنے کے دوران ایوان میں پیپلزپارٹی کے 105 اراکین موجود تھے جبکہ اپوزیشن کا ایک بھی رکن ایوان میں نہیں تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سندھ اسمبلی میں صوبے کی کسی بھی قسم کی تقسیم کے خلاف قرارداد متفقہ منظور کرلی گئی ،ایوان میں پیپلزپارٹی کے 105 اراکین موجود تھے جبکہ اپوزیشن کا ایک بھی رکن ایوان میں نہیں تھا۔ تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی نے سندھ کی کسی بھی قسم کی تقسیم کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔ سندھ اسمبلی میں تحریک التوا پر چوتھے روز مباحثے کے بعد پی پی کے رکن نثار کھوڑو نے ایوان میں اسپیکر اویس قادر شاہ کی اجازت کے بعد قرارداد پیش کی۔
نثار کھوڑو نے قرارداد پیش کی تو ایوان میں پیپلزپارٹی کے 105 اراکین موجود تھے جبکہ اپوزیشن کا ایک بھی رکن ایوان میں نہیں تھا۔ قرارداد میں کہا گیا کہ سندھ تاریخی دھرتی اور ناقابل تقسیم ہے، سندھ نے قیام پاکستان کی قراداد منظور کی، سندھ کی اسمبلی نے پاکستان میں شمولیت قراداد منظور کی تھی۔
قراداد میں کہا گیا کہ سندھ میں کسی قسم کی تقسیم کو ایوان رد کرتا ہے، سندھ کی موجودہ حدود میں کوئی بھی تبدیلی نہیں ہوگی، سندھ ایک ہے ہمیشہ ایک رہے گا۔قرراد کی منظوری پر پیپلزپارٹی کے اراکین بینچوں پر ہاتھوں میں ‘سندھ دھرتی ماں’ کے بینرز ہاتھوں میں لے کر کھڑے ہوئے اور نعرے بازی بھی کی


