سندھ بلڈنگ، تنگ گلیاں، بلند عمارتیں،لیاقت آباد خطرے کی زد میں
شیئر کریں
آتشزدگی یا ہنگامی صورتحال میں امدادی کارروائیاں متاثر ہونے کا خدشہ
ڈائریکٹر الطاف کھوکھر کی چشم پوشی،شہریوں کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وسطی کے گنجان آباد علاقے لیاقت آباد میں کیئے گئے زمینی سروے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ تنگ رہائشی گلیوں میں متعدد کثیر المنزلہ عمارتیں تعمیر ہو چکی ہیں اور بعض مقامات پر مزید تعمیراتی کام جاری ہے ۔ لیاقت آباد نمبر 1 کے پلاٹ نمبر 220 اور 333 پر ڈائریکٹر الطاف کھوکھر کی مبینہ چشم پوشی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تعمیراتی ٹھیکیداروں نے کمزور بنیادوں پر بالائی منزلوں کی تعمیر کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ۔گلیوں کی محدود چوڑائی اور عمارتوں کی بلندی کے باعث علاقے کے مکینوں میں کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے ۔جرأت سروے کے دوران دیکھا گیا کہ کئی عمارتیں ایک دوسرے کے انتہائی قریب واقع ہیں، جبکہ گلیوں کے اوپر بجلی اور دیگر یوٹیلیٹی کی تاروں کا جال بھی موجود ہے ۔ مقامی افراد کے مطابق اگر کسی عمارت میں آتشزدگی، گیس دھماکے یا کوئی اور حادثہ پیش آئے تو فائر بریگیڈ اور دیگر امدادی گاڑیوں کی بروقت رسائی شدید متاثر ہو سکتی ہے ، جس سے جانی و مالی نقصان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔علاقہ مکینوں نے وزیر بلدیات سے مطالبہ کیا ہے لیاقت آباد میں تعمیر ہونے والی عمارتوں کا فوری معائنہ کرائیں، بلڈنگ قوانین، منظور شدہ نقشوں اور حفاظتی تقاضوں کا جائزہ لیں، اور اگر کہیں خلافِ ضابطہ تعمیرات پائی جائیں تو قانون کے مطابق کاروائی عمل میں لائی جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ کسی بڑے سانحے کا انتظار کرنے کے بجائے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ رہائشی علاقوں میں انسانی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے ۔


