میگزین

Magazine
تازہ ترین : فضل الرحمان کے قریبی رفقا نشانہ، مولانا کی اسلام آباد رہائش گاہ کے مالک کو بھی نوٹس جاری امریکی انتخابات، ٹرمپ نے شکست تسلیم کرلی، ڈیموکریٹس کے ساتھ  کام کرنے کا اعلان تکنیکی اور آپریشنل وجوہات،کراچی ایئرپورٹ پر 8 پروازیں منسوخ ڈیموکریٹ امیدوار نبیلہ سید الینوائے کی ریاستی سینیٹ کی رکن منتخب جسٹس منصور کے انٹرویو پر الیکشن کمیشن کا بڑا جواب، پی ٹی آئی کے انتخابی نشان اور مخصوص نشستوں کا پنڈورہ باکس کھل گیا ایف آئی آردرج ہونا جرم نہیں، بریت کے بعد ملازمت سے محرومی غیرقانونی قرار، آئینی عدالت امریکا کا سعودی عرب میں سیکیورٹی الرٹ دوبارہ جاری، غیر ہنگامی عملے کو ملک چھوڑنے کی ہدایت ایران: شہریوں کو ممکنہ جوہری حملے کی صورت میں محفوظ رکھنے کے لیے ہنگامی ہدایات جاری پیٹرول کی قیمت کا کھیل، عالمی منڈی سے پاکستانی پمپ تک، اربوں روپے کس کی جیب میں جاتے ہیں؟ محکمہ اطلاعات، اشتہارات میں من پسند اور کم ریٹنگ والے چینلز پر نوازشیں

ای پیج

e-Paper
بلدیاتی قانون ، پی ایس پی کا،وزیر اعلیٰ ہائوس تک مارچ کا اعلان

بلدیاتی قانون ، پی ایس پی کا،وزیر اعلیٰ ہائوس تک مارچ کا اعلان

ویب ڈیسک
پیر, ۳ جنوری ۲۰۲۲

شیئر کریں

پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے پیپلز پارٹی کے سیاہ بلدیاتی ترمیمی قانون کے خلاف 30 جنوری کو وزیر اعلی ہائوس کی جانب مارچ کا اعلان کردیا، اب کوئی تقریر نہیں ہوگی۔ اب ہم رہیں گے یا سندھ کے کرپٹ ظالم اور متعصب حکمران رہیں گے۔ بلاول بھٹو کو اپنے بڑوں کی طرح ملک توڑنے کی لت لگی ہوئی ہے، شہر میں بھائی کو بھائی سے لڑا کر گلے کاٹنے والوں کا خاتمہ ہوگیا تو آج مصطفی کمال اکیلا نہیں رہا بلکہ لاکھوں مصطفی کمال بن چکے ہیں۔ دور سے وزیر اعلی کو آواز نہیں جاتی اس لیے سیدھا وزیر اعلی ہاس کے گیٹ پر جائیں گے اور سندھ کی عوام کو حقوق دلا کر ہی واپس لوٹیں گے۔ انشا اللہ پی ایس پی کا 30 جنوری کا مارچ پورے پاکستان میں انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ کراچی والوں کو اب صرف اپنے لیے ہی نہیں بلکہ پورے سندھ کے بچوں، ماں بیٹیوں بہنوں اور نوجوانوں کے لیے بھی لڑنا ہوگا۔ سندھ کے جابر اور متعصب حکمرانوں کے خلاف جنگ سندھ کے دارلخلافہ کراچی سے شروع ہوگی۔ 30 جنوری 2022 بروز اتوار کو تبت سینٹر پر پورے کراچی کو صرف اپنے لیے نہیں بلکہ سب کے لیے جمع ہونا ہے اور وزیر اعلی ہاس کی جانب مارچ کرنا ہے۔ اب فیصلہ کرنا ہے کہ ہم اور ہماری اولادیں بلاول زرداری کی غلامی میں مریں یا عزت کی زندگی جیئیں اور عزت کی موت قبول کریں۔ ہمیں غلامی کی زندگی نہیں عزت کی موت قبول ہے۔ ہم جب اکیلے تھے تب بھی نہیں ڈرے جب کہ آج تو لاکھوں مصطفی کمال ہیں، عوام کے حقوق کے لیے آج مصطفی کمال اکیلا نہیں ہے، کراچی کے عوام ساتھ ہیں۔ کارکنان ایک ایک گھر کا دروازہ کھٹکھٹائیں، قوم ایک دن گھر سے نکلے تو کئی نسلیں سکون سے رہیں گی۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں