میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ، پی ای سی ایچ ایس غیرقانونی تعمیرات کا گڑھ بن گیا

سندھ بلڈنگ، پی ای سی ایچ ایس غیرقانونی تعمیرات کا گڑھ بن گیا

جرات ڈیسک
پیر, ۲ نومبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

رہائشی پلاٹوں پر پورشنز اور ملٹی یونٹ عمارتوں کی تعمیر کے بڑھتے الزامات

ڈپٹی ڈائریکٹر ماجد مگسی اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر شفیع مگسی کا کردار مشکوک

 

کراچی کے علاقے چنیسر ٹاؤن میں واقع پی ای سی ایچ ایس مبینہ غیرقانونی تعمیرات کا گڑھ بنتا جا رہا ہے ، جہاں بلڈر مافیا اور سندھ بلڈنگ کے بعض افسران کے مبینہ گٹھ جوڑ نے قانون کی عمل داری پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں،

رہائشی پلاٹوں پر پورشنز اور ملٹی یونٹ عمارتوں کی تعمیر کے بڑھتے ہوئے الزامات کے باوجود متعلقہ حکام کی موثر کارروائی کا ریکارڈ سامنے نہ آنا خود ایک بڑا سوال بن چکا ہے،

تفصیلات کے مطابق پی ای سی ایچ ایس کے مختلف بلاکوں میں مبینہ غیرقانونی تعمیرات کے حوالے سے ایس بی سی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر ماجد مگسی اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر شفیع مگسی کے نام سامنے آئے ہیں،

ذرائع کا کہنا ہے کہ ان دونوں افسران کی مبینہ سرپرستی میں بلڈرز رہائشی پلاٹوں پر منظورشدہ نقشوں کے برخلاف پورشنز اور ملٹی یونٹ عمارتیں تعمیر کر رہے ہیں، جبکہ غیر قانونی تعمیرات کے ان سسٹم کو وقت گزرنے کے ساتھ مزید مستحکم اورمنظم کیا جا رہا ہے،

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مبینہ نیٹ ورک کو اینٹی کرپشن اور پولیس کے بعض بااثر افسران کی پشت پناہی بھی حاصل ہے ، جس کے باعث تعمیراتی خلاف ورزیوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی راہ میں رکاوٹیں پیدا ہورہی ہیں،

ذرائع کے مطابق پی ای سی ایچ ایس میں بلڈرزمافیا رہائشی مکانات کے نقشے منظور کروا کر ان کی آڑ میں پورشنز اور متعدد رہائشی یونٹس تعمیر کر رہی ہے جس کی وجہ سے مذکورہ علاقے کا پورا انفرااسٹرکچر تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے،

علاقے میں پانی، سیوریج، بجلی، پارکنگ اور دیگر بنیادی سہولیات کی استعداد کو نظرانداز کرکے کی جانے والی تعمیرات مستقبل میں رہائشیوں کے لیے مزید سنگین مشکلات پیدا کر سکتی ہے ، جن پلاٹوں پر ماجد مگسی اور شفیع مگسی سمیت اینٹی کرپشن کے بعض افسران غیر قانونی تعمیرات کروا کر کروڑوں روپے بطور رشوت وصول کر چکے ہیں،

ان میں پلاٹ نمبر 131Kبلاک 2،پلاٹ نمبر 131Fبلاک2، پلاٹ نمبر 54Hبلاک2،پلاٹ نمبر135Dبلاک2، پلاٹ نمبر67Rبلاک2،پلاٹ نمبر91Eبلاک2،پلاٹ نمبر44Rبلاک2،پلاٹ نمبر47Nبلاک2،پی ای سی ایچ ایس شامل ہیں،

پی ای سی ایچ ایس میں مبینہ غیرقانونی تعمیرات اور رشوت ستانی کے الزامات نے سندھ حکومت، محکمہ بلدیات، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ اور دیگر تحقیقاتی اداروں کی توجہ کا تقاضا کر دیا ہے، شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بلاک 2سمیت پی ای سی ایچ ایس میں جاری تعمیرات کا جامع سروے کرایا جائے،

مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کی جائیں اور اگر کسی افسر، بلڈر یا سہولت کار کے خلاف شواہد سامنے آئیں تو بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، خبر کے سلسلے میں ماجد مگسی، شفیع مگسی اور دیگر متعلقہ حکام کاموقف حاصل کرنے کی کوشش کی گئی مگر ان سے رابطہ ممکن نہیں ہوسکا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں