میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
اندھے حکمران

اندھے حکمران

جرات ڈیسک
اتوار, ۱ نومبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

اس رات دنیا سوئی تو معمول کے مطابق تھی، مگرصبح جب جاگی تو کسی کو کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ سورج نکل چکا تھا، روشنی پھیل چکی تھی، پرندے چہچہا رہے تھے ، بازار کھل رہے تھے ، مگر دنیا کی آنکھوں سے روشنی غائب ہوچکی تھی۔ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ سامنے کھڑا شخص کون ہے ، راستہ کدھرجاتا ہے ، گھرکہاں ہے اور دروازہ کس طرف کھلتا ہے ۔ اسپتالوں میں ڈاکٹر مریضوں کو چھو کر پہچاننے کی کوشش کررہے تھے ، ہوائی اڈوں پر جہاز کھڑے تھے ، سڑکوں پر گاڑیاں ایک دوسرے سے ٹکرا رہی تھیں، حکمران اپنے محافظوں کو آوازیں دے رہے تھے اور محافظ خود دیواریں ٹٹول رہے تھے ۔ کسی کو اپنی دولت دکھائی دے رہی تھی، نہ غربت، نہ چہرے پہچانے جارہے تھے ۔دنیا کے پاس سب کچھ تھا، بس دیکھنے کی صلاحیت نہیں تھی۔پہلے چند گھنٹے خوف میں گزرے ، پھر خوف نے سوالوں کو جنم دیا۔ جو لوگ عمر بھر دوسروں کے چہروں سے ان کی حیثیت پہچانتے رہے تھے ، اب آوازوں سے اندازے لگارہے تھے ۔ جو دولت مند اپنی گاڑیوں، بنگلوں اور قیمتی لباس سے پہچانے جاتے تھے ، وہ بھی عام انسانوں کی طرح دیواریں پکڑ کر چل رہے تھے ۔ کسی کے پاس سونے کی کان تھی، کسی کے پاس بھوکے بچوں کیلئے روٹی نہیں تھی، مگر اندھیرے نے دونوں کی دولت اور محرومی کو نظروں سے اوجھل کردیا تھا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ کچھ لوگوں کے پاس راستہ تلاش کرنے کیلئے دوسرے انسانوں کے ہاتھ تھے ، جبکہ کچھ کے پاس عمر بھر کی دولت کے باوجود کسی کا ہاتھ تھامنے والا کوئی نہیں تھا۔ شام تک دنیا کواندازہ ہونے لگا کہ آنکھیں بند ہوجائیں تو زندگی رکتی نہیں، مگرزندگی کے بہت سے دعوے ضرور رک جاتے ہیں۔ خوب صورتی کے پیمانے بدلنے لگے ، عہدوں کی چمک ماند پڑگئی، رنگ و نسل کی پہچان دھندلا گئی اور چہروں پر سجائے ہوئے غرور کی کوئی قیمت باقی نہ رہی۔ اب انسان کو انسان کی آواز، لمس، سچائی اور کردار سے پہچاننا تھا۔ مگر سب سے بڑا سوال ابھی باقی تھا، اگر دنیا واقعی اندھی ہوجائے تو کیا انسان ایک دوسرے کو پہچان لے گا، یا اسے پہلی بار معلوم ہوگا کہ وہ ساری زندگی آنکھیں کھلی رکھنے کے باوجود حقیقت میں اندھا تھا؟

دنیا کو اندھا ہوئے ابھی چند گھنٹے ہی گزرے تھے ،انسان نے اپنی نئی زندگی کیلئے اصول بنانے شروع کردیے ۔ حکومتوں نے ہنگامی
اجلاس بلائے ، سائنس دانوں نے آنکھوں کی روشنی واپس لانے کے لیے تجربات شروع کیے اور ٹیلی وژن چینلوں پراینکرز مسلسل لوگوں کو
صورت حال سے آگاہ کرنے لگے ۔ عجیب بات یہ تھی کہ اینکرز کو خود معلوم نہیں تھا کہ ان کے سامنے کون بیٹھا ہے ، اسکرین پرکیا چل رہا ہے اور کیمرے کا رخ کس طرف ہے ، ادھر بازاروں میں ایک نیا تماشا شروع ہوچکا تھا۔ دکاندار گاہکوں کو پہچاننے سے قاصر تھے اور گاہک دکانوں کے باہر لگے نرخ نامے نہیں پڑھ سکتے تھے ۔اسپتالوں میں ایک مختلف منظر تھا۔ ڈاکٹر مریضوں کے چہرے نہیں دیکھ سکتے تھے ، لیکن ان کی دھڑکنیں سن رہے تھے ۔ ایک نرس نے ایک زخمی شخص کا ہاتھ تھاما تو وہ رونے لگا۔ نرس نے پوچھا، تکلیف زیادہ ہے ؟ اس نے جواب دیا، تکلیف تو پہلے بھی تھی، سسٹر، مگر لوگ میرے کپڑے دیکھ کر گزرجاتے تھے ۔ آج کسی نے میرا ہاتھ پکڑا ہے تو درد بھی اپنا لگنے لگا ہے۔ نرس چند لمحے خاموش رہی۔ اسے احساس ہوا کہ کبھی کبھی انسان کی سب سے بڑی محرومی آنکھوں کی روشنی نہیں، دوسروں کی بے حسی ہوتی ہے ۔

شام ہونے تک ایک حقیقت واضح ہونے لگی تھی۔ اندھیرے نے سب کو بے بس ضرور کردیا تھا، مگر سب کو ایک جیسا انسان نہیں بنایا تھا۔
کسی نے کسی کا ہاتھ تھاما، کسی نے اسی ہاتھ سے جیب کاٹی، کسی نے بھوکے کو کھانا کھلایا، کسی نے بھوک کو کاروبار بنالیا۔ روشنی چھن جانے کے باوجود انسان کے اندر موجود روشنی اور تاریکی اپنی اپنی جگہ قائم تھیں۔آخرسائنس دانوں نے اعلان کیا اگلی صبح سورج نکلنے کے ساتھ آنکھوں کی روشنی واپس آسکتی ہے ۔ خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ لوگ ایک دوسرے کو مبارک باد دینے لگے ، مائیں بچوں کو سینے سے لگانے لگیں اور گھروں میں دعائیں ہونے لگیں۔صبح سورج نکلا تو دنیا کی آنکھوں میں روشنی واپس آنے لگی۔ پہلے دھندلے سائے دکھائی دیے ، پھر عمارتوں کے خدوخال ابھرے ، راستے نظر آنے لگے اور آہستہ آہستہ چہرے پہچانے جانے لگے ۔ لوگ خوشی سے چیخنے لگے ، ایک دوسرے کو گلے لگانے لگے ۔ابھی چند گھنٹے گزرے تو عجیب منظر سامنے آنے لگا۔ ایک باپ دوبارہ موبائل میں مصروف ہوگیا، بچے اپنے کمروں میں بند ہوگئے ، دکان دار نے گاہک کے لباس سے اس کی حیثیت کا اندازہ لگانا شروع کردیا اور ایک افسر نے غریب سائل کو دیکھ کر اپنے ماتحت سے کہا، اسے باہر بٹھاؤ۔عدالتوں میں چہروں کے تاثرات پھر دلائل پرغالب آنے لگے ، حکمرانوں کی تقریروں میں عوام کی آواز کہیں سنائی نہیں دیتی تھی۔ چوبیس گھنٹے کے اندھیرے نے جو سبق سکھایا تھا، روشنی کے چند گھنٹوں نے اسے دھندلا دیا۔

اسی شام دنیا کے ایک بڑے ٹیلی وژن چینل نے خصوصی نشریات میں سوال اٹھایا، کیا چند گھنٹوں کے اندھیرے نے انسان کو بدل دیا؟ ماہرین نے اپنی اپنی رائے دی، رپورٹیں پیش ہوئیں، تجزیے نشر ہوئے اورپھرکیمرے کا رخ پاکستان کی طرف ہوگیا۔چوک میں دو بوڑھے بیٹھے حقہ پی رہے تھے ،رپورٹرنے پوچھا، بابا جی !! کیا اندھیرے نے انسان کو بدل دیا؟بابا جی بولے ، کچھ بھی نہیں بدلا ۔رپورٹرنے پھرسوال کیا، وہ کیوں؟ بابا جی نے حقے کا لمبا کش لگایا، چند لمحے خاموش رہے اور بولے ، بیٹا !! ہمارے ہاں اندھیرے اورروشنی میں کوئی فرق نہیں، دنیا ایک دن اندھی ہوئی تھی،ہمارے ہاں تو اندھے حکمران برسوں سے ملک چلا رہے ہیں۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں