کیا معاشرے میں امیر ہونا قابل احترام سمجھا جائے؟
شیئر کریں
دنیا نے انسانوں کی قدر جانچنے کے لیے ہمیشہ اپنے پیمانے تراشے ہیں۔ کہیں دولت عظمت کا ثبوت بنی، کہیں طاقت کامیابی، حسب
نسب شرافت اور شہرت زندگی کی معنویت کا فیصلہ۔ مگر ان پیمانوں کے درمیان ایک سوال صدیوں سے کھڑا ہے: اگر کسی انسان کی موجودگی سے دوسرے کی تکلیف کم ہو جائے، تو کیا یہ کامیابی کی کسی بلند چوٹی سے کم ہے؟ چارلس ڈکنز سے منسوب یہ خیال کہ کوئی شخص بے کار نہیں جو دوسرے کا بوجھ ہلکا کرتا ہے، انسانی قدر کا ایسا پیمانہ پیش کرتا ہے جو بازار، دربار اور تاریخ کی رسمی کتابوں سے مختلف ہے۔
ڈکنز کے ناول Our Mutual Friendمیں دولت، طبقاتی تقسیم، سماجی دکھاوے اور انسانی تعلقات کی پیچیدگیاں نمایاں ہیں۔ ان کے معاشرے میں مال دار ہونا قابلِ احترام ہونے کے برابر سمجھا جاتا ہے، جب کہ غربت کو ذاتی ناکامی بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ ڈکنز اس تصور کو چیلنج کرتے ہیں کہ انسان کی قیمت اس کی جیب، لباس یا سماجی مقام سے طے ہوتی ہے۔ جن لوگوں کو معاشرہ کنارے کر دیتا ہے، ان کے اندر
بھی محبت، قربانی، وقار اور اخلاقی قوت کی ایسی دولت ہو سکتی ہے جو بڑے ایوانوں میں نایاب ہے۔یہ سوال صرف ادب کا نہیں، انسانی
تہذیب کی تاریخ کا بھی ہے۔ قدیم معاشروں میں عظمت اکثر فاتح بادشاہوں، جنگی سرداروں اور سلطنتوں کے معماروں کے نام سے لکھی
گئی۔ ان کی فتوحات محفوظ ہوئیں، مگر کسانوں، معماروں، طبیبوں، بچوں کی دیکھ بھال کرنے والوں اور گمنام مددگاروں کی زندگیاں حاشیے
پر رہ گئیں۔ حالاں کہ محل صرف بادشاہ کی خواہش سے نہیں بنتا؛ اسے اٹھانے والے ہاتھوں، خوراک اگانے والوں اور محنت کرنے والوں کی
کوشش سے وجود ملتا ہے۔ تاریخ کی روشنی چند چہروں پر پڑتی ہے، مگر تہذیب کا بوجھ لاکھوں غیر معروف کندھے اٹھاتے ہیں۔ارسطو نے
انسان کو معاشرتی اور سیاسی مخلوق سمجھا؛ اس کی زندگی تنہائی میں مکمل نہیں ہوتی۔ ہماری زبان، شناخت اور امید دوسرے انسانوں سے تعلق میں تشکیل پاتے ہیں۔ ہم خود کفیل ہونے کی غلطی کرتے ہیں، حالاں کہ بچپن سے بڑھاپے تک دوسروں کی نگہداشت پر قائم رہتے ہیں۔ کوئی بولنا سکھاتا ہے، کوئی بیماری میں تیمارداری کرتا ہے، کوئی غلطی کے بعد دوبارہ موقع دیتا ہے، اور کوئی اجنبی مصیبت میں ہاتھ بڑھاتا ہے۔
تہذیب کی بنیاد صرف مقابلہ نہیں؛ تعاون بھی ہے۔ اگر ہر شخص صرف اپنی بقا کا حساب رکھتا تو مشترکہ زندگی کے بیشتر ادارے کبھی جنم نہ
لیتے۔جدید نفسیات انسانی تعلق اور مدد کے اثرات کو اہمیت دیتی ہے۔ تنہائی، بے قدری اور نظرانداز ہونے کا احساس امید کمزور کر سکتا ہے،
اس کے برعکس توجہ سے سننا، احترام سے بات کرنا اور ضرورت کے وقت ساتھ دینا کسی کو احساس دلا سکتا ہے کہ اس کی زندگی اہم ہے۔ مدد کرنے والے کو بڑے وسائل درکار نہیں۔ پریشان انسان کی بات سننا، طالب علم کو دوبارہ کوشش کی ہمت دینا، ناانصافی کے خلاف بولنا یا غم زدہ شخص کے پاس بیٹھنا بھی ایسا عمل ہے جس کا اثر ناپنے کا کوئی ترازو نہیں۔ چھوٹے اعمال اس لیے چھوٹے نہیں ہو جاتے کہ ان پر تالیاں نہیں بجتیں۔یہاں ایک اور سوال جنم لیتا ہے: کیا نیکی کی قدر اس بات سے طے ہونی چاہیے کہ دنیا اسے دیکھتی ہے یا نہیں؟ اگر کوئی شخص کسی اجنبی کی مدد کرے اور اس کا نام کسی کتاب، خبر یا تاریخ میں درج نہ ہو، تو کیا اس کے عمل کی معنویت کم ہو جاتی ہے؟
درحقیقت، اخلاقیات کی اصل آزمائش اسی لمحے ہوتی ہے جب تعریف کی امید، شہرت کی خواہش اور صلے کی توقع موجود نہ ہو۔ شاید انسان کی سب سے بڑی عظمت یہی ہے کہ وہ کسی دوسرے کے لیے آسانی پیدا کرے، خواہ دنیا کو اس کی خبر تک نہ ہو۔ بعض اوقات ایک خاموش نیکی کسی بلند آواز تقریر سے زیادہ گہرا انسانی اثر چھوڑ جاتی ہے، کیونکہ تقریر ذہن کو متاثر کرتی ہے، مگر بے غرض عمل انسان کے تجربے میں امید کو دوبارہ زندہ کر دیتا ہے۔
فلسفی ایمانوئل کانٹ نے انسان کو محض کسی مقصد کا ذریعہ سمجھنے کے بجائے اپنی ذات میں مقصد ماننے پر زور دیا۔ یہ تصور خبردار کرتا ہے کہ انسانوں کو صرف معاشی پیداوار، ملازمت یا آمدنی سے جانچنا اخلاقی تنگ نظری ہے۔ بیمار شخص، بے روزگار نوجوان، معذور فرد، بوڑھا شہری یا ایسا بچہ جو ابھی معاشی کام کے قابل نہیں، اپنی انسانی حرمت سے محروم نہیں ہو جاتا۔ اگر معاشرہ صرف دولت پیدا کرنے والوں کو اہم سمجھے تو وہ محبت، نگہداشت اور انسانی وقار کی بنیاد کاٹ دیتا ہے۔ انسان مشین نہیں جس کی قیمت پیداوار کے تناسب سے مقرر ہو۔یہاں ایک گہرا تضاد سامنے آتا ہے۔ ہم اکثر مدد کو خیرات سمجھتے ہیں اور دینے والے کو بلند، لینے والے کو کمتر تصور کرتے ہیں۔ مگر ہر انسان زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر محتاج ہوتا ہے؛ آج جو ہاتھ سہارا دیتا ہے، کل خود سہارا مانگ سکتا ہے۔ مہربانی برتری کا اعلان نہیں بلکہ انسانی کمزوری کے مشترک تجربے کا اعتراف ہے۔ باوقار مدد ضرورت مند کی خودداری محفوظ رکھتی ہے، اس کی آواز سنتی ہے اور اسے احسان کے بوجھ تلے نہیں دباتی۔ کسی کا بوجھ ہلکا کرنے کا مطلب اس کی زندگی پر اختیار حاصل کرنا نہیں، بلکہ اس کے سفر میں رکاوٹ کم کرنا ہے۔ فلسفیانہ اعتبار سے دیکھا جائے تو انسانی زندگی کا ایک بنیادی المیہ یہ بھی ہے کہ ہم اپنی اہمیت ثابت کرنے کے لیے دوسروں سے آگے نکلنا چاہتے ہیں، لیکن اپنی انسانیت ثابت کرنے کے لیے ہمیں کبھی کبھی کسی دوسرے کے ساتھ کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ مقابلہ ہمیں مقام دلا سکتا ہے، مگر ہمدردی ہمیں معنی دیتی ہے۔ ممکن ہے دنیا کسی فاتح کو اس کی فتح کے سبب یاد رکھے، لیکن ایک شکست خوردہ انسان کو وہ شخص ہمیشہ یاد رہ سکتا ہے جس نے اس کے مشکل ترین لمحے میں اس کا ہاتھ نہیں چھوڑا۔ انسانی تعلقات کی یہ خاموش یادداشت کسی سرکاری اعزاز، مالی انعام یا تاریخی خطاب کی محتاج نہیں ہوتی۔ڈکنز کے عہد میں صنعتی انقلاب نے دولت اور پیداوار کے نئے امکانات پیدا کیے، مگر شہروں میں غربت، بچوں کی مشقت اور طبقاتی عدم مساوات بھی نمایاں تھیں۔ ڈکنز نے اپنے ادب میں ان انسانوں کو چہرہ اور آواز دی جنہیں معاشی نظام مسئلہ سمجھتا تھا۔
معاشرے کی اخلاقی صحت کا اندازہ صرف عمارتوں، تجارت اور دولت سے نہیں؛ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کمزور ترین فرد کے ساتھ کیا سلوک
ہوتا ہے۔ جس ترقی میں انسانی تکلیف اوجھل ہو جائے، وہ اپنی اخلاقی منزل سے بھٹک سکتی ہے۔اسی لیے ترقی کا سوال صرف یہ نہیں کہ کتنی دولت پیدا ہوئی، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس سے انسانی دکھ کتنا کم ہوا۔ اگر ترقی کمزور کو تنہا اور طاقت ور کو بے نیاز کر دے تو اعداد و شمار کامیابی دکھا سکتے ہیں، مگر اخلاقی ضمیر اسے مکمل کامیابی نہیں مانتا۔ ایک ایسا معاشرہ جو اپنے شہریوں کو علاج، تعلیم، روزگار اور بنیادی تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہے، وہ ساری ذمہ داری انفرادی خیرات پر نہیں ڈال سکتا۔ ہمدردی انسان کا اخلاقی وصف ہے، جب کہ انصاف اجتماعی نظام کی ذمہ داری؛ حقیقی انسان دوستی دونوں کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کرتی۔پاکستان کی تاریخ اور معاشرت میں بھی یہ سوال اہم ہے۔ غربت، بے روزگاری، تعلیمی محرومی اور علاج کی عدم دستیابی کے درمیان لوگ ایسے بوجھ اٹھاتے ہیں جنہیں تنہا اٹھانا دشوار ہے۔ استاد کا غریب طالب علم کی مدد کرنا، ڈاکٹر کا مریض سے احترام سے پیش آنا، شہری کا سیلاب متاثرین کے لیے کھڑا ہونا اور کسی فرد کا کمزور کے حق میں آواز اٹھانا سماجی یکجہتی کی بنیاد ہے۔ ریاستی ذمہ داریوں کا بدل خیرات نہیں، لیکن شہری ہمدردی اور منصفانہ ادارے ایسی فضا بنا سکتے ہیں جہاں محرومی کو قسمت کہہ کر نظرانداز نہ کیا جائے۔آخرکار زندگی کا حساب صرف ان چیزوں سے نہیں لگایا جا سکتا جو ہم جمع کرتے ہیں؛ کچھ حساب ان بوجھوں کا بھی ہے جو ہم نے دوسروں کے کندھوں سے کم کیے۔ دولت ختم، شہرت فراموش اور منصب کسی اور کو مل سکتا ہے، مگر مشکل وقت میں دیا گیا سہارا کسی کے دل اور فیصلوں میں برسوں زندہ رہتا ہے۔ کسی انسان کو بے کار کہنے سے پہلے پوچھنا چاہیے کہ اس نے کس کا دکھ سنا، کس کے لیے راستہ آسان کیا، اور کس تنہا شخص کو احساس دلایا کہ وہ اکیلا نہیں۔شاید انسان کی زندگی کا اصل امتحان یہ نہیں کہ اس نے دنیا سے کتنا حاصل کیا، بلکہ یہ ہے کہ اس کی موجودگی نے دنیا میں کتنی تکلیف کم کی۔ ہم سب کسی نہ کسی دکھ، خوف، محرومی یا خاموش جنگ سے گزر رہے ہیں۔ ایسے میں کسی کے لیے آسانی پیدا کرنا محض اچھا عمل نہیں، بلکہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ انسان کی تقدیر ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ کسی کے آنسو پونچھنا دنیا کے تمام مسائل حل نہیں کرتا، لیکن یہ اس تصور کو ضرور شکست دیتا ہے کہ انسان انسان کے لیے اجنبی ہے۔ ممکن ہے تاریخ ہمیں یہ نہ بتائے کہ ہم نے کتنی بڑی عمارتیں بنائیں؛ مگر انسانیت کا فیصلہ اس بات سے ضرور ہوگا کہ ہماری موجودگی میں کتنے لوگوں کا بوجھ کچھ ہلکا ہوا۔
٭٭٭


