میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
بھارتی فوج میں خود کشی کے واقعات میں اضافہ

بھارتی فوج میں خود کشی کے واقعات میں اضافہ

جرات ڈیسک
پیر, ۲ نومبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

بھارتی فوج میں خودکشی کے واقعات میں تیزی سے اضافے سے مسلح افواج کے اہلکاروں میں بڑھتی ہوئی مایوسی ظاہر ہوتی ہے۔ فوجی اہلکاروں میں خود کشی کے بڑھتی ہوئے واقعات سے فوجیوں کے پست مورال اعلیٰ افسران کی طرف سے بدسلوکی، بدعنوانی اور پیشہ وارانہ مہارت میں کمی جیسے مسائل کی نشاندہی ہوتی ہے۔14 اور 2024کے دوران گزشتہ بیس سال میں بھارتی فوج کے 983 اہلکاروں نے خود کشی کی جن میں بحریہ کے 96 اور فضائیہ کے 248 شامل ہیں۔ اس عرصے کے دوران اوسط سالانہ تقریبا سو کے قریب اہلکاروں نے خود کشی کی۔

اعداد و شمار کے مطابق بھارتی فوج میں ہر تیسرے دن ایک فوجی خود کشی کرتا ہے یا ساتھی اہلکاروں کی فائرنگ سے ہلاک ہوتا ہے۔ یونائیٹڈ سروس انسٹیٹیوشن کی 2019-20 کی اسٹڈی کے مطابق بھارتی فوج میں شدید اعصابی تناؤ، مایوسی ، کام کے بوجھ اور نفسیاتی مسائل خود کشی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی بڑی وجہ ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق بھارت میں دو دہائیوں کے دوران فوجیوں کے خودکشی کے واقعات کی وجہ ذہنی دباؤ اور ڈپریشن رہا ہے اور 2001 سے اب تک مختلف واقعات میں 3300 سے زائد بھارتی فوجی خودکشی کر چکے ہیں، 5 سال میں 800 سے زائد بھارتی جوانوں نے افسران بالا کے رویے سے تنگ آکر خودکشی کی۔ گزشتہ برس اپریل میں بھارتی فوجی نے اپنے 4 ساتھیوں کو گولیاں مار کر قتل کیا جبکہ 23 جنوری 2023 کو کرنل کھنہ نے پنکھے سے لٹک کر خودکشی کر لی اور 9 جنوری 2023 کو فیروز پور میں لیفٹیننٹ کرنل نشانت نے بیوی کو گولی مار کر خودکشی کی۔ 2007 سے اب تک بھارتی افواج میں خواتین افسران سے زیادتی اور جنسی ہراسانی کے 1243 واقعات رپورٹ ہوئے۔بھارتی فوج میں مایوسی اور اضطراب اتنا بڑھ چکا ہے کہ ان میں خودکشی کے رجحان میں اضافہ ہوگیا ہے اور 400 فوجی اپنی زندگی کا خاتمہ کرچکے ہیں۔سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے 430 اہلکاروں نے گزشتہ دس سال 2014 سے 2023 کے درمیان خودکشی کی ہے اور صرف گزشتہ ایک سال میں 52 فوجی جوانوں نے اپنی زندگی کا خاتمہ کیا جب کہ اس سے ایک سال قبل 2022 میں 43 اور 2021 میں 57 خودکشی کے واقعات سامنے آئے تھے۔صرف رواں سال 2024 کے مئی کے مہینے میں سی آر پی ایف کے تین کانسٹیبلوں نے خودکشی کی تھی۔رپورٹ میں بھارتی مسلح افواج میں خودکشی کے بڑھتے رجحان ایک بڑے خطرے کی علامت قرار دیا گیا ہے۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں تعینات فوجیوں میں خودکشی کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے اور ہر سال درجنوں فوجی اپنی ہی بندوقوں سے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیتے ہیں۔سری نگر کے سول سیکرٹریٹ یا انتظامی مرکز کی حفاظت پر مامور بھارتی ریاست پنجاب سے تعلق رکھنے والے دلباغ سنگھ نامی نیم فوجی سی آر پی ایف کے ایک ہیڈ کانسٹیبل نے اپنی ہی بندوق سے خود پر گولی چلا کر خودکشی کر لی۔سرکاری اعداد وشمار کے مطابق سال 2010 سے 2019 تک بھارت میں 1113 فوجی اہلکاروں کی خودکشی کے 1113 مشتبہ واقعات درج کیے گئے۔ اگرچہ سرکاری اعداد و شمار میں کشمیر میں خودکشی کرنے والے فوجیوں کی تفصیلات الگ سے نہیں دی گئیں، تاہم سمجھا جا رہا ہے کہ چونکہ بھارت میں کشمیر سب سے زیادہ فوجیوں کی موجودگی والا علاقہ ہے اس لیے سب سے زیادہ معاملات یہیں درج ہوئے ہوں گے۔بھارتی فوج اندرونی خلفشار، ناقص تربیت اور غیر پیشہ ورانہ رویوں کی وجہ سے شدید بحران کا شکار ہو چکی ہے جس نے اس کی جنگی ساکھ پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ فوج کے اندر بڑھتی ہوئی خودکشیاں اور تربیتی حادثات ادارے کی بدانتظامی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔حال ہی میں ہریانہ میں تربیتی مشقوں کے دوران ایک بڑا حادثہ پیش آیا جب کشتی میں سوار 5 فوجی دریا کے تیز بہاؤ میں بہہ گئے۔ فنی خرابی کے باعث پیش آنے والے اس واقعہ میں 2 فوجی تاحال لاپتا ہیں جو تربیت کے معیار پر سوالیہ نشان ہے۔ اس سے قبل سی آر پی ایف کے اعداد و شمار بھی انتہائی تشویشناک سامنے آئے ہیں، جن کے مطابق گزشتہ ایک برس کے دوران 59 اہلکاروں نے شدید ذہنی دباؤ اور مایوسی کے عالم میں خودکشی کر لی۔ فوج کے اندرونی نظام کی خامیوں نے جوانوں کو خودکشی پر مجبور کیا ہے۔اسلحہ کی چوری کے واقعات نے بھی سیکیورٹی کے تمام دعوؤں کو کھوکھلا ثابت کر دیا ہے۔ سکندر آباد کی انتہائی محفوظ فوجی تنصیب سے 4 رائفلیں اور دیگر ہتھیاروں کی چوری نے ثابت کیا ہے کہ حساس مقامات تک رسائی حاصل کرنا اب کسی کے لیے بھی مشکل نہیں رہا۔مذکورہ واقعات کے علاوہ سابق فوجی بھی اپنے جائز حقوق سے محروم دکھائی دیتے ہیں۔ سابق فوجی شیوانند ریڈی کی جانب سے زمین کے الاٹمنٹ میں تاخیر پر خودکشی کی کوشش یہ ظاہر کرتی ہے کہ ادارے کے اندر اپنے ہی ملازمین کے مسائل کے حل کے لیے کوئی سنجیدہ لائحہ عمل موجود نہیں ہے۔بھارتی فوج کا انتہا پسندانہ ایجنڈے پر توجہ مرکوز کرنے کا خمیازہ اسے اپنی صلاحیتوں میں تنزلی کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر فوری طور پر انتظامی اور تربیتی اصلاحات نہ کی گئیں تو یہ ادارہ مزید سنگین اندرونی بحرانوں میں گھر جائے گا۔مذکورہ تمام رپورٹس بین الاقوامی سطح پر بھارتی فوج کی کارکردگی اور اس کی عسکری تیاریوں پر گہرے شکوک و شبہات پیدا کر رہی ہیں۔ خودکشی، اسلحہ کی چوری اور تربیتی حادثات کا تسلسل بھارتی عسکری ڈھانچے کی کمزوریوں کو دنیا کے سامنے مکمل طور پر بے نقاب کر چکا ہے۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں