میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
رہائشی پراپرٹی کمرشل ظاہر، غلط نقشہ منظوری

رہائشی پراپرٹی کمرشل ظاہر، غلط نقشہ منظوری

جرات ڈیسک
جمعه, ۲ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

ڈیمولیشن آرڈر کے باوجود چوتھی منزل تعمیر، ڈپٹی ڈائریکٹر ذیشان خانزادہ مشکوک

سٹی سروے کی مبینہ غلط پی ٹی ڈی رپورٹ پر نقشہ کیسے منظور ہوا؟ تحقیقات کا مطالبہ

………………………..

قاضی قیوم روڈ پر پراپرٹی نمبر 1088کو مبینہ طور پر رہائشی سے کمرشل ظاہر کرکے پلازہ تعمیر کیے جانے کا معاملہ سنگین ہوگیا۔ ذرائع اور درخواست گزاروں کے مطابق سٹی سروے کی مبینہ غلط پی ٹی ڈی رپورٹ بلڈنگ کنٹرول حکام کو فراہم کی گئی، جس کی بنیاد پر تعمیراتی نقشہ منظور کیا گیا اور رہائشی علاقے میں عمارت کی تعمیر جاری ہے ، جو اب چوتھی منزل تک پہنچ چکی ہے ۔معاملے میں سٹی بلڈنگ کنٹرول کے ڈپٹی ڈائریکٹر ذیشان خانزادہ کے ماتحت عملے کی جانب سے نقشہ منظوری کے عمل پر بھی سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ اگر پراپرٹی کا سابقہ ریکارڈ رہائشی تھا تو اسے کمرشل ظاہر کرنے کی بنیاد کیا بنی اور مبینہ طور پر غلط پی ٹی ڈی رپورٹ کی تصدیق کیے بغیر نقشہ کس بنیاد پر منظور کیا گیا؟اہلِ علاقہ نے الزام عائد کیا ہے کہ مبینہ طور پر بھاری رشوت کے عوض تعمیراتی کام میں سہولت کاری کی گئی، جبکہ ڈپٹی ڈائریکٹر ذیشان خانزادہ، انسپکٹر آصف قائم خانی اور متعلقہ سٹی سروے اہلکاروں کے کردار کی بھی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ مزید تشویشناک امر یہ ہے کہ اہلِ علاقہ کے مطابق مذکورہ تعمیرات کے خلاف پہلے ہی ڈیمولیشن آرڈر جاری ہوچکا تھا، اس کے باوجود تعمیراتی کام رکا نہیں بلکہ عمارت چوتھی منزل تک پہنچ گئی۔ چار ماہ قبل متعلقہ حکام کو تحریری درخواست دینے کے باوجود کارروائی نہ ہونے پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔درخواست گزاروں نے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سندھ اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل سے مطالبہ کیا ہے کہ پی ٹی ڈی رپورٹ کس نے تیار کی، اسے کس بنیاد پر درست تسلیم کیا گیا، نقشہ کس افسر نے اور کن دستاویزات کی بنیاد پر منظور کیا، ڈیمولیشن آرڈر کے باوجود تعمیرات کیوں جاری رہیں اور چار ماہ سے درخواست پر کارروائی کیوں نہیں ہوئی ان تمام سوالات کی مکمل تحقیقات کرائی جائیں۔اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات میں مبینہ رشوت، ملی بھگت یا اختیارات کے ناجائز استعمال کے شواہد ثابت ہوں تو ذیشان خانزادہ سمیت ذمہ دار تمام افسران و اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں