میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
انبیائے کرام کی تصویری تمثیل ناجائز ہے، اسلامی نظریاتی کونسل

انبیائے کرام کی تصویری تمثیل ناجائز ہے، اسلامی نظریاتی کونسل

جرات ڈیسک
جمعرات, ۲ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

متنازع مواد کی اشاعت کے بعد ہٹا دینا کافی نہیں ، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے

کونسل میں جیو ٹی وی پر چلنے والے مقدس شخصیات کے خاکوں کے خلاف قراردادکی منظوری

 

اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق انبیاء کرام علیہم السلام کی اے ائی کے ذریعے بھی تصویری تمثیل ناجائز قرار دے دی گئی ہے۔

30جون کو چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل علامہ ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا جس میں ملکی صورتحال، قانونی امور اور عوامی مفاد کے متعدد فیصلوں کی منظوری دی گئی۔

کونسل نے جیو ٹی وی چینل پر چلنے والے مقدس شخصیات کے خاکوں کے متعلق قرارداد کی منظوری دی جس کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل نے تمام الیکٹرانک، پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز کی اس امر کی طرف توجہ مبذول کرائی کہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام اور خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خلفائے راشدین، اہل بیت علیہم السلام و امہات المؤمنین و صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے تمام اہل اسلام کی عقیدت و محبت بے پایاں ہے اور یہ ہماری عقیدت ایمان کا بنیادی جزو ہے۔

تنظیم اسلامی نے جیو نیوز کے عمل کو بدترین گستاخی قرار دے دیا

انبیاء کرام کی شبیہ، تصویری بیان یا تمثیل ان مقدس شخصیات کی نمائندگی کرنے والے کسی بھی بصری میڈیا مواد کی اشاعت شرعی لحاظ سے ناجائز امر ہے ۔ جس کی اسلامی نظریاتی کونسل قبل ازیں بھی واضح سفارش کر چکی ہے۔ لہٰذا اس عمل سے مکمل اجتناب کیا جائے تاکہ عوامی جذبات مجروح نہ ہوں اور ان پاک ہستیوں کے متعین مقام و مرتبہ کا تقدس برقرار رہے۔

جدید ڈیجیٹل میڈیا اور مصنوعی ذہانت (AI)کے اس دور میں معلومات کا پھیلاؤ جس تیزی سے ہوتا ہے ، وہاں کسی متنازع غیر شرعی مواد کی اشاعت کے بعد ہٹا دینا محض ازالہ نہیں رہتا ،کافی نہیں رہتا ،اس کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے ۔ قرارداد میں دیگر ریگولیٹری اداروں کو بھی سختی سے قوائد پر عمل پیرا ہونے کی جانب توجہ دلائی گئی ہے ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں