منی پور میں شہریوں کا انوکھا احتجاج
شیئر کریں
شورش زدہ ریاست منی پور میں جاری نسلی تنازع، مسلسل خونریزی اور امن و امان بحال کرنے میں بی جے پی حکومت کی ناکامی کے خلاف ہزاروں شہریوں نے ایک منفرد ‘ساؤنڈ پروٹیسٹ’ (آواز کے ذریعے احتجاج) کیا۔ ریاست کے پانچ وادی اضلاع میں شہریوں نے سڑکوں اور محلوں میں نکل کر روایتی طریقوں کے بجائے شور مچا کر حکومت کے خلاف اپنے شدید غم و غصے کا اظہار کیا‘فیڈریشن آف ہومی’ کی کال پر گزشتہ شام ساڑھے 7 سے رات 8 بجے کے درمیان ہزاروں لوگوں نے اپنے گھروں سے باہر نکل کر کچن کے برتن (تھالیاں وغیرہ) بجائیں، روایتی ڈھول پیٹے اور گاڑیوں کے ہارن بجا کر بھارتیہ جنتا پارٹی کی سوئی ہوئی حکومت کو جگانے کی علامتی کوشش کی۔مظاہرین نے لوہے کے ہتھوڑوں سے گلیوں میں نصب بجلی کے کھمبوں کو پیٹا تاکہ ایک زوردار گونج دار آواز پیدا کی جا سکے ،احتجاج کے آخری لمحات میں شہریوں نے علامتی طور پر اپنے گھروں کی لائٹس بھی بند کیں۔دارالحکومت امپھال کے تاریخی کانگلا فورٹ کے قریب جب ہزاروں مظاہرین جمع ہوئے اور ہائی سیکیورٹی زون ‘راج بھون’ (گورنر ہاؤس )کی طرف مارچ کی کوشش کی، تو پولیس نے انہیں روکا اور ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے داغے۔ مظاہرے میں شریک ایک شخص نے کہا، "ہم یہ شور اس لیے مچا رہے ہیں تاکہ ہمارے رہنما ہمارا درد سن سکیں ہم ایک طویل عرصے سے ان سے امن کے قیام کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن انہوں نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں لہذا آج ہم اسے منفرد احتجاج پر مجبور ہوئے۔یہ انوکھا احتجاج حالیہ دنوں میں عسکریت پسندوں کی فائرنگ سے میتی (عیسائی) برادری کے تین شہریوں کے قتل اور ریاست میں مئی 2023 سے جاری طویل نسلی فسادات کے خلاف کیا گیا ہے، جس میں اب تک سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں بے گھر ہو چکے ہیں۔
ریاست کے شہری نریندر مودی کی مرکزی اور مقامی بی جے پی حکومت کی خاموشی اور امن قائم کرنے میں مسلسل ناکامی پر شدید برہم ہیں۔نریندر مودی کی سربراہی میں قائم بی جے پی حکومت کو اپوزیشن جماعتوں، سول سوسائٹی گروپس، انسانی حقوق کی تنظیموں وغیرہ کی طرف سے طویل بحران سے نمٹنے اور بار بار ہونے والے تشدد کو روکنے میں ناکامی پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑرہا ہے‘‘بی جے پی کی نااہلی کی وجہ سے منی پور ایک بار پھر لہولہان ہو رہا ہے۔ حالیہ تشدد میں 4 بے گناہ شہریوں کا بہیمانہ قتل انتہائی قابل مذمت ہے۔ سوگوار خاندانوں کے ساتھ میری دلی تعزیت ہے۔’’ یہ تبصرہ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے منی پور کے تازہ پرتشدد حالات پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کیا۔ مئی 2023 سے اب تک 300 سے زیادہ قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں اور 24,530 افراد انتہائی خراب حالات میں راحتی کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ خواتین، بچے اور کمزور طبقوں سے تعلق رکھنے والے خاندان اس طویل المیے کا خمیازہ مسلسل بھگت رہے ہیں،کانگریس صدر نے مرکز کی مودی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ صدر راج نافذ کرنے سے لے کر وزیر اعلیٰ کو تبدیل کرنے اور اپنی ہی حکومت دوبارہ قائم کرنے تک، بی جے پی کی سیاسی چال بازیوں سے امن قائم نہیں ہو سکا۔ ‘‘وزیر اعظم مودی، جو تشدد شروع ہونے کے بعد تقریباً 29 ماہ تک منی پور کی سرزمین پر قدم رکھنے تک نہیں آئے، پارلیمنٹ میں دی گئی اپنی نام نہاد یقین دہانی کو پورا کرنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔’’‘‘اسٹریٹجک لحاظ سے اس انتہائی اہم سرحدی ریاست میں مسلسل خونریزی اس بات کا ثبوت ہے کہ بی جے پی قانون و انتظام برقرار رکھنے، آئینی حقوق کے تحفظ اور قومی سلامتی کو یقینی بنانے میں ناکام رہی ہے۔’’
مودی حکومت سے یہ سوال ہے کہ جون 2023 میں امت شاہ کی جانب سے تشکیل دی گئی امن کمیٹی کا کیا ہوا؟ امن بحال کرنے، شہریوں کی حفاظت کرنے اور اس حساس سرحدی ریاست میں سلامتی کے مسلسل بڑھتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے کیا ٹھوس اقدامات کیے گئے ہیں؟سپریم کورٹ کی جانب سے مقرر کردہ جسٹس گیتا متل کمیٹی کی سفارشات پر کیا کارروائی کی گئی ہے؟ سپریم کورٹ نے راحتی کیمپوں میں ہونے والی 31 غیر فطری اموات کی نشاندہی کی ہے، اس کے باوجود ہزاروں لوگ اب بھی بے گھر کیوں ہیں؟ خواتین، بچوں اور بے گھر خاندانوں کی سلامتی، عزت و وقار اور بازآبادکاری کو یقینی بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں؟3 سال سے زیادہ کا عرصہ گزرنے، 300 سے زیادہ اموات، صدر راج کے نفاذ اور وزیر اعلیٰ کی تبدیلی کے باوجود، حکمرانی کی اس بھیانک ناکامی کی ذمہ داری کون لے گا؟
وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے کارروائی کرنے سے پہلے مزید کتنے بے گناہوں کی جانیں ضائع ہوں گی؟مذکورہ بالا سوالات قائم کرنے کے بعد کھڑگے کا کہنا ہے کہ ‘‘منی پور انصاف، عزت و وقار، آئینی حقوق اور پائیدار امن کا حق دار ہے۔’’ اسٹریٹجک لحاظ سے اہم سرحدی ریاست ہونے کے ناطے منی پور کی سلامتی اور استحکام کو بی جے پی کے سیاسی مفادات کی بھینٹ نہیں چڑھایا جا سکتا۔
٭٭٭


