میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
نیویارک پراپرٹی تحقیقات، نیب نے آصف زرداری کے اثاثوں کا ریکارڈ حاصل کرلیا

نیویارک پراپرٹی تحقیقات، نیب نے آصف زرداری کے اثاثوں کا ریکارڈ حاصل کرلیا

ویب ڈیسک
منگل, ۱۳ جولائی ۲۰۲۱

شیئر کریں

قومی احتساب بیورو (نیب)نے سابق صدر آصف زرداری کی نیویارک میں پراپرٹی کی تحقیقات کے سلسلہ میں الیکشن کمیشن سے ظاہر کیے گئے اثاثوں کا ریکارڈ حاصل کرلیا۔الیکشن کمیشن ریکارڈ میں آصف زرداری نے نیویارک پراپرٹی ظاہر نہیں کی۔ نیب ذرائع کے مطابق نیویارک پراپرٹی رجسٹرار کی پرانی دستاویزات نیب کے پاس موجود ہے، ملکیت آصف زرداری کی ہی تھی۔دستاویزات کے مطابق 20 جون 2007 کو 5 لاکھ 30 ہزار ڈالر میں اپارٹمنٹ خریدا گیا۔ سات جون 2007 کو آصف زرداری نے میری این نامی خاتون کو پراپرٹی خریدنے کا پاور آف اٹارنی دیا۔ایک نجی ٹی وی کے مطابق نیب نے فلیٹ کی موجودہ ملکیت سے متعلق امریکا سے مزید معلومات لینے کا فیصلہ کرلیا۔آصف علی زرداری نے نیویارک پراپرٹی کیس میں 28 جولائی تک عبوری ضمانت لے رکھی ہے۔ آصف زرداری نے نیب سے سوالنامے کا جواب دینے کیلئے ایک ماہ کی مہلت بھی طلب کی تھی۔


مزید خبریں

دمشق: بشار الاسد کی شامی حکومت کے ڈرامائی زوال نے ان کی حکومت کے تاریک پہلوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے، جن میں ممنوعہ منشیات کیپٹاگون کی صنعتی سطح پر برآمد شامل ہے۔  زرائع کے مطابق اپوزیشن فورسز نے ان اڈوں اور تقسیم کے مراکز پر قبضہ کر لیا ہے جہاں یہ نشہ آور گولیاں تیار کی جاتی تھیں اور پورے مشرق وسطیٰ میں بلیک مارکیٹ میں فروخت کی جاتی تھیں۔ ہیئت تحریر الشام کے زیر قیادت ان جنگجوؤں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے منشیات کی ایک بڑی کھیپ قبضے میں لے لی ہے اور اسے تباہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔  ایچ ٹی ایس کے جنگجوؤں نے اے ایف پی کے صحافیوں کو دمشق کے مضافات میں ایک کوئلے کے گودام تک رسائی دی، جہاں کیپٹاگون گولیوں کو برقی آلات کے پرزوں کے اندر چھپا کر برآمد کیا جا رہا تھا۔  گودام کے نیچے موجود ایک بڑے گیراج میں، ہزاروں کی تعداد میں مٹیالے رنگ کی کیپٹاگون گولیاں نئی گھریلو وولٹیج اسٹیبلائزرز کی تانبے کی کوائلز میں چھپائی گئی تھیں۔  ابو مالک الشامی نامی ایک نقاب پوش جنگجو نے کہا،

دمشق: بشار الاسد کی شامی حکومت کے ڈرامائی زوال نے ان کی حکومت کے تاریک پہلوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے، جن میں ممنوعہ منشیات کیپٹاگون کی صنعتی سطح پر برآمد شامل ہے۔ زرائع کے مطابق اپوزیشن فورسز نے ان اڈوں اور تقسیم کے مراکز پر قبضہ کر لیا ہے جہاں یہ نشہ آور گولیاں تیار کی جاتی تھیں اور پورے مشرق وسطیٰ میں بلیک مارکیٹ میں فروخت کی جاتی تھیں۔ ہیئت تحریر الشام کے زیر قیادت ان جنگجوؤں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے منشیات کی ایک بڑی کھیپ قبضے میں لے لی ہے اور اسے تباہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ایچ ٹی ایس کے جنگجوؤں نے اے ایف پی کے صحافیوں کو دمشق کے مضافات میں ایک کوئلے کے گودام تک رسائی دی، جہاں کیپٹاگون گولیوں کو برقی آلات کے پرزوں کے اندر چھپا کر برآمد کیا جا رہا تھا۔ گودام کے نیچے موجود ایک بڑے گیراج میں، ہزاروں کی تعداد میں مٹیالے رنگ کی کیپٹاگون گولیاں نئی گھریلو وولٹیج اسٹیبلائزرز کی تانبے کی کوائلز میں چھپائی گئی تھیں۔ ابو مالک الشامی نامی ایک نقاب پوش جنگجو نے کہا، "جب ہم نے گودام میں داخل ہو کر تلاشی لی، تو ہمیں پتہ چلا کہ یہ فیکٹری ماہر الاسد اور اس کے ساتھی عامر خیتی کی ہے۔" ماہر الاسد سابق صدر بشار الاسد کا بھائی تھا، اب مفرور سمجھا جا رہا ہے۔ اس پر منشیات کی منافع بخش تجارت کے پیچھے ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام ہے۔ شامی سیاستدان عامر خیتی پر 2023 میں برطانوی حکومت نے پابندیاں عائد کی تھیں۔ 

Author One
جمعه, ۱۳ دسمبر ۲۰۲۴

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں