سندھ بلڈنگ، وسطی میں شہری زندگیاں داؤ پر،پرانی عمارتوں پر اضافی منزلیں
شیئر کریں
ناظم آباد نمبر 1، بلاک Hکے پلاٹ نمبر 7/8اور 7/9پر پانچویں منزل کی خلافِ ضابطہ تعمیر
ڈائریکٹر الطاف کھوکھر پر ملی بھگت کے الزامات، شہریوں کا اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ضلع وسطی میں پرانی اور خستہ حال عمارتوں پر مبینہ غیر قانونی اضافی منزلوں کی تعمیر کا سلسلہ بدستور جاری ہے ، جبکہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے متعلقہ افسران کی خاموشی نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے ۔ جرأت سروے کے دوران تازہ ترین معاملہ ناظم آباد نمبر 1، بلاک H کے پلاٹ نمبر 7/8 اور 7/9 پر قائم پرانی عمارت کا سامنے آیا ہے ، جہاں زمینی حقائق کے مطابق مبینہ طور پر پانچویں منزل تعمیر کی تیاری کی جا رہی ہے ۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ عمارت کئی برس پرانی ہے ، اس کے باوجود اس پر اضافی منزل کی تعمیر جاری ہے ، جو نہ صرف تعمیراتی ضوابط کی خلاف ورزی ہے بلکہ کسی بھی وقت بڑے حادثے کا سبب بھی بن سکتی ہے ۔ شہریوں کے مطابق متعلقہ حکام کو متعدد بار شکایات سے آگاہ کیا گیا، لیکن تعمیراتی کام تاحال نہیں رکوایا گیا نہ ہی ذمہ دار افسران کی جانب سے مؤثر کاروائی کی گئی۔ اس صورتحال پر متعلقہ ڈائریکٹر الطاف کھوکھر کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور ان پر مبینہ ملی بھگت کے الزامات عائد کیئے جا رہے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ الزامات کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، عمارت کی فوری تکنیکی جانچ کرائی جائے ، غیر قانونی تعمیرات کو روکا جائے اور اگر کسی افسر کی غفلت یا ملی بھگت ثابت ہو تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی عمل میں لائی جائے ۔علاقہ مکینوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر پرانی عمارتوں پر غیر قانونی اضافی منزلوں کی تعمیر کا سلسلہ نہ روکا گیا تو کسی بھی وقت بڑا سانحہ رونما ہو سکتا ہے ، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ اداروں اور غفلت برتنے والے افسران پر عائد ہوگی۔
سندھ بلڈنگ


