میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ڈیم فنڈ میں4 ارب 16 کروڑ روپے سے زائد رقم جمع

ڈیم فنڈ میں4 ارب 16 کروڑ روپے سے زائد رقم جمع

ویب ڈیسک
هفته, ۲۹ ستمبر ۲۰۱۸

شیئر کریں

سپریم کورٹ، وزیراعظم ڈیم فنڈ میں اب تک مجموعی طور پر 4 ارب 16 کروڑ 56 لاکھ روپے سے زائد رقم جمع ہوچکی ہے ۔ اندرون ملک سے 3 ارب 81 کروڑ 76 لاکھ روپے جبکہ تارکین وطن نے 34 کروڑ 79 لاکھ 97 ہزار روپے بھجوائے ۔سپریم کورٹ، وزیراعظم ڈیم فنڈ میں پاکستانی اداروں اور شہریوں کی جانب سے عطیات کا سلسلہ جاری ہے ۔ بیرون ملک میں سب سے زیادہ 12 کروڑ 72 لاکھ 90 ہزار کے عطیات امریکا سے موصول ہوئے ۔ متحدہ عرب امارات میں بسنے والے پاکستانیوں نے 3 کروڑ 78 لاکھ روپے ، برطانیا سے 3 کروڑ 59 لاکھ ، کینیڈا سے 3 کروڑ 28 لاکھ، 79 ہزار جبکہ سعودی عرب سے 2 کروڑ 21 لاکھ سے زائد کے عطیات آئے ۔ڈیم فنڈ میں موبائل فون میسج کے ذریعے بھی اب تک 8 کروڑ 48 لاکھ 71 ہزار روپے سے زائد رقم آچکی ہے ۔ سپریم کورٹ فیصلے کے مطابق دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر کے لیے مجموعی طور پر 1362 ارب روپے درکار ہیں جبکہ وہاں انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے 300 ارب اضافی درکار ہوں گے ۔


مزید خبریں

دمشق: بشار الاسد کی شامی حکومت کے ڈرامائی زوال نے ان کی حکومت کے تاریک پہلوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے، جن میں ممنوعہ منشیات کیپٹاگون کی صنعتی سطح پر برآمد شامل ہے۔  زرائع کے مطابق اپوزیشن فورسز نے ان اڈوں اور تقسیم کے مراکز پر قبضہ کر لیا ہے جہاں یہ نشہ آور گولیاں تیار کی جاتی تھیں اور پورے مشرق وسطیٰ میں بلیک مارکیٹ میں فروخت کی جاتی تھیں۔ ہیئت تحریر الشام کے زیر قیادت ان جنگجوؤں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے منشیات کی ایک بڑی کھیپ قبضے میں لے لی ہے اور اسے تباہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔  ایچ ٹی ایس کے جنگجوؤں نے اے ایف پی کے صحافیوں کو دمشق کے مضافات میں ایک کوئلے کے گودام تک رسائی دی، جہاں کیپٹاگون گولیوں کو برقی آلات کے پرزوں کے اندر چھپا کر برآمد کیا جا رہا تھا۔  گودام کے نیچے موجود ایک بڑے گیراج میں، ہزاروں کی تعداد میں مٹیالے رنگ کی کیپٹاگون گولیاں نئی گھریلو وولٹیج اسٹیبلائزرز کی تانبے کی کوائلز میں چھپائی گئی تھیں۔  ابو مالک الشامی نامی ایک نقاب پوش جنگجو نے کہا،

دمشق: بشار الاسد کی شامی حکومت کے ڈرامائی زوال نے ان کی حکومت کے تاریک پہلوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے، جن میں ممنوعہ منشیات کیپٹاگون کی صنعتی سطح پر برآمد شامل ہے۔ زرائع کے مطابق اپوزیشن فورسز نے ان اڈوں اور تقسیم کے مراکز پر قبضہ کر لیا ہے جہاں یہ نشہ آور گولیاں تیار کی جاتی تھیں اور پورے مشرق وسطیٰ میں بلیک مارکیٹ میں فروخت کی جاتی تھیں۔ ہیئت تحریر الشام کے زیر قیادت ان جنگجوؤں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے منشیات کی ایک بڑی کھیپ قبضے میں لے لی ہے اور اسے تباہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ایچ ٹی ایس کے جنگجوؤں نے اے ایف پی کے صحافیوں کو دمشق کے مضافات میں ایک کوئلے کے گودام تک رسائی دی، جہاں کیپٹاگون گولیوں کو برقی آلات کے پرزوں کے اندر چھپا کر برآمد کیا جا رہا تھا۔ گودام کے نیچے موجود ایک بڑے گیراج میں، ہزاروں کی تعداد میں مٹیالے رنگ کی کیپٹاگون گولیاں نئی گھریلو وولٹیج اسٹیبلائزرز کی تانبے کی کوائلز میں چھپائی گئی تھیں۔ ابو مالک الشامی نامی ایک نقاب پوش جنگجو نے کہا، "جب ہم نے گودام میں داخل ہو کر تلاشی لی، تو ہمیں پتہ چلا کہ یہ فیکٹری ماہر الاسد اور اس کے ساتھی عامر خیتی کی ہے۔" ماہر الاسد سابق صدر بشار الاسد کا بھائی تھا، اب مفرور سمجھا جا رہا ہے۔ اس پر منشیات کی منافع بخش تجارت کے پیچھے ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام ہے۔ شامی سیاستدان عامر خیتی پر 2023 میں برطانوی حکومت نے پابندیاں عائد کی تھیں۔ 

Author One
جمعه, ۱۳ دسمبر ۲۰۲۴

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں