میگزین

Magazine
تازہ ترین :  ڈبلیو ڈبلیو ای کراؤن جیول: رومن رینز نے سمی زین کو ہرا کر مینز کراؤن جیول چیمپئن شپ  جیت لی فارمولا ون نے ساؤ پالو گراں پری کو 2035 تک کیلنڈر میں برقرار رکھنے کا معاہدہ کر لیا مکسڈ مارشل آرٹس، وسیم اکرم کے صاحبزادے تیمور اکرم نے امریکی حریف کو چت کر دیا، مسلسل چوتھی فتح ٹیم سلیکشن کا کام متعلقہ حکام کا ہے، ہر بات یہاں بتانا ضروری نہیں، بابراعظم اپوزیشن کا سی سی ڈی پولیس مقابلوں میں ہلاکتوں کی تحقیقات کے لیے تحریک التوا لانے کا فیصلہ دنیا کی بلند ترین چیخ کا اعزاز برطانوی خاتون کے نام، نام گنیز ورلڈ ریکارڈ میں شامل عالمی مالیاتی منڈیوں میں ٹیکنالوجی اتارچڑھاؤ اور بلند شرحوں کا خطرہ ایران کے تجارتی راستوں پر دباؤ اور توانائی کی قیمت: پاکستان کا درآمدی بل پھر مرکز میں ایران سے متعلق ڈالر پابندیوں کی توسیع: ترسیلات، کمپلائنس اور علاقائی تجارت کا خطرہ پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کی ممکنہ 1.2 ارب ڈالر قسط: ریزروز اور اصلاحات کا اگلا امتحان

ای پیج

e-Paper
اپوزیشن کا سی سی ڈی پولیس مقابلوں میں ہلاکتوں کی تحقیقات کے لیے تحریک التوا لانے کا فیصلہ

اپوزیشن کا سی سی ڈی پولیس مقابلوں میں ہلاکتوں کی تحقیقات کے لیے تحریک التوا لانے کا فیصلہ

جرات ڈیسک
اتوار, ۸ نومبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

تحریک میں چیف جسٹس ہائی کورٹ کی سربراہی میں ایک بااختیار عدالتی کمیشن تشکیل دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا

اپوزیشن نے سی سی ڈی پولیس مقابلوں میں ہلاکتوں کی تحقیقات کے لیے تحریک التوا لانے کا فیصلہ کرتے ہوئے عدالتی کمیشن بنانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے پولیس مقابلوں میں ہلاکتوں اور قانونی تقاضوں سے متعلق سوالات اٹھا دیے گئے۔ اپوزیشن رکن پنجاب اسمبلی احمر بھٹی 15 اپوزیشن ارکان کے ہمراہ تحریک التوا پنجاب اسمبلی میں جمع کروائیں گے۔

تحریک التوا کے متن کے مطابق پنجاب میں سی سی ڈی کے پولیس مقابلوں میں 924 افراد ہلاک ہوئے، ہیومن رائٹس کمیشن رپورٹ کے مطابق 2025 میں سی سی ڈی کی کارروائیوں کے دوران مبینہ پولیس مقابلوں میں 924 افراد ہلاک ہوئے، سی سی ڈی کی کارروائیوں میں طاقت کے استعمال اور اس کی قانونی حیثیت کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

متن کے مطابق ایچ آر سی پی نے مارچ 2026 میں قائم اپنی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ میں بھی ان واقعات کی نشاندہی کی، پولیس حکام کی جانب سے بعض کارروائیوں کو جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائیاں قرار دیا جاتا ہے، تاہم پولیس مقابلوں میں ہلاکتوں کی نوعیت اور حالات کا غیر جانبدارانہ تعین ضروری ہے۔

متن کے مطابق کسی بھی شخص پر سنگین جرائم کے الزامات ہونے کے باوجود اسے قانون کے مطابق گرفتاری، منصفانہ سماعت اور عدالتی کارروائی کا حق حاصل ہے، کسی بھی ملزم کو سزا دینے کا اختیار صرف عدالتوں کو حاصل ہے، پولیس کارروائیوں کے دوران طاقت کا استعمال قانون کے مقررہ تقاضوں کے مطابق ہونا ضروری ہے۔

آئین کے آرٹیکل 9 کے تحت شہریوں کے بنیادی حقِ زندگی اور تحفظ کو یقینی بنایا گیا ہے، آرٹیکل 10 کے تحت گرفتاری اور حراست کے معاملات میں قانونی تحفظ حاصل ہے، آرٹیکل 10-A کے تحت منصفانہ سماعت اور قانونی تقاضوں کی پابندی بنیادی حق ہے جبکہ آرٹیکل 14 کے تحت انسانی وقار اور نجی زندگی کے احترام کو بنیادی آئینی تحفظ حاصل ہے۔

پولیس مقابلوں میں ہونے والی ہلاکتوں کی آزادانہ، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ضروری ہے۔ پولیس مقابلوں کے دوران شواہد کے تحفظ، متعلقہ افسران کی ذمہ داری کا تعین اور قانون کی خلاف ورزی ثابت ہونے کی صورت میں مؤثر قانونی کارروائی ناگزیر ہے۔

تحریک میں چیف جسٹس ہائی کورٹ کی سربراہی میں ایک بااختیار عدالتی کمیشن تشکیل دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ مجوزہ عدالتی کمیشن میں دوسرے صوبے سے تعلق رکھنے والے پولیس کے ریٹائرڈ آئی جی، ہائی کورٹ کے سینئر نمائندے اور انسانی حقوق کے شعبے کے ایک ماہر کو شامل کرنے کی تجویز دی گئی۔

عدالتی کمیشن سی سی ڈی کی کارروائیوں اور ان کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرے گا۔ مبینہ پولیس مقابلوں میں ہلاک ہونے والے افراد اور ان کے خاندانوں کے لیے انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ متن کے مطابق سی سی ڈی کی کارروائیوں میں شفافیت، قانون کی حکمرانی اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

اپوزیشن رکن احمر بھٹی کے مطابق سی سی ڈی کی کاروائیوں کی منصفانہ تحقیات ضروری ہے، ہم 15 کے قریب ممبرز اس تحریک کو مشترکہ طور پر جمع کروائیں گے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں