میگزین

Magazine
تازہ ترین :  ڈبلیو ڈبلیو ای کراؤن جیول: رومن رینز نے سمی زین کو ہرا کر مینز کراؤن جیول چیمپئن شپ  جیت لی فارمولا ون نے ساؤ پالو گراں پری کو 2035 تک کیلنڈر میں برقرار رکھنے کا معاہدہ کر لیا مکسڈ مارشل آرٹس، وسیم اکرم کے صاحبزادے تیمور اکرم نے امریکی حریف کو چت کر دیا، مسلسل چوتھی فتح ٹیم سلیکشن کا کام متعلقہ حکام کا ہے، ہر بات یہاں بتانا ضروری نہیں، بابراعظم اپوزیشن کا سی سی ڈی پولیس مقابلوں میں ہلاکتوں کی تحقیقات کے لیے تحریک التوا لانے کا فیصلہ دنیا کی بلند ترین چیخ کا اعزاز برطانوی خاتون کے نام، نام گنیز ورلڈ ریکارڈ میں شامل عالمی مالیاتی منڈیوں میں ٹیکنالوجی اتارچڑھاؤ اور بلند شرحوں کا خطرہ ایران کے تجارتی راستوں پر دباؤ اور توانائی کی قیمت: پاکستان کا درآمدی بل پھر مرکز میں ایران سے متعلق ڈالر پابندیوں کی توسیع: ترسیلات، کمپلائنس اور علاقائی تجارت کا خطرہ پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کی ممکنہ 1.2 ارب ڈالر قسط: ریزروز اور اصلاحات کا اگلا امتحان

ای پیج

e-Paper
پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کی ممکنہ 1.2 ارب ڈالر قسط: ریزروز اور اصلاحات کا اگلا امتحان

پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کی ممکنہ 1.2 ارب ڈالر قسط: ریزروز اور اصلاحات کا اگلا امتحان

جرات ڈیسک
اتوار, ۸ نومبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

8 نومبر کی رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ دسمبر میں پاکستان کے لیے تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی قسط پر غور کر سکتا ہے: تقریباً 1 ارب ڈالر ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی اور تقریباً 210 ملین ڈالر ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے تحت۔ یہ منظوری خودکار نہیں؛ اس سے پہلے اکتوبر میں طے پانے والا اسٹاف لیول معاہدہ بورڈ کی منظوری کا منتظر ہے۔

یہ خبر پاکستان کی بیرونی مالیاتی پوزیشن کے لیے اہم ہے کیونکہ قسط ملنے سے زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی قرض ادائیگی کی صلاحیت اور دوسرے کثیرالجہتی و تجارتی فنانسرز کے اعتماد کو سہارا ملے گا۔ رپورٹ میں 30 اکتوبر تک مجموعی مائع ذخائر 26.86 ارب ڈالر اور اسٹیٹ بینک کے ذخائر 21.56 ارب ڈالر بتائے گئے ہیں؛ اس لیے نئی قسط ادائیگیوں کے کیلنڈر کے مقابلے میں ایک اضافی حفاظتی تہہ بن سکتی ہے۔

لیکن اس پیش رفت کو محض فنڈنگ نیوز سمجھنا غلط ہوگا۔ آئی ایم ایف کی موجودہ شراکت ٹیکس نیٹ وسعت، توانائی شعبے کی اصلاح، سرکاری اداروں کی حکمرانی، سماجی اخراجات کی بہتر ہدف بندی اور موسمیاتی لچک جیسے موضوعات سے بندھی ہوئی ہے۔ بیرونی توانائی قیمتیں بلند رہیں تو پاکستان کے درآمدی بل، گردشی قرضے اور صارفین پر ٹیرف کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ چنانچہ قسط کے ساتھ اصل سوال یہ رہے گا کہ حکومت مالی نظم برقرار رکھتے ہوئے کم آمدنی والے گھرانوں کو کس حد تک مؤثر تحفظ دیتی ہے۔

قابل توجہ نکات: بورڈ اجلاس کی باضابطہ تاریخ، کسی پیشگی اصلاحی اقدام یا ویور کا مطالبہ، نومبر کے ذخائر، اور توانائی و ٹیکس اقدامات کی رفتار۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں