میگزین

Magazine
تازہ ترین :  ڈبلیو ڈبلیو ای کراؤن جیول: رومن رینز نے سمی زین کو ہرا کر مینز کراؤن جیول چیمپئن شپ  جیت لی فارمولا ون نے ساؤ پالو گراں پری کو 2035 تک کیلنڈر میں برقرار رکھنے کا معاہدہ کر لیا مکسڈ مارشل آرٹس، وسیم اکرم کے صاحبزادے تیمور اکرم نے امریکی حریف کو چت کر دیا، مسلسل چوتھی فتح ٹیم سلیکشن کا کام متعلقہ حکام کا ہے، ہر بات یہاں بتانا ضروری نہیں، بابراعظم اپوزیشن کا سی سی ڈی پولیس مقابلوں میں ہلاکتوں کی تحقیقات کے لیے تحریک التوا لانے کا فیصلہ دنیا کی بلند ترین چیخ کا اعزاز برطانوی خاتون کے نام، نام گنیز ورلڈ ریکارڈ میں شامل عالمی مالیاتی منڈیوں میں ٹیکنالوجی اتارچڑھاؤ اور بلند شرحوں کا خطرہ ایران کے تجارتی راستوں پر دباؤ اور توانائی کی قیمت: پاکستان کا درآمدی بل پھر مرکز میں ایران سے متعلق ڈالر پابندیوں کی توسیع: ترسیلات، کمپلائنس اور علاقائی تجارت کا خطرہ پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کی ممکنہ 1.2 ارب ڈالر قسط: ریزروز اور اصلاحات کا اگلا امتحان

ای پیج

e-Paper
سر اور گردن کے سرطان کے لیے نئی دوا کی فوری منظوری: فائدہ ممکن، مکمل جواب ابھی درکار

سر اور گردن کے سرطان کے لیے نئی دوا کی فوری منظوری: فائدہ ممکن، مکمل جواب ابھی درکار

جرات ڈیسک
اتوار, ۸ نومبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے 5 نومبر کو Rybrevant Faspro نامی علاج کو سر اور گردن کے مخصوص سرطان کے لیے “accelerated approval” دی ہے۔ یہ منظوری ان بالغ مریضوں کے لیے ہے جنہیں recurrent یا metastatic head and neck squamous cell carcinoma ہو، اور جن کی بیماری پلاٹینم پر مبنی کیموتھراپی اور امیونوتھراپی کے بعد بڑھ چکی ہو۔ یہ خبر ان مریضوں کے لیے اہم ہے جن کے علاج کے راستے محدود ہو جاتے ہیں، مگر اسے ہر قسم کے گلے، منہ یا گردن کے کینسر کا نیا عمومی علاج سمجھنا درست نہیں۔

تیز منظوری کا مطلب عام منظوری سے مختلف ہے۔ سنگین بیماریوں میں، جب علاج کی ضرورت بہت زیادہ ہو، ریگولیٹر ابتدائی مضبوط شواہد کی بنیاد پر دوا جلد دستیاب ہونے دے سکتا ہے۔ اس صورت میں فیصلہ بنیادی طور پر ٹیومر کے سکڑنے یا غائب ہونے کے تناسب اور اس اثر کے دورانیے پر ہوا۔ 102 مریضوں پر مشتمل کھلی، متعدد مراکز والی آزمائش میں 42 فیصد مریضوں میں ٹیومر کا ردِعمل دیکھا گیا؛ ردِعمل دینے والوں میں 56 فیصد کا اثر کم از کم چھ ماہ برقرار رہا۔ FDA کے مطابق موجودہ دستیاب علاجوں کے ساتھ ردِعمل کا تناسب عموماً 20 فیصد یا اس سے کم رہا ہے۔

یہ اعداد حوصلہ افزا ہیں، لیکن ان کا محتاط مطلب سمجھنا ضروری ہے۔ آزمائش میں موازنہ کرنے والا بے ترتیب کنٹرول گروپ شامل نہیں تھا، اور ٹیومر کے سکڑنے کا مطلب لازماً یہ ثابت نہیں کرتا کہ ہر مریض کی زندگی طویل ہوگی یا زندگی کا معیار بہتر ہوگا۔ اسی لیے FDA نے دوا ساز ادارے سے تصدیقی مطالعات کا تقاضا کیا ہے تاکہ طویل مدتی طبی فائدہ واضح ہو سکے۔ یہ سائنسی احتیاط کمزوری نہیں بلکہ مریضوں کے تحفظ کا ضروری حصہ ہے۔

دوا ہر مریض کے لیے موزوں نہیں۔ FDA نے واضح کیا ہے کہ HPV سے وابستہ oropharyngeal squamous cell carcinoma کے لیے یہ اشارہ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ حساسیت یا دوا لگانے کے دوران ردِعمل، پھیپھڑوں کی سوزش یا بیماری، جلد کے مسائل، آنکھوں کی زہریلی پیچیدگیاں اور حمل کے لیے نقصان جیسے ممکنہ خطرات بھی درج کیے گئے ہیں۔ اس لیے فیصلہ صرف نام یا خبر سن کر نہیں، بلکہ کینسر کی درست قسم، پیتھالوجی رپورٹ، پچھلے علاج، جسمانی حالت اور آنکولوجی ٹیم کے مشورے سے ہونا چاہیے۔

پاکستان میں یہ امریکی منظوری خودبخود کسی دوا کی مقامی دستیابی، قیمت، رجسٹریشن یا انشورنس کوریج کی ضمانت نہیں دیتی۔ مریض یا اہلِ خانہ کو چاہیے کہ کسی غیر رجسٹرڈ آن لائن فروش یا غیر ثابت شدہ “کینسر کی دوا” کے دعوے پر عمل نہ کریں۔ اپنے معالج سے پوچھیں کہ بیماری کی مکمل تشخیص کیا ہے، منظور شدہ علاج کون سے ہیں، کسی کلینیکل ٹرائل کا امکان ہے یا نہیں، اور ممکنہ فائدے و نقصانات کیا ہیں۔ نئی دوا کی خبر امید کا ایک راستہ ہے، علاج کا خودکار نسخہ نہیں۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں