ڈاکٹر منظور احمد کی کہانی ،خود اُن کی زبانی (پہلی قسط)
شیئر کریں
زریں اختر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں رہنے والا اسی اُجڑے دیار کا ہوں جسے دلی نہیں کہتے رام پور کہتے ہیں۔ چھوٹی سی ریاست ہے ، تھی ،دلی کے قریب۔ میرے والد رام پور کی عدالت میں کام کرتے تھے۔ مجھے کام کی اس نوعیت کا اندازہ نہیں کہ وہ کیاتھی مگر کوئی لکھنے پڑھنے کا کام تھا جو وہ کیا کرتے تھے۔پڑھے لکھے تھے، شاعر بھی تھے اور بہت اچھے آدمی تھے ،ہر شخص کا باپ اچھا آدمی ہوتاہے مگر جس اچھائی کی میں بات کررہا ہوں وہ یہ کہ انھوں نے مجھے کبھی نہیں مارا سوائے ایک مرتبہ کے اور مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ انہوں نے کب ،کس وقت اور کیوں مارا۔میں چھوٹا سا تھا اور مغرب کی نماز کا وقت تھا۔ہم لڑکے باہر گلی میں ایک کھیل کھیلا کرتے تھے جسے ‘‘گیڑیاں’’ بولا جاتا تھا۔اس کھیل میں لکڑی کے مختلف چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہوتے ہیں۔کوئی تکون ہوتا تھا ،کوئی گول سب سے عمدہ۔۔ کی شکل کا ہوتا ہے ،وہ سیدھاہوتا ہے اور ایک طرف نوکیلا کرلیا کرتے تھے ، دوسری طرف سے وہ موٹا ہوتا ہے ، اور ان کے وزن اور سائز بھی مختلف ہوتے تھے ۔بعض تو اتنے بھاری ہوتے تھے کہ لوگ انہیں بڑی مشکل سے کندھے پر اٹھایا کرتے تھے،سڑک پر ایک لکیر کھینچ دیا کرتے تھے ۔ہر ایک آدمی کے پاس ایک ایک گیڑی ہوتی تھی جو آدمی اپنی گیڑی سے دوسرے کی گیڑی کو مار کر پار کردیا کرتا تھا وہ جیت جاتا تھااور وہ گیڑی بھی اس کی ہوجایا کرتی تھی ۔سب سے سستا غریبوں کا کھیل یہی تھا۔ گلی میں نکل گئے ،سڑک پر لائن کھینچ دی ۔لکڑیاں گھر میں جلنے کے لیے آیاکرتی تھیں،آپ نے کلہاڑی سے یا کسی چیز سے یا چھری سے چھوٹی چھوٹی گیڑیاں بنالیں،بعض پیشہ ور تھے ،وہ بڑی بڑی بناتے تھے،بازار میں بک بھی جایاکرتی تھیں، گلی میں نکل گئے ، تھوڑی دیر کھیلا ،گلی ڈنڈا بھی ایسا ہی ہے جیسی گیڑی ،تو یہ دونوں کھیل ہم کھیلا کرتے تھے ۔تو میں ایک مرتبہ مغرب کی نماز کے وقت باہر گلی میں گیڑیاں کھیل رہاتھا، میں گھر آیا تو میرے والد نے مجھ سے پوچھا کہ کہاں گئے تھے یا یہ پوچھا کہ تم نے نماز پڑھ لی ،میں نے غالباََ شرمندگی سے یا ڈر کے کہہ دیا کہ پڑھ لی نماز،انھوں نے مجھے پیٹا،(ہنستے ہوئے )اس وجہ سے نہیں کہ میں نے نماز کیوں نہیں پڑھی بلکہ اس وجہ سے کہ میں نے جھوٹ کیوں بولا، میں نے اس دن کے بعد سے جھوٹ بولنا چھوڑ دیا۔
وہ سردیوں کازمانہ تھا۔ سردیوں میں ہمارے ہاں سال بھر کا ایندھن جمع ہوجاتاتھا،لکڑی ،اوپلے ؛ہمارے پاس بیل گاڑیاں ہوتی تھیں اور لکڑ ہارے سے اس کے ٹکڑے کروا کر صحن میں رکھ دیے جاتے تھے،یا کسی ایسی جگہ پر جہاں پر وہ محفوظ رہیں۔ایک دن ہمارے ہاں لکڑیوں کی بیل گاڑیاں آئی ہوئی تھیں،تو لکڑہارے کی ضرورت تھی تو وہ ایک لکڑ ہارے کو لے آئے ،بیچارا بوڑھا آدمی تھا،تو میری والدہ نے کہاکہ یہ تم کس آدمی کو لے آئے ،یہ تو مہینہ لگ جائے گا اور لکڑیاں نہیں کٹیں گی ،تو انہوں نے کہا کہ میں بھی اس کو اسی خیال سے لے آیا کہ اگر ہر کوئی اسی طرح سوچے گا تو اس کا کیا ہوگا،اور یہ ابھی کام کرنا چاہتاہے ۔ وہ لکڑہارا ہمارے ہاں دوتین مہینے کام کرتا رہا،اور جب وہ شام کو آتے تھے تو بجائے اس کے کہ چائے پینے چلے جائیں ،شیروانی اتار کر ٹانگ دی ، چھڑی رکھی ،سر پہ سے صافہ اتار کے رکھا ،دوسری کلہاڑی لی اور اس کے ساتھ لگ گئے ،اس کے ساتھ لکڑیاں کاٹتے۔ تو یہ دوچار تصور جو میرے ذہن میں ہیں ،اس لیے میں کہتاہوں کہ وہ ایک اچھے آدمی تھے ۔
میں نے اپنی زندگی میں ان کو اور اپنی ماں کو لڑتے ہوئے نہیں دیکھا،کبھی اونچی آواز سے بات کرتے ہوئے نہیں سنااور کبھی بچوں کے یا میرے معاملے میں بے جا دخل اندازی کرتے ہوئے نہیں دیکھااور غالباََ ان کی خواہش یہی تھی کہ میں، باقی جو میرے بھائی تھے وہ یا تو تجارت کی طرف چلے گئے یا دوسری تعلیم حاصل کرلی جسے دنیاوی تعلیم کہتے ہیں تو غالباََ مجھے میرا خیال ہے کہ دینی تعلیم حاصل کرنے کی طرف راغب کرنا چاہتے تھے ۔عام طور پر پرانے زمانوں میں یہ تھا کہ ایک بچہ پڑھ لکھ کر عالم بن جائے ،دینی عالم ،ایک طریقے سے تو ان کی خواہش پوری نہیں ہوسکی کہ میں دینی عالم نہیں بن سکا۔اس کے باوجود میں نے مذہب کی اتنی معلومات اکٹھی کرلی اور اتنا علم حاصل کرلیا کہ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ جو نفس ِ مذہب ہے میں اس کے بارے میں ایک عام عالم سے شاید زیادہ جانتا ہوں۔ اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ ایک کتا حوض میں گر جائے تو کتنا بڑا حوض ہو کہ اس کا پانی پاک رہے تو شاید میں نہ بتا سکوں۔ مجھے یہ مسئلے نہیں معلوم ، مجھے فقہی مسائل نہیں معلوم، لیکن مذہب کیوں ہے، اس کی ضرورت کیاہے، اس کی غرض و غایت کیا ہے، یا جو احکامات ہم کو دیے گئے ہیں اس کے پیچھے ان کی حکمت کیا ہے ،یا مسلمان مفکرین نے جو کام کیا ہے اس کی کیا نوعیت ہے ؛تو یہ چیزیں میں نے اپنی تعلیم کے دوران اچھی خاصی حاصل کرلیں، محض رسمی طور پر نہیں بلکہ غیر رسمی طور پر۔ میں نے تین سال عربی پرائیویٹ ٹیوٹر سے پڑھی اور جن سے پڑھی وہ مولانا ابو الحسن ندوی کے بھی استاد رہ چکے ہیں،ان کا نام تھا خلیل عرب، اس کے بعد کچھ اور لوگوں سے۔ فارسی میں نے بچپن میں پڑھی تھی گھرمیں، تو تھوڑی عربی فارسی مجھے آتی ہے،تو وہ بنیادی ذرائع جن سے دین کا علم حاصل کیا جاتا ہے ،وہ مجھے حاصل تھے تو میں نے تھوڑا بہت علم حاصل کرلیا۔ یہ میرا پس منظر ہے۔ میرے سات بھائی ہیں ،دوبہنیں ہیں ،میں سب سے آخرمیں ہوں۔
میری جو دنیاوی تعلیم تھی اس کی زیادہ تر ذمہ داری میرے بڑے بھائی پر تھی ۔وہی مجھے اسکول میں لے جاتے کیوں کہ وہ خود استاد تھے تو انہوں نے میری طرف توجہ زیادہ کی ۔ میرا پڑھنے کا ریکارڈ بہت اچھاہے ۔میرے پاس اصلی سونے کی ایک چیز ہے اور وہ میرا گولڈ میڈل ہے جو مجھے میٹرک میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کرنے پر ملا تھا۔ اس کا بھی ایک لطیفہ ہے ۔ میں جس اسکول میں پڑھتا تھا،میٹرک پاس کرلیا تو دوسرے اسکول میں چلاگیاوہ ہائرسیکنڈری کالج تھا،اسے کالج کہتے تھے تووہ ایک نواب صاحب گولڈ میڈل لگایا کرتے تھے تو ایک دن اسکول کے ہیڈ ماسٹر نے کہاکہ ذرا لاکر دکھاؤ کہ تمہیں کیا ملاہے ۔ جب انہوں نے دیکھا تو کہاکہ یہ تو تمہیں ملمع کا ملا ہے ،نقلی ہے یہ ،میں نے کہا کہ جی میں نے تو یہ لے لیا،مجھے تو نہیں معلوم کہ یہ سونے کا ہے یا چاندی کا ہے ۔کہنے لگے اس پر تو سونے کا لکھا ہوا ہے تو تمہیں سونے کا ملنا چاہیے۔انہوں نے ایک خط لکھامشیرِ تعلیم کو۔ ان کا نام تھا خواجہ غلام الثقلین ،مشہور آدمی تھے ۔ انہوں نے لکھاکہ یہ واقعہ ہوا ہے ،بچے کو جو گولڈمیڈل دیاگیاہے وہ ملمع کاہے ۔ انہوں نے مجھے گھر پہ بلایا کہ میڈل لے کے آنا،میں میڈل لے گیا۔انہوں نے دیکھا بھالا اور کہا کہ اچھا چھوڑ جاؤ۔میں نے کہا کہ یہ تو ملاتھا وہ بھی نقلی اور نقلی بھی آپ رکھ رہے ہیں تو میرے پاس کیا رہ جائے گا۔ وہ خفا ہوئے کہ اسی لیے تو لے رہے ہیں کہ ہم تمہیں اصلی گولڈ میڈل دیں گے۔اچھی بات ہے ، میں چلاآیا ،کیاکرتا، مرتا کیا نہ کرتا،میں یہ تو نہیں کہہ سکتا تھاکہ میں نہیں دیتا۔ایک آدھ ہفتے بعد میرے اسکول کے ہیڈ ماسٹر نے مجھے بلایااور انہوں نے کہا کہ لو تمہارا نیا میڈل آگیاہے ، تو انہوں نے نئی سند کے ساتھ نیا گولڈ میڈل مجھے دیا۔ اب مجھے یقین ہے کہ وہ اصلی سونے کا ہوگا۔ اس زمانے میں سونا اسّی پچیاسی روپے تولا تھا۔ریاست کی طرف سے سو روپے ملتے تھے ان کو کہ اس کا گولڈ میڈل بنوادیں،اس میں پانچ یا سات روپے بنوائی کے ہوتے ہوں گے ،تو غالباََ کیوں کہ وہ کالج کے پرنسپل نے لے کر بنوایا تھا،اسکول کے ہیڈ ماسٹر جوتھے وہ بھی مشہور آدمی تھے ،انہوں نے بھی دوتین کتابیں لکھی ہیں،وہ یہ سمجھے کہ یہ روپیہ میرے اسکول آنا چاہیے تھااور یہ میڈل بنوا کے ان کو دینا چاہیے تھاتو میرے اسکول کی حق تلفی ہوئی ۔ غالباََ ان کے ذہن میں یہ بات کام کررہی ہو گی ،تو انہوں نے مجھے اپنے کالج کا سرٹیفکٹ بھی دیا حالانکہ مجھے اسکول سے ایک سرٹیفکیٹ مل چکاتھا، اس طرح میرے پاس ایک گولڈ میڈل ہے اور دو سرٹیفکیٹ ہیں۔
میرا خیال ایسا ہے کہ غالباََبہت ذہین بچوں میں میرا شمار ہوتاتھا،پڑھنے لکھنے والا بہت سنجیدہ۔مجھے یاد نہیں کہ میں نے کبھی اپنے گھر والوں کو تنگ کیاہو،یا کسی چیز کے لیے ضد کی ہو یا کوئی چیز میں نے مانگی ہواور اس پر یہ کہا گیا ہو کہ یہ تمہیں نہیں مل سکتی ،اس لیے عام طور پر میں چیزیں مانگتا نہیں تھا۔شروع میں میں نے گھر میں ہی پڑھا،اسکول دیر سے گیا۔ہماری زیادہ تر خوشیا ں ہمارے کھیل تھے ، وہ ہم اپنے ماموں خالہ کے بچوں یا محلے کے لڑکوں کے ساتھ کھیلتے تھے ۔ایک گلی اور گلی کے دونوں طرف مکانات ،ان میں ہمارے اپنے ہی لوگ رہتے تھے ،یہ غالباََ اس زمانے کا دستور تھاکہ رشتہ دار اس طرح سے ایک ہی جگہ پر مکان بنا کر رہتے تھے،مجھے یاد ہے کہ ایک گلی میں اس طرح مکانات تھے او روہاں ہمارے رشتے دار رہتے تھے،میں اکثر اس گلی میں چلاجایاکرتاتھا،اس گلی میں ہم کھیلا کرتے تھے ،گلی ڈنڈابھی وہیں کھیلتے تھے اور گیڑیاں بھی وہیں کھیلتے تھے ،اور پتا نہیں آج کل یہ کھیل ہیں کہ نہیں ہیں ،پہلے یہ ہوا کرتا تھا کہ ہم کوئلے سے نشان بنادیاکرتے تھے ،دو پارٹیاں ہوتی تھیں ،دونوں علیحدہ علیحدہ نشانات لگاتی تھیں اور جو پارٹی تلاش کرتی تھی کہ کہاں ہم نے بنا کر چھپا رکھے ہیں وہ پارٹی جیت جاتی تھی ،جو چھپا کے اور زیادہ کراس بناتی تھی ،کوئلے یاچاک یا کسی چیز سے تو میرے یہ چھوٹے موٹے کھیل تھے۔
میری بہن تھیں جو گاؤں میں رہتی تھیں ،وہ مجھے بہت عزیز رکھتی تھیں اور بہت پسند کرتی تھیں۔انہوں نے اپنے گھر ایک بھینس بھی پال رکھی تھی،ہمارے گھر گھی عام طور پر گاؤں سے آیاکرتاتھا،سمجھا یہ جاتاتھاکہ بازار کے جو گھی ہیں اس زمانے میں بھی اس میں ملاوٹ ہوتی ہے،تو میری بہن گاؤں کے مختلف گھروں سے گھی خرید کر بھجوادیا کرتی تھیں، اور انہوں نے جو بھینس پال رکھی تھی اس کا جو گھی بنتا تھا ، ایک علیحدہ ڈبے میں وہ بھجوادیا کرتی تھیں،تو میں گھی میں شکر ڈال کر خاص کر سردی میں کھایا کرتا تھا،مجھے بہت اچھا لگتاتھا۔ جب میں نے اسکول جانا شروع کردیا تو وہی صبح جلدی جلدی میری والدہ رکھتی تھیں اور سردی میں خاص طور پر کچا دودھ ڈال کے ،جلدی جلدی کھائی میں نے اور بھاگا اسکول کی طرف۔ (جاری ہے)


