میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
اہرامِ مصر: پتھروں میں دفن راز (دوسری قسط)

اہرامِ مصر: پتھروں میں دفن راز (دوسری قسط)

جرات ڈیسک
اتوار, ۸ نومبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

تاریخ کے جھروکے سے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

فرعون خوفو کی لاش کہاں غائب ہوگئی؟ عظیم اہرام کا خالی تابوت اور 4500 سال پرانا معمہ!

 

تصور کیجیے کہ آپ ایک ایسے مقبرے میں داخل ہوتے ہیں جسے دنیا کے طاقتور ترین بادشاہوں میں سے ایک کے لیے تعمیر کیا گیا تھا۔آپ کے اوپر لاکھوں پتھروں کا وزن ہے۔

چاروں طرف خاموشی، تاریکی اور پتھر کی دیواریں ہیں۔ آپ ایک تنگ راستے سے گزرتے ہوئے ایک ایسے کمرے میں پہنچتے ہیں جہاں ہزاروں سال پہلے ایک عظیم فرعون کی لاش رکھی جانے کی توقع تھی۔ لیکن جب آپ سامنے دیکھتے ہیں تو حیران رہ جاتے ہیں۔وہاں پتھر کا ایک صندوق موجود ہے ۔

مگر صندوق خالی ہے !

نہ فرعون کی ممی، نہ اس کا سنہری تابوت، نہ شاہی زیورات، نہ وہ خزانہ جس کی توقع ایک عظیم بادشاہ کے مقبرے سے کی جاسکتی تھی۔
یہ کوئی فرضی داستان نہیں۔یہ مصر کے عظیم اہرام کے اندر موجود بادشاہ کے کمرے (King’s Chamber)کی حقیقی صورتحال ہے ۔
اور اس خالی صندوق سے ایک ایسا تاریخی سوال جنم لیتا ہے جس کا قطعی جواب آج بھی ہمارے پاس نہیں۔

‘‘آخر فرعون خوفو کی لاش کہاں گئی’’؟

تقریباً 4500 سال پہلے مصر پر چوتھے شاہی خاندان کا ایک طاقتور حکمران حکومت کرتا تھا، جسے ہم خوفو یا Khufuکے نام سے جانتے ہیں۔اسی کے عہد میں غزہ کا عظیم اہرام تعمیر ہوا۔یہ اہرام اصل میں تقریباً 146میٹر بلند تھا اور صدیوں تک دنیا کی بلند ترین انسانی تعمیرات میں شمار ہوتا رہا۔اس کی تعمیر میں لاکھوں پتھر استعمال ہوئے ۔ اندر پیچیدہ راستے ، بلند گیلریاں اور مختلف کمرے بنائے گئے ۔لیکن سب سے حیرت انگیز حصہ اس کا بادشاہ کا کمرہ ہے ۔یہ کمرہ سرخی مائل گرینائٹ کے بڑے پتھروں سے بنایا گیا ہے ۔ اس کے اندر ایک گرینائٹ کا صندوق موجود ہے جسے عموماً فرعون کا پتھر کا تابوت، یعنی سرکوفیگس، سمجھا جاتا ہے ۔مگر اس میں خوفو کی ممی کبھی جدید دور میں دریافت نہیں ہوئی۔کیا کسی نے ہزاروں سال پہلے بادشاہ کی لاش چرا لی تھی؟

یہاں تاریخ ہمیں ایک اہم سراغ دیتی ہے ۔

قدیم مصر میں شاہی مقبروں کی لوٹ مار کوئی غیرمعمولی واقعہ نہیں تھا۔ قیمتی دھاتیں، زیورات اور تدفینی سامان چوروں کے لیے بڑی کشش رکھتے تھے ۔ماہرین کا ایک مضبوط امکان یہی ہے کہ عظیم اہرام بھی قدیم زمانے میں لوٹا گیا ہوگا۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے پاس کوئی ایسا مکمل تاریخی ریکارڈ موجود نہیں جو بتائے کہ خوفو کی ممی کب، کس نے اور کہاں منتقل کی۔اور نہ ہی یہ ثابت ہوا ہے کہ اس کی لاش کو کسی دوسرے مقام پر دوبارہ دفن کیا گیا تھا۔

ایک اور دلچسپ واقعہ نویں صدی عیسوی سے منسوب ہے ۔روایات کے مطابق عباسی خلیفہ المأمون کے عہد میں عظیم اہرام کے اندر راستہ کھولنے کی کوشش کی گئی۔ آج بھی اہرام میں داخلے کے لیے استعمال ہونے والا ایک راستہ اس تاریخی روایت سے منسلک ہے ۔تاہم المأمون کی مہم کی تفصیلات بعد کی تحریروں میں ملتی ہیں، اس لیے انہیں مکمل طور پر ثابت شدہ واقعات نہیں سمجھا جاسکتا۔لیکن ایک بات یقینی ہے ۔جب جدید دور کے محققین نے بادشاہ کے کمرے کا مطالعہ کیا تو وہاں خوفو کی ممی موجود نہیں تھی۔اور پھر ایک اور حیران کن سوال سامنے آتا ہے ۔اگر خوفو اتنا طاقتور بادشاہ تھا کہ اس کے لیے دنیا کا ایک عظیم ترین مقبرہ تعمیر کیا گیا، تو اس کی اصل جسمانی باقیات کہاں ہیں؟کیا وہ کسی قدیم چوری کے دوران تباہ ہوگئیں؟کیا انہیں اہرام سے باہر منتقل کردیا گیا؟یا ان کے ساتھ کچھ ایسا ہوا جس کا تاریخی ریکارڈ ہمیشہ کے لیے ضائع ہوچکا ہے ؟ان سوالات کے جواب میں کئی امکانات پیش کیے جاسکتے ہیں، لیکن کسی کو بھی قطعی حقیقت قرار نہیں دیا جاسکتا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ خوفو کے نام سے شناخت ہونے والا ایک چھوٹا سا ہاتھی دانت کا مجسمہ ضرور دریافت ہوا ہے ، مگر اس کی ممی آج تک شناخت نہیں کی جاسکی۔

ذرا اس تاریخی تضاد پر غور کیجیے ۔

ایک بادشاہ جس نے اپنے نام سے منسوب دنیا کے عظیم ترین تعمیراتی شاہکاروں میں سے ایک چھوڑا، آج اس کی اپنی لاش کا کوئی مصدقہ سراغ موجود نہیں۔عظیم اہرام آج بھی کھڑا ہے ۔ اس کا پتھر کا صندوق بھی موجود ہے ۔ لیکن جس بادشاہ کے لیے اسے بنایا گیا، وہ غائب ہے ۔اور شاید یہی اس داستان کا سب سے گہرا معمہ ہے ۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں