تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ
شیئر کریں
امریکی وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکن پارٹی کی شکست کے بعد وائٹ ہاؤس میں ہنگامی اجلاس ہوا۔
صدر ٹرمپ نے مشیروں سے پوچھا،‘‘یہ کون لوگ ہیں جو کہہ رہے ہیں کہ ہم الیکشن ہار گئے ’’؟
ایک مشیر نے عرض کیا، ‘‘جناب، امریکی ووٹر’’!
‘‘انہیں کس نے اجازت دی’’؟
‘‘آئین نے ، جناب’’!
‘‘تو آئین کو فون ملاؤ۔ میں اس سے بات کرنا چاہتا ہوں’’۔
مشیر نے بتایا کہ آئین کوئی شخص نہیں جسے فون کیا جاسکے ۔
ٹرمپ نے میز پر مکا مارا، ‘‘یہی تو امریکہ کا مسئلہ ہے ۔ پاکستان سے سیکھو، وہاں آئین سمیت ہر چیز لائن حاضر رہتی ہے ’’!
امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول حاصل کرلیا۔ ری پبلکن پارٹی کی شکست پر ٹرمپ کا ردعمل بھی انہی کی شخصیت جیسا تھا۔ انتخابی مہم میں فرماتے رہے کہ ری پبلکن امیدواروں کو ایسے ووٹ دیں جیسے وہ خود امیدوار ہوں۔ نتائج آئے تو یاد دلایا کہ وہ تو بیلٹ پر موجود ہی نہیں تھے ۔ بلکہ دعویٰ کیا کہ ہوتے تو بھاری اکثریت سے جیت جاتے ۔یہ سیاسی تجارت کا شاندار اصول ہے ۔ منافع مالک کا، نقصان گاہک کا! ٹرمپ نے حیرت ظاہر کی کہ ان کے جلسوں میں اتنا ہجوم تھا، پھر امیدوار کیسے ہار گئے ؟ گویا جلسوں کی کرسیاں ووٹ ڈالنے کیوں نہیں پہنچیں؟ شاید آئندہ ری پبلکن پارٹی کو انتخابی مہم کے ساتھ محبت کی ترسیل کے لیے بھی کوئی پائپ لائن بچھانی پڑے ۔
اس شکست پر اسلام آباد میں بھی تشویش ہونی چاہیے ، جہاں وزیراعظم شہباز شریف امریکی صدر کی امن پسندی کے ایسے معترف رہے ہیں کہ انہیں نوبل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کی حمایت کرتے رہے ۔یہاں ایک دلچسپ مماثلت ہے ۔ شہباز شریف کے معاون خصوصی حذیفہ رحمان نے اپنے وزیراعظم کی ذہانت کو نیوٹن کے قریب قرار دیا تھا۔ شہباز شریف نے ٹرمپ کی امن کوششوں کی تعریف میں ایسی فراخ دلی دکھائی کہ خود ٹرمپ بھی شرمائے شرمائے پھرتے ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ حذیفہ صاحب کی عقیدت وزیراعظم ہاؤس تک محدود تھی، شہباز شریف کی عقیدت سات سمندر پاروہائٹ ہاؤس کے مکین تک پہنچ گئی۔ نیوٹن خوش قسمت تھے کہ پاکستانی سیاست سے دور رہے ، ورنہ یہاں تو انتخابی نتائج بدلنے کے الزامات تک لگتے ہیں، قوانینِ حرکت کی کیا حیثیت!
ٹرمپ کی زندگی میں ایسے واقعات کی کمی نہیں جو طنز نگاروں کو بے روزگار ہونے سے بچائے رکھتے ہیں۔ 2019میں انہوں نے پانی بچانے والے بیت الخلاؤں کی شکایت کرتے ہوئے بتایا کہ بعض لوگوں کو کئی مرتبہ فلش چلانا پڑتا ہے ۔ دنیا کی سب سے بڑی معیشت، ایٹمی ہتھیار اور عالمی تنازعات اپنی جگہ، مگر صدر کو بیت الخلا کی کارکردگی کی بھی فکر تھی۔شاید ان کے نزدیک قومی ترقی کا اصل معیار یہی ہے کہ امریکی شہری ایک ہی کوشش میں فارغ البال ہوسکیں۔ کورونا وبا کے دوران انہوں نے جسم کے اندر جراثیم کش مادے کے استعمال کے امکان پر سوال اٹھایا۔ طبی ماہرین نے اسے خطرناک قرار دیا۔ اگلے دن وضاحت آئی کہ وہ طنزیہ سوال کررہے تھے ۔اس کے بعد امریکی صحافیوں کی مشکلات بڑھ گئیں۔ انہیں ہر صدارتی بیان کے بعد معلوم کرنا پڑتا تھا کہ یہ حکومتی پالیسی ہے ، طبی مشورہ ہے ، لطیفہ ہے یا کل کی تردید کا ابتدائی مسودہ۔
گرین لینڈ میں ٹرمپ کی دلچسپی بھی غیر معمولی رہی۔ کبھی امریکی اختیار بڑھانے کی خواہش، کبھی طاقت کے استعمال کا امکان، پھر طاقت استعمال نہ کرنے کا اعلان۔ دنیا کے دوسرے رہنما سفارتی تعلقات قائم کرتے ہیں، ٹرمپ کبھی کبھی عالمی نقشے کو جائیدادوں کی فہرست سمجھتے ہیں۔ گرین لینڈ مل جاتا تو شاید پوچھتے کہ اس کے ساتھ پارکنگ مفت ملے گی یا الگ قیمت دینی ہوگی؟ ان دنوں ٹرمپ ایران کی جنگ، اسرائیل سے تعلقات اور جنگ کے معاشی اثرات میں بھی الجھے ہوئے ہیں۔ امریکی عوام پٹرول اور دوسری اشیا کی بڑھتی قیمتوں سے پریشان ہیں۔ ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ ایران کی جنگ انتخابی شکست کا ایک سبب بنی، مگر ساتھ ہی فرمایا کہ فیصلہ درست تھا، دوبارہ موقع ملتا تو پھر یہی کرتے ۔یہ بھی خوب رہی! ڈاکٹر مان لے کہ دوا سے مریض کی حالت بگڑی، مگر اصرار کرے کہ اگلی مرتبہ بھی یہی نسخہ لکھوں گا۔نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی شکست کا سبب ایران کی جنگ کو قرار دیا۔ لیکن ٹرمپ اپنے وزیر دفاع کو تبدیل کرنے پر آمادہ نہیں ہوئے ۔ گویا جنگ درست، وزیر دفاع درست، صدر درست۔ غلطی ہوئی تو ووٹروں سے ، جنہوں نے نتائج مرتب
کرتے وقت قومی مفاد کا خیال نہیں رکھا۔ اس مرض کا علاج شاید پاکستان میں دستیاب ہے ! اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ ٹرمپ کے تعلقات بھی دلچسپ ہیں۔ اسرائیل ایران کے خلاف سخت فوجی مؤقف رکھتا ہے ، جبکہ امریکی ووٹر جنگ کے اخراجات پر سوال اٹھاتے ہیں۔ ٹرمپ کی مشکل یہ ہے کہ نیتن یاہو کو مطمئن رکھنے والا فیصلہ ضروری نہیں کہ امریکی
پٹرول پمپ پر کھڑے شہری کو بھی پسند آئے ۔نیتن یاہو کے پاس جنگ جاری رکھنے کے دلائل ہیں، امریکی شہری کے پاس پٹرول کی رسید۔ انتخابی دن رسید اکثر تقریر پر بھاری پڑتی ہے ۔
ٹرمپ نے مہنگائی کم کرنے کے وعدے کیے تھے ، مگر محصولات، جنگ اور توانائی کی قیمتوں نے عام امریکی کی مشکلات بڑھائیں۔ صدر معاشی کامیابیوں کے قصے سناتے رہے ، ووٹر دکانوں پر قیمتیں دیکھتے رہے ۔ حکومت کہتی تھی معیشت بہتر ہورہی ہے ، ووٹر پوچھتا تھا پھر میری جیب کیوں خالی ہے؟ ٹرمپ کے مزاج کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ مخالفین کی عمر، ذہانت اور صلاحیتوں پر سخت تبصرے کرتے ہیں، مگر اپنی کارکردگی کے بارے میں ان کا اعتماد کبھی متزلزل نہیں ہوتا۔ ان کی سیاسی لغت میں مخالف کی تنقید دشمنی، اپنی تنقید حق گوئی، مخالف کی غلطی نااہلی اور اپنی غلطی میڈیا کی شرارت بن جاتی ہے ۔
انتخابات کے بعد وائٹ ہاؤس کے بال روم کی تعمیر سے متعلق ان کی گفتگو بھی توجہ کا مرکز بنی۔ باہر سیاسی اقتدار کی عمارت میں تبدیلی آرہی تھی، اندر عمارت کی تزئین و آرائش زیرِ بحث تھی۔ شاید تعمیرات کا یہی فائدہ ہے کہ سیاسی حمایت کم ہوجائے تو عمارت کا رقبہ بڑھایا جاسکتا ہے۔ اب ٹرمپ کو ایسی کانگریس کا سامنا ہوگا جہاں مخالف جماعت زیادہ طاقتور ہے ۔ امریکی کانگریس کوئی ہوٹل نہیں جسے خرید کر نام تبدیل کردیا جائے۔ وہاں ایسے اراکین بھی ہوں گے جو صدر کی تعریف سن کر متاثر نہیں ہوتے ۔البتہ ٹرمپ نے واضح کردیا ہے کہ وہ اپنی ناپسندیدہ قانون سازی کو ویٹو کرسکتے ہیں۔ یعنی کانگریس میں ووٹ کم پڑ جائیں تو صدارتی قلم کام آئے گا۔ قلم کی طاقت کا یہ استعمال ہمارے خطے میں بھی خاصا مانوس ہے۔ اس دوران شہباز شریف اپنے امریکی دوست کو تسلی دے سکتے ہیں کہ انتخابی شکست سے عظمت کم نہیں ہوتی۔ نوبل امن انعام کی نامزدگی اپنی جگہ ہے ۔ بلکہ نئی دلیل بھی تلاش کی جاسکتی ہے کہ ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو کانگریس کا کنٹرول دلا کرامریکی سیاست میں طاقت کا توازن قائم کردیا۔ آخر اپنے مخالفین کو خوش کرنا بھی تو سیاسی رواداری ہے! اور اگر نوبل کمیٹی اس دلیل
سے متاثر نہ ہو تو شہباز شریف اپنے امریکی دوست کو پاکستانی سیاست کا وہ نسخہ بتا سکتے ہیں جس میں انتخابی اکثریت کے بغیر بھی اتحادی حکومت بن جاتی ہے۔ فارم 47 کے تنازع نے تو پہلے ہی ہماری انتخابی تاریخ میں خاصی شہرت حاصل کر رکھی ہے۔ شنید ہے کہ وائٹ ہاؤس کے اجلاس میں ٹرمپ نے بالآخر حکم دیا ہے:
‘‘گرین لینڈ کو چھوڑو، پہلے پاکستان سے فارم 47 کا قبضہ منگواؤ’’!
٭٭٭


