جسٹس منصور کے انٹرویو پر الیکشن کمیشن کا بڑا جواب، پی ٹی آئی کے انتخابی نشان اور مخصوص نشستوں کا پنڈورہ باکس کھل گیا
شیئر کریں
عدالتی فیصلوں کو منتخب حوالوں اور یک طرفہ تشریحات کے ذریعے پیش کرنا غیر مناسب ہے ، ترجمان الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن کے ترجمان نے جسٹس (ر) سید منصور علی شاہ کی جانب سے ایک غیر ملکی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انٹرویو میں انتخابی معاملات اور عدالتی فیصلوں سے متعلق بنیادی آئینی اور قانونی حقائق کو نظرانداز کیا گیا۔
عدالتی ریکارڈ کو منتخب حوالوں، ادھورے تناظر اور یک طرفہ تشریحات کے ذریعے مخصوص مقاصد کے لیے پیش کرنا انتہائی غیر مناسب ہے۔ ترجمان کے مطابق جسٹس (ر) منصور علی شاہ کی جانب سے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 2023 کے انتخابات، تحریک انصاف کے انتخابی نشان اور مخصوص نشستوں کے حوالے سے پیش کیا گیا مؤقف سپریم کورٹ کے حتمی فیصلوں اور آئینی و قانونی تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
ترجمان الیکشن کمیشن نے کہا کہ جسٹس (ر) منصور علی شاہ کے مطابق پنجاب اور خیبرپختونخوا کے انتخابات 2023 سے متعلق سپریم کورٹ کا اکثریتی فیصلہ چار اور تین کے تناسب سے تھا اور ان کے مؤقف کے مطابق ازخود نوٹس اور سپریم کورٹ بار کی درخواستیں خارج ہو چکی تھیں، لہٰذا انتخابات کرانے کا حکم اقلیتی فیصلہ تھا اور الیکشن کمیشن اس بنیاد پر انتخابات نہیں کرا سکتا تھا۔
تاہم اس معاملے میں عدالتی کارروائی اور فیصلوں کے مکمل تناظر کو سامنے رکھنا ضروری ہے ، کسی ایک پہلو کو بنیاد بنا کر حتمی قانونی نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں۔ ترجمان نے تحریک انصاف سے انتخابی نشان واپس لینے کے معاملے پر کہا کہ الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعات 208 اور 209 ہر سیاسی جماعت کو شفاف اور جمہوری انداز میں انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کا پابند بناتی ہیں اور انتخابی نشان کا حصول بھی ان قانونی تقاضوں کی تکمیل سے مشروط ہے۔
تحریک انصاف مقررہ مدت کے اندر انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کی پابند تھی، تاہم پارٹی 30 جون 2021 تک یہ انتخابات کرانے میں ناکام رہی، جس پر الیکشن کمیشن نے اسے تین مواقع بھی فراہم کیے۔
ترجمان کے مطابق تحریک انصاف مقررہ قانونی معیار اور اپنے پارٹی آئین کے مطابق انٹرا پارٹی انتخابات کرانے میں ناکام رہی، جس کے نتیجے میں الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 215(5) کے تحت پارٹی انتخابی نشان حاصل کرنے کی اہل نہیں رہی اور اس کا انتخابی نشان واپس لے لیا گیا۔ الیکشن کمیشن کے اس حکم کو سپریم کورٹ نے قانونی تقاضوں کے مطابق قرار دیتے ہوئے برقرار رکھا، جبکہ بعد ازاں تحریک انصاف کی نظرثانی کی درخواست بھی مسترد کر دی گئی۔
ترجمان نے مزید کہا کہ تحریک انصاف نے پانچ سال کا عرصہ گزرنے کے بعد انٹرا پارٹی انتخابات کرائے ، تاہم ان انتخابات سے متعلق کارروائی الیکشن کمیشن میں اس لیے زیر التوا ہے کہ پارٹی نے خود ہائیکورٹ سے حکم امتناع حاصل کر رکھا ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ اس تمام تر صورتحال کے باوجود تحریک انصاف الیکشن کمیشن کے ریکارڈ کے مطابق ایک رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہے اور آج بھی الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر بطور سیاسی جماعت موجود ہے۔
مخصوص نشستوں کے معاملے پر ترجمان الیکشن کمیشن نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 51 کی شقوں (d) اور (e) اور آرٹیکل 106 کو الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 104 کے ساتھ پڑھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مخصوص نشستیں صرف ان سیاسی جماعتوں کا حق ہیں جو بطور جماعت انتخابات میں حصہ لیتی ہیں۔ قانون کے مطابق سیاسی جماعتوں کے لیے انتخابات سے قبل مخصوص نشستوں کے لیے امیدواروں کی ترجیحی فہرست جمع کرانا لازمی ہے ، تاہم تحریک انصاف نے ایسی کوئی ترجیحی فہرست جمع نہیں کرائی تھی۔
ترجمان کے مطابق مخصوص نشستوں کے حصول کے لیے سیاسی جماعت کا کم از کم ایک جنرل نشست جیتنا بھی ضروری ہے ، جبکہ آزاد امیدوار ان مخصوص نشستوں کے حق دار نہیں ہوتے۔
اسی قانونی اور آئینی بنیاد پر الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستیں صرف ان سیاسی جماعتوں کو مختص کیں جو متعلقہ قانونی شرائط پوری کرتی تھیں۔ ترجمان نے کہا کہ اگر جسٹس (ر) منصور علی شاہ کے مؤقف کو تسلیم کیا جائے کہ تحریک انصاف مخصوص نشستوں کی حق دار تھی تو اس سے آئین کے آرٹیکل 51 اور 106 اور الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 104 کی قانونی حیثیت اور ان میں درج شرائط غیر مؤثر ہو جائیں گی، جو آئینی اور قانونی ڈھانچے کے منافی ہے۔
ترجمان الیکشن کمیشن نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک ریٹائرڈ جج کی جانب سے آئین اور قانون کے برخلاف مؤقف پیش کیا جا رہا ہے ، حالانکہ عدالتی فیصلوں اور انتخابی معاملات کو بیان کرتے وقت تمام متعلقہ قانونی دفعات، عدالتی کارروائی اور حتمی فیصلوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ مخصوص نشستوں کے معاملے میں سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے نظرثانی کی درخواست پر فیصلہ کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کے مؤقف اور فیصلے کو برقرار رکھا۔ اس لیے جسٹس (ر) منصور علی شاہ کا انٹرویو سپریم کورٹ کے حتمی عدالتی فیصلوں کے خلاف ہے اور انتخابی معاملات سے متعلق مکمل قانونی صورتحال کی درست عکاسی نہیں کرتا۔


