میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
فضائی آلودگی کا عذاب

فضائی آلودگی کا عذاب

جرات ڈیسک
جمعه, ۶ نومبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

فضائی آلودگی آج پاکستان کے بڑے شہروں کا ایک سنگین ماحولیاتی اور انسانی صحت کا مسئلہ بن چکی ہے ۔ لاہور سے کراچی تک گاڑیوں کا دھواں، صنعتی اخراج، تعمیراتی سرگرمیوں سے اٹھنے والی گردوغبار اور کچرا جلانے کا عمل شہری زندگی کو متاثر کر رہا ہے ۔ موسم سرما میں پنجاب میں اسموگ کی شدت بڑھ جاتی ہے ، جبکہ کراچی جیسے ساحلی اور گنجان آباد شہر میں بھی فضائی آلودگی صحت کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے ۔ اس مسئلے کی بنیادی وجوہات میں انسانی سرگرمیاں، ناقص شہری منصوبہ بندی، ٹرانسپورٹ کا غیر منظم نظام اور ماحولیاتی قوانین پر عمل درآمد کی کمزوری شامل ہیں۔

3 نومبر 2026ء کو بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا کے بعض علاقوں میں فضائی آلودگی میں نمایاں اضافہ ہوا اور لاہور دنیا کا سب سے آلودہ شہر قرار پایا۔ سوئٹزرلینڈ میں قائم آئی کیو ایئر (IQAir) فضائی آلودگی کی نگرانی، ہوا کے معیار کی پیمائش اور فضائی آلودگی سے متعلق معلومات فراہم کرنے والی ایک معروف کمپنی ہے ۔ یہ ادارہ جدید نگرانی کے نظام کے ذریعے دنیا کے مختلف شہروں میں ہوا کے معیار کا جائزہ لیتا ہے اور فضائی معیار کا اشاریہ (AQI) جاری کرتا ہے ، جس سے آلودگی کی شدت اور انسانی صحت کو لاحق ممکنہ خطرات کا اندازہ لگایا جاتا ہے ۔ آئی کیو ایئر دنیا بھر کے شہروں کی فضائی آلودگی سے متعلق معلومات اور تقابلی جائزے بھی پیش کرتا ہے ۔ اس کی جاری کردہ رپورٹیں ماحولیاتی ماہرین، محققین اور عوام کو فضائی آلودگی کی صورتِ حال سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔

سوئٹزرلینڈ کے ادارے آئی کیو ایئر کے مطابق منگل کی صبح لاہور کا فضائی معیار کا اشاریہ 447 ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق فضا میں موجود انتہائی باریک آلودہ ذرات، جنہیں پی ایم 2.5 کہا جاتا ہے ، کی مقدار عالمی ادارۂ صحت کی سالانہ رہنما حد سے 60 گنا زیادہ تھی۔ درجہ حرارت میں کمی اور ہواؤں کی رفتار کم ہونے سے آلودگی فضا میں جمع ہوتی رہی۔ گاڑیوں کا دھواں، تعمیراتی سرگرمیاں اور فصلوں کی باقیات جلانا بھی آلودگی میں اضافے کا سبب بنے ۔ رپورٹ میں اینٹوں کے بھٹوں کے خلاف کارروائی اور فصلوں کی باقیات جلانے سے روکنے کی حکومتی کوششوں کا بھی ذکر کیا گیا۔

عالمی ادارۂ صحت اور امریکی ماحولیاتی تحفظ کے ادارے کے مطابق پی ایم 2.5 سے مراد ایسے انتہائی باریک فضائی آلودہ ذرات ہیں جن کا قطر 2.5 مائیکرومیٹر یا اس سے کم ہوتا ہے ۔ یہ انسانی بال کی موٹائی سے تقریباً 30 گنا زیادہ باریک ہوتے ہیں اور گاڑیوں کے دھوئیں، صنعتی اخراج اور ایندھن جلانے سے فضا میں شامل ہوتے ہیں۔ اپنی انتہائی کم جسامت کے باعث یہ ذرات سانس کے ذریعے پھیپھڑوں کی گہرائی میں موجود ہوائی تھیلیوں (Alveoli) تک پہنچ سکتے ہیں اور بعض صورتوں میں خون میں بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ ان ذرات سے مسلسل واسطہ رہنے کے نتیجے میں سانس اور دل کی بیماریوں سمیت صحت کے سنگین مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔ان کے مسلسل اثرات سے سانس اور دل کی بیماریوں سمیت دیگر طبی مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔ بچوں، بزرگوں، حاملہ خواتین اور پہلے سے بیمار افراد کو خصوصی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اسموگ کے دوران آنکھوں میں جلن، کھانسی، گلے کی خراش اور سانس لینے میں دشواری جیسی شکایات سامنے آتی ہیں۔ اس لیے فضائی آلودگی کو محض موسمی دھند سمجھنا درست نہیں، بلکہ اسے صحت عامہ کے سنگین مسئلے کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔

کراچی میں آلودگی کی وجوہات کچھ مختلف ہیں، لیکن خطرات اپنی جگہ موجود ہیں۔ پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور اہم صنعتی و تجارتی مرکز ہونے کے باعث یہاں آبادی میں اضافہ، ٹریفک کا دباؤ، پرانی گاڑیوں کا دھواں، صنعتی یونٹ، تعمیراتی منصوبے ، سڑکوں کی گردوغبار اور کھلے مقامات پر کچرا جلانا فضائی آلودگی میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ سمندر کے قریب واقع ہونے کے باوجود کراچی فضائی آلودگی سے محفوظ نہیں، کیونکہ ساحلی محل وقوع آلودگی کے خاتمے کی ضمانت نہیں دیتا۔ شہر میں بڑھتی ہوئی آبادی اور ٹریفک کے دباؤ کے ساتھ صنعتی سرگرمیوں کو بھی مؤثر نگرانی اور ماحولیاتی ضابطوں کا پابند بنانا ضروری ہے ۔

سندھ اسمبلی میں 10 فروری 2026ء کو محکمہ ماحولیات سے متعلق ایک تحریری جواب میں کراچی کی فضائی آلودگی کے اہم اسباب بیان کیے گئے ۔ جواب کے مطابق صنعتی سرگرمیاں، گاڑیوں کا دھواں، ٹریفک کا دباؤ، تعمیراتی منصوبے ، کچرا جلانا اور غیر مؤثر ایندھن کا استعمال آلودگی بڑھانے والے عوامل ہیں۔ ڈیزل گاڑیوں، صنعتی اداروں اور بجلی پیدا کرنے والے یونٹوں سے خارج ہونے والی آلودہ گیسیں اور ذرات بھی فضائی معیار کو متاثر کرتے ہیں۔ جواب میں بتایا گیا کہ سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی نے کراچی میں 2020ء، 2021ء اور 2022-2023ء کے دوران فضائی آلودگی کی نگرانی اور جائزے کے اقدامات کیے تھے ۔

سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کے 6 مئی 2026ء کے اعلامیے میں فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے منعقدہ مشاورتی اجلاس کی تفصیلات بھی سامنے آئیں۔ اجلاس میں سندھ کے سیکریٹری ماحولیات نے بتایا کہ صوبے میں فضائی آلودگی کا تقریباً 30 فیصد حصہ ٹرانسپورٹ کے شعبے سے منسلک ہے ۔ صنعتی اخراج، گاڑیوں کے دھوئیں، کچرا جلانے اور گردوغبار پر قابو پانے کے لیے جدید نگرانی کے نظام کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (SEPA) کے 6 مئی 2026ء کے سرکاری اعلامیے کے مطابق، کراچی میں 5 مئی کو فضائی آلودگی کی صورتِ حال اور اس پر قابو پانے کے اقدامات کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں سرکاری حکام، ماحولیاتی ماہرین، جامعات کے نمائندوں اور سول سوسائٹی نے شرکت کی۔ اجلاس میں سندھ کے سیکریٹری ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی و ساحلی ترقی زبیر احمد چنہ نے بتایا کہ صوبے میں فضائی آلودگی کا تقریباً 30 فیصد حصہ ٹرانسپورٹ کے شعبے سے منسلک ہے ، جس میں موٹر سائیکلیں اور بلدیاتی سرگرمیاں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے صنعتی اخراج، گاڑیوں کے دھوئیں اور کچرے کے غیر مؤثر انتظام کو بھی آلودگی کے اہم اسباب قرار دیتے ہوئے اخراج کی شعبہ وار پیمائش اور جدید فضائی نگرانی کے نظام کی ضرورت پر زور دیا۔ اجلاس میں صنعتی اداروں کے ماحولیاتی قوانین پر عمل درآمد بہتر بنانے ، پائیدار ٹرانسپورٹ کو فروغ دینے اور فضائی آلودگی سے متعلق مستند معلومات عوام تک پہنچانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ کراچی میں آلودگی کے خاتمے کے لیے وقتی کارروائیوں کے بجائے مستقل اور نتیجہ خیز اقدامات ضروری ہیں۔

سندھ اسمبلی میں محکمہ ماحولیات کے جواب کے مطابق شہر میں استعمال شدہ سیسے والی بیٹریوں کی غیر قانونی ری سائیکلنگ کرنے والے 218 یونٹوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان کی سرگرمیاں بند کرائی گئیں اور انہیں مسمار کیا گیا۔ غیر قانونی کوئلے کے ذخیرہ کرنے کے مقامات ختم کرنے اور کوئلے کو قانونی ذخیرہ گاہوں تک منتقل کرنے کے اقدامات بھی کیے گئے ۔ کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں اور سیمنٹ فیکٹریوں کو آلودگی کم کرنے والے آلات نصب کرنے کی ہدایات دی گئیں۔ تاہم ان اقدامات کی افادیت اسی وقت سامنے آئے گی جب ان پر مسلسل عمل درآمد ہو اور خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے ۔

پاکستان میں فضائی آلودگی کی ایک بڑی وجہ ٹرانسپورٹ کا غیر منظم نظام بھی ہے ۔ بڑے شہروں میں گاڑیوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے ، لیکن اس کے مقابلے میں پبلک ٹرانسپورٹ اور گاڑیوں کے دھوئیں کی جانچ کا نظام مطلوبہ سطح پر نہیں۔ پرانی بسیں، ٹرک اور رکشے فضا میں آلودہ گیسیں اور باریک ذرات خارج کرتے ہیں۔ گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹ کے اجرا کو محض رسمی کارروائی بنانے کے بجائے جدید آلات سے دھوئیں کی جانچ یقینی بنائی جائے ۔ ماحول کو آلودہ کرنے والی گاڑیوں کی اصلاح، مرمت اور ضرورت پڑنے پر ان کے استعمال پر پابندی کے لیے مؤثر نظام ہونا چاہیے ۔ اس کے ساتھ شہریوں کو بہتر اور قابل اعتماد پبلک ٹرانسپورٹ فراہم کرنا بھی ضروری ہے تاکہ نجی گاڑیوں پر انحصار کم ہو سکے ۔

صنعتی اداروں کو دھوئیں اور زہریلی گیسوں کے اخراج میں کمی کے لیے جدید آلات نصب کرنے کا پابند بنایا جائے ۔ صنعتی علاقوں میں فضائی معیار کی مسلسل نگرانی ہو اور خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانے عائد کیے جائیں۔ تعمیراتی منصوبوں میں گردوغبار روکنے کے لیے پانی کا چھڑکاؤ، تعمیراتی سامان کو ڈھانپنے اور ملبہ مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے کے انتظامات بھی کیے جائیں۔ کھلے مقامات پر کچرا جلانے کی روک تھام کے لیے بلدیاتی اداروں کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ کچرے کو جمع کرنے ، منتقل کرنے اور محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے کا مؤثر انتظام شہری آلودگی میں کمی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے ۔

فضائی آلودگی کا مسئلہ صرف لاہور اور کراچی تک محدود نہیں بلکہ فیصل آباد، ملتان، گوجرانوالہ، حیدرآباد اور دیگر بڑے شہروں میں بھی ماحولیاتی نگرانی ضروری ہے ۔ صوبائی حکومتیں فضائی آلودگی میں کمی کے واضح اہداف مقرر کریں اور جدید نگرانی کے مراکز قائم کریں تاکہ شہریوں کو روزانہ فضائی معیار کی مستند معلومات فراہم ہوں۔ آلودگی کی خطرناک سطح پر پہنچنے کی صورت میں بروقت حفاظتی ہدایات جاری کی جائیں اور متعلقہ اداروں کو فوری اقدامات کا پابند بنایا جائے ۔ فضائی معیار کے اعدادوشمار عوام کے سامنے رکھنے سے نہ صرف شہریوں میں آگاہی پیدا ہوگی بلکہ حکومتی اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لینا بھی ممکن ہوگا۔

شہری ماحول کی بہتری کے لیے شجرکاری اور درختوں کا تحفظ بھی اہم ہے ۔ حکومتیں سڑکوں، پارکوں، تعلیمی اداروں اور سرکاری زمینوں پر مقامی ماحول سے مطابقت رکھنے والے درخت لگائیں اور ان کی حفاظت یقینی بنائیں۔ محض شجرکاری مہم شروع کرنا کافی نہیں، بلکہ لگائے گئے پودوں کی نگہداشت اور ان کی بقا کا انتظام بھی ضروری ہے ۔ شہریوں کو غیر ضروری گاڑیوں کا استعمال کم کرنے ، کچرا نہ جلانے ، صفائی برقرار رکھنے اور شجرکاری میں حصہ لینے کی ترغیب دی جائے ۔ تعلیمی اداروں اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے ماحولیاتی تحفظ سے متعلق آگاہی پیدا کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے ۔

لاہور کی خطرناک فضائی صورت حال اور کراچی کے ماحولیاتی مسائل وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے لیے واضح تنبیہ ہیں۔ رائٹرز کی 3 ؍نومبر 2026ء کی رپورٹ لاہور میں آلودگی کی شدت ظاہر کرتی ہے ، جبکہ سندھ اسمبلی اور محکمہ ماحولیات کا ریکارڈ کراچی اور سندھ میں اس مسئلے کی وجوہات اور انتظامی چیلنجز کی نشاندہی کرتا ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ماحولیاتی تحفظ کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں، متعلقہ محکموں کے درمیان رابطہ بہتر بنائیں اور قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں۔ فضائی آلودگی کے خلاف جنگ کسی ایک حکومت یا محکمے کی ذمہ داری نہیں بلکہ قومی سطح پر مشترکہ جدوجہد کا تقاضا کرتی ہے ۔ صنعتی اداروں، ٹرانسپورٹ کے شعبے ، شہری انتظامیہ اور
عوام سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ صاف ہوا ہر شہری کا بنیادی حق ہے ۔ لاہور اور کراچی سمیت پاکستان کے تمام بڑے شہروں کو صحت مند ماحول فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے ، کیونکہ صاف فضا محض سہولت نہیں بلکہ انسانی زندگی، صحت اور آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے ۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں